فرات کے مشرق میں بننے والا سیف زون ترکی کے کنٹرول میں ہونا چاہیے، صدارتی ترجمان

0 713

صدارتی ترجمان ابراہیم قالِن نے کہا ہے کہ ہماری توقع، مطالبہ اور ترجیح یہی ہے کہ دریائے فرات کے مشرق میں بننے والا سیف زون ترکی کے کنٹرول میں ہو۔ یہ علاقہ کسی بھی دہشت گرد تنظیم کی جائے پناہ نہیں بننا چاہیے، چاہے وہ PYD ہو یا YPG اور داعش بلکہ سرکاری عناصر، جنہیں سکون کا سانس لینے کی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔ وہ صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایوانِ صدر میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

ابراہیم قالن نے کہا کہ ہم اِن مسائل کو سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں جو ہماری داخلی و خارجی سلامتی اور علاقائی نوعیت کے ہیں اور ساتھ ہی شام کے حوالے سے جاری کوششوں کے بارے میں بھی سنجیدہ ہیں۔ شام کی جنگ کے خاتمے کے لیے ہم شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کے اندر رہتے ہوئے آئینی کمیٹی کی تشکیل اور سیاسی تبدیلی کے عمل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں تاکہ انتخابات کے ذریعے اسے عملی جامہ پہنایا جائے۔ یہ مسئلہ جنابِ صدر کے دورۂ ماسکو میں بھی روسی ہم منصب کے سامنے رکھا گیا تھا۔ اب ہماری توقعات ہیں کہ آئینی کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی جائے اور جن ناموں پر اختلاف پر ان کی تلاش کا کام مکمل کرکے اقوام متحدہ کے تحت اپنا کام شروع کرے۔ اس سلسلے میں استانہ عمل پر کامیابی سے کام جاری ہے۔

"ہمارے لیے ایک اور ترجیح ادلب کی موجودہ حالت کو برقرار رکھنا ہے۔ ہمارا بنیادی ہدف معاہدۂ ادلب کرنا ہوگا، جس پر ہم گزشتہ سال جنابِ صدر کی ذاتی کوششوں اور منصوبے کے نتیجے میں پہنچے تھے۔ ہمیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ میدانِ عمل میں ہونے والی پیشرفت اور معاملات اتنے آسان نہیں اور یہ کہ یہ بہت گنجان اور مصروف خطہ ہے اور مختلف حرکیات رکھتا ہے۔ پھر بھی موجودہ حالات کو برقرار رکھنے کی بدولت عظیم انسانی المیہ جنم لینے اور ہجرت کی لہر پیدا ہونے سے اب تک روکے رکھا ہے، جسے بین الاقوامی نے بھی سراہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا۔

"اسی طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ افرین-جرابلوس علاقے پر امن و استحکام کا ماحول برقرار ہے۔ درحقیقت یہ ایک اہم کامیابی ہے کہ ترکی نے ثابت کیاکہ شام میں ایک حقیقی محفوظ علاقہ کیسا ہو سکتا ہے۔ ماضی میں جب سیف زون اور بفر زون جیسے معاملات اٹھائے گئے تھے تو ذہنوں میں کئی سوالات اور شبہات تھے کہ یہ عملاً ممکن نہیں، نفاذ مشکل ہوگا، کون اور کیسے کنٹرول کرے گا اور ان علاقوں میں کون ہوگا؟ لیکن اب اس خطے کی طرف دیکھتے ہیں تو آج ترک-شام سرحد کے ساتھ ادلب اور افرین سے جرابلوس بلکہ منبج تک ایک عملی سیف زون تشکیل پا چکا ہے۔ یہاں نہ PKK ہے، نہ ہی داعش کے دہشت گرد یا حکومت کے عناصر۔ مقامی آبادی یہاں خود انتظامات چلا رہی ہے، اپنی معیشت کو خود رُخ دے رہی ہے اپنی داخلی حرکیات کے مطابق اپنے طریقوں سے اور ترکی کی مدد اور آزاد شامی فوج اور دیگر شامی عناصر کے ساتھ علاقے کو کنٹرول کر رہی ہے کہ جنہیں ہماری اور بین الاقوامی برادری کی مدد حاصل ہے۔ یہ بذات خود ایک بڑی کامیابی ہے۔” صدارتی ترجمان نے کہا۔

"جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ترکی سے اِن علاقوں کو واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔شام کی جنگ جو تقریباً آٹھ سال جاری رہی، ان میں کوئی دوسرا خطہ نہیں تھا کہ جہاں سے اتنے بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی کو یقینی بنایا گیا ہو۔ یہ ترکی کی پالیسی اور میدان میں عملی کارگزاری کی کامیابی کو ظاہر کرنے کے لیے کافی ہے۔” انہوں نے کہا کہ "منبج اور فرات کے مشرق کے بارے میں امریکا کے ساتھ ہمارے مذاکرات جاری ہیں۔ مجھے دورۂ واشنگٹن میں ان معاملات پر جامع انداز میں بات کرنے کا موقع ملا کہ جہاں وزیر دفاع میرے ساتھ تھے۔ اسی طرح وزیر خزانہ و مالیات نے بھی جناب ٹرمپ سے ملاقات میں اقتصادی معاملات کے ساتھ ساتھ ان معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی۔”

"ہماری توقع ہے کہ منبج روڈمیپ فوری طور پر نافذ کیا جائے اور کسی دہشت گرد گروپ کو فرات کے مشرق میں رہنے نہ دیا جائے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ترک و امریکی سپاہیوں کا منبج میں مشترکہ گشت جاری ہے اور گشت کی نئی سرگرمیوں کے لیے مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ ہمارے متعلقہ عسکری و انٹیلی جینس یونٹس اِن کاموں کو انجام دے رہے ہیں۔ اِس وقت سیف زون کا مسئلہ بلاشبہ ایک ترجیحی مسئلہ ہے۔ 20 میل، تقریباً 32 کلومیٹر کا سیف زون، جس کا واضح اعلان جناب ٹرمپ نے کیا تھا، بدستور ہمارا ایجنڈا ہے۔ ہماری توقع، مطالبہ اور ترجیح یہ ہے کہ سیف زون ترکی کے کنٹرول میں رہے اور کسی بھی دہشت گرد تنظیم کا گڑھ نہ بن جائے جیساکہ PYD، YPG اور داعش کا یا حکومت کے اُن عناصر کا بلکہ کوئی بھی ایسا علاقہ جہاں وہ سکون کا سانس لے سکیں۔ اس لحاظ سے ہماری کوششیں بھرپور انداز میں جاری ہیں۔”

صدارتی ترجمان نے کہا کہ "استانہ عمل اور جنیوا عمل دونوں پر ہماری کوششیں شام کی سالمیت کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے جاری رہیں گی۔ غالباً ترکی واحد ملک ہے جو بیک وقت دونوں پر کام کر رہا ہے۔ اسی لیے استانہ میں روس اور ایران اور جنیوا میں بین الاقوامی برادری کے دیگر اراکین کے ساتھ ان پر پوری تندہی سے کام جاری رکھیں گے۔ ترکی کو درپیش ہر خطرے کے خلاف تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے، چاہے وہ عراق، شام یا دنیا کے کسی بھی خطرے سے ابھرتا ہو۔”

تبصرے
Loading...