سعودی عرب بے بنیاد دعووں کے ذریعے ترک اور سعودی عوام کے درمیان خلیج بڑھانے کے لیے کوشاں

0 348

موسمِ گرما کے آغاز پر سیاحت کا موسم شروع ہوتے ہی سعودی عرب اپنے شہریوں کی ترکی میں بڑھتی دلچسپی پر پریشان دکھائی دے رہا ہے، جس کا ہدف سعودی شہریوں کے ترکی جانے کی حوصلہ شکنی کے لیے بے بنیاد دعووں کے ذریعے دونوں معاشروں کے درمیان دوستی کو تباہ کرنا ہے۔

مشہور حکومت حامی اخبار روزنامہ الریاض کی جانب سے شیئر کی گئی ایک وڈیو میں کہا گیا "ترکی کے کئی متبادل ہیں جو سستے بھی ہیں۔”

اخبار کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر کی گئی یہ وڈیو بغیر کوئی ثبوت پیش کیے ترکی کو ہدف بناتے ہوئے کئی الزامات عائد کرتی ہے۔ ترکی میں تعطیلات گزارنے کے سعودی شہریوں کے ارادوں کو خراب کرنے کی نیت کے ساتھ یہ وڈیو دعویٰ کرتی ہے کہ ملک سعودی شہریوں کے لیے محفوظ نہیں، "نہ ہی سیاحت کے لیے اور نہ ہی سرمایہ کاری کے لیے۔”

وڈیو کے جواب میں سینکڑوں عربی بولنے والے ٹوئٹر صارفین نے ترکی میں گزاری گئی اپنی تعطیلات کی وڈیوز لگائی ہیں تاکہ عیاں ہو جائے کہ سعودیوں کا ملک میں اچھی طرح استقبال کیا جاتا ہے۔ ابتدائی وڈیو، جو ہفتے کو اپلوڈ کی گئی تھی، روزنامے کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے گزشتہ روز ڈیلیٹ کردی گئی۔

روزنامے کی جانب سے محض یہ وڈیو ہی شیئر نہیں کی گئی، ایک اور وڈیو دعویٰ کرتی ہے کہ دیگر ممالک جیسا کہ متحدہ عرب امارات، ایران اور قطر سے ترکی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی آئی ہے اور سوال کرتی ہے کہ "جب ترکی نفرت اور غلط رویہ اختیار کرتا ہے، تو وہاں کیوں جائیں؟” ان وڈیوز کے ساتھ "بائیکاٹ ترکش ٹؤرازم” اور عربی زبان میں "ترکی میں موسمِ گرما زیادہ خطرناک ہے” کے ہیش ٹیگ استعمال کیے گئے۔

یہ دعوے نہ صرف اشتعال انگیز ہیں لیکن جھوٹ پر مبنی بھی ہیں، جبکہ حقیقت ترک وزارت ثقافت و سیاحت کے اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں۔

خلیجی ممالک سے ترکی کی سیاحت کا بڑھتا ہوا رحجان

وزارت کے اعداد و شمار برائے 2018ء کے مطابق 2003ء میں متحدہ عرب امارات سے آنے والے سیاحوں کی تعداد محض 6717 تھی جو جم بہت کے جبکہ 2018ء میں یہ 43292 تک پہنچی۔ 2019ء کے پہلے دو مہینوں میں ہی متحدہ عرب امارات سے 1400 سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا جو گزشتہ سال کے اعداد و شمار سے 1.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ کامیاب آغاز ظاہر کرتا ہے کہ 2019ء میں متحدہ عرب امارات سے سیاحوں کا بہاؤ 2018ء سے بھی زیادہ ہوگا۔ جب معاملہ ایران کا آتا ہے تو ان کے سیاحوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے کہ 2018ء میں ملک سے ترکی آنے والے سیاحوں کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

درحقیقت، 2019ء کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار کے مطابق ترکی کا دورہ کرنے والے سیاحوں میں ایرانیوں کا نمبر بلغاریہ کے بعد دوسرا ہے۔ دوسری جانب قطر میں بھی متحدہ عرب امارات جیسا رحجان ہے کہ جہاں سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں 2003ء اور 2019ء کے درمیان ڈرامائی اضافہ ہوا جو 1210 سے 96327 تک پہنچی۔ ان اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ الریاض کی وڈیو کے دعووں کے برعکس ترکی کی سیاحت میں مجموعی طور پر اضافے کا رحجان ہےکہ جہاں چند سالوں کی معمولی کمی کے برعکس عرب امارات، ایران اور قطر کے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوا ہے۔

سعودی عرب بھی مندرجہ بالا تین ممالک سے مختلف نہیں کہ جس کے سیاحوں کی تعداد 2003ء میں 23676 سے بڑھتے ہوئے 2018ء میں 747233 تک پہنچی، جو بلاشبہ ڈرامائی اضافہ ہے۔2019ء کے ابتدائی دو مہینوں میں ہی کل 20200 سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں بہت معمولی کمی ہے۔ پھر بھی یہ کمی ترکی میں سیاحت کے مجموعی رحجان کے برعکس ہے کہ جہاں ان دو مہینوں میں مجموعی سیاحت 2018ء کے مقابلے میں 9.38 فیصد بڑھی۔

وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق 2019ء کی پہلی سہ ماہی میں 68 لاکھ سیاحوں نے ترکی کا دورہ کیا، جن میں سے 5.4 فیصد غیر ملکی تھے۔ 2018ء کے اعداد و شمار کے مطابق سیاحوں کی تعداد کے لحاظ سے ترکی دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے کہ جس سال ملک نے تقریباً 46 ملین سیاحوں کی میزبانی کی۔ درحقیقت سیاحوں، بالخصوص خلیجی ممالک سے آنے والوں، کی تعداد تقریباً دو دہائیوں سے بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ خطے میں ۃرک ٹیلی وژن سیریز کی کامیابی اور ملک میں زبردست سیاحتی سہولیات کی موجودگی ہے۔ ترک ٹیلی وژن سیریز کی عرب دنیا میں مقبولیت کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ عرب شہری ترک ثقافت اور زبان میں دلچسپی لینا شروع ہوگئے ہیں اور ترکی بالخصوص استنبول کا بنفس نفیس دورہ کرنا چاہتے ہیں۔

البتہ استنبول کے علاوہ انطالیہ جیسے جنوبی ریزورٹس اور بحیرۂ اسود کے ساتھ واقع طرابزون اور آرتوین کے ٹھنڈے، تازہ دم اور سبز پہاڑی علاقے رکھنے والے صوبے بنیادی ہدف ہیں اور عرب سیاحوں کے لیے اہم مقامات بن چکے ہیں۔ ترکی حلال سیاحت میں کامیابی کے لیے بھی مقبول ہے۔ ملک کئی الکحل سے پاک ریستوران، صرف خواتین کے لیے مخصوص ساحل اور سوئمنگ پولز اور ملک بھر میں نماز کے لیے مقامات رکھتا ہے۔

سعودی عرب بھونڈے الزامات کے ذریعے اپنے شہریوں کو خوفزدہ کرنا چاہتا ہے

سعودی باشندوں کو ڈرانے کے لیے اس وڈیو میں سب سے بڑا اور سب سے مضحکہ خیز الزام ہے کہ ترکی میں انہیں "بہت سستی قیمت” پر داعش دہشت گرد گروپ کو فروخت کردیا جائے گا۔

دہشت گردی، بالخصوص داعش، کے خلاف ترکی کی جنگ کو دیکھتے ہوئے یہ دعویٰ انتہائی نامعقول ہے، کیونکہ اعداد و شمار کچھ اور کہتے ہیں۔ ترک افواج ترکی کو داعش کے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے عرصے سے برسرِ پیکار ہیں۔ داعش پر ترکی میں کئی دہشت گرد حملوں کا الزام ہے کہ جن میں پچھلے تین سالوں میں استنبول اور انقرہ سمیت جنوب مشرقی شہروں میں بھی درجنوں افراد مارے گئے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق داعش کے خلاف ترکی میں آپریشنز میں تقریباً 2000 افراد گرفتار کیے گئے اور 7000 کو ملک بدر کیا گیا؛ جبکہ تقریباً 70 ہزار افراد کو دہشت گرد گروپ سے مشتبہ تعلقات کی وجہ سے ملک میں داخل ہونے سے روکا گیا۔

یہ تمام اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ وڈیوز، جو ترک مخالف لہر پیدا کرنے کی سعودی میڈیا کی پہلی کوشش نہیں ہیں، حقائق پر مبنی نہیں بلکہ ترکی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے سیاسی شوشے ہیں جو ملک کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر سعودی باشندوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ترکی کے حوالے سے سعودی عرب کے جارحانہ رویّے کی وجوہات میں سے ایک گزشتہ سال حکومت مخالف سعودی صحافی جمال خاشقجی کا استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل ہے۔

ابتدائی طور پر اس قتل پر سعودی مملکت نے کوئی ذمہ داری لینے سے انکار کیا اور ترکی پر الزام لگایا کہ وہ شہریوں کے لیے محفوظ نہیں، لیکن انقرہ نے معاملے کی پیروی کرتے ہوئے اس پر ایک مضبوط موقف اپنایا اور بالآخر سعودی عرب یہ کہنے پر مجبور ہوا کہ یہ جرم خود سعودیوں نے کیا تھا۔ اس انکشاف نے سعودی عرب، بالخصوص شہزادہ محمد بن سلمان کے خلاف بین الاقوامی ردعمل پیدا کیا کہ جنہیں CIA نے قتل کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔

یوں، ان وڈیوز نے ثابت کیا کہ سعودی مملکت بجائے اس واقعے سے سبق سیکھنے کے ترکی کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

تبصرے
Loading...