امریکی دباو مسترد، ترکی روس سے میزائل سسٹم خریدے گا

ترکی کے وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ترکی روس اور امریکہ کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہیں کرسکتا ہے۔ ہم موسکو سے ایس 400 اور امریکہ سے ایف 35 طیارے خریدنا چاہتے ہیں

0 426

ترکی ایف 35 طیاروں کی سپلائے پر امریکی پابندی کے باوجود روس سے ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری کا معاہدہ ختم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان خیالات کا اظہار ترک وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایس 400 کا معاہدہ طے پاچکا ہے اور اب اس سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ بدھ کے روز امریکی دارالحکومت واشنٹن میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کررہے تھے۔

چاوش اولو نے مزید کہا کہ ترکی امریکہ کی جانب سے پیٹرایاٹ میزائل کی فروخت سے انکار پر روس کی طرف گیا تھا۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹریمپ کے ایک فون کال کا بھی حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انقرہ کو میزائل سسٹم فروخت نہ کرکے سابق صدر ابامہ نے غلطی کی تھی۔

ترک وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ایس 400 کا معاہدہ کسی بھی ملک کے لئے خطرے کی علامت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روس اور اپنے اتحادیوں میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرسکتے اور نہ ہم روس کے ساتھ تعلقات کو کسی اور ملک کے ساتھ اپنے روابط کا متبادل سمجھتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ روس یا مغرب دونوں کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ ہم ان میں کسی ایک کو چنیں۔

یاد رہے کہ امریکہ نے انقرہ اور موسکو کے درمیان ایس 400 میزائل سسٹم کی خریداری کے معاہدے کہ وجہ سے ترکی کے لئے تیار کی گئی ایف 35 طیاروں کی اگلی کھیپ روک دی ہے۔ دوسری طرف ان جنگی جہازوں کی تیاری کے مشترکہ منصوبے پر بھی کام بند کردیا گیا ہے۔ امریکی ماہرین اس معاہدے پر اپنے شک و شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔ انکا خیال ہے کہ روس اس معاہدے کی مدد سے امریکی ساختہ ایف 35 طیاروں تک رسائی حاصل کرے گا اور خطرہ ہے کہ وہ کہیں ان حساس معلومات تک نہ پہنچ جائے، جو مذکورہ میزائل سے امریکی طیاروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں استعمال ہو۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس نے بدھ کے روز ترکی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ اپنے دیرینہ ساتھیوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے یا اسکا مقصد روس سے مزائل سسٹم خریدنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ نیٹو کیلئے ایک رسک ہے۔ اس بیان پر ترکی کے نائب صدر فواد اوکتائے نے سخت ردعمل دیتے ہوئے، استفسار کیا تھا کہ امریکہ بتائے کہ آیا وہ ترکی کیساتھ اپنے اتحاد کو برقرار رکھنا چاہتا ہے یا پھر اسے دہشت گردوں کے ہاتھ مظبوط کرکے نیٹو کے دفاع کو نقصان پہنچانے میں دلچسپی ہے۔

تبصرے
Loading...