سعودی عرب نے ترکی کے سرکاری ابلاغی اداروں پر پابندی لگا دی

0 357

سعودی عرب میں حکام نے ترکی کے خبر رساں ادارے انادولو ایجنسی اور سرکاری براڈکاسٹر TRT کے عربی ایڈیشن کی ویب سائٹس پر پابندی لگا دی ہے۔

یہ پابندی سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے حالیہ فیصلوں میں سے ایک ہے جو انسانی حقوق اور آزادئ اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے۔

مملکت سعودی عرب نے کچھ عرصے سے ترک میڈیا بالخصوص انادولو ایجنسی کے خلاف ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔

سوشل میڈیا پر متحرک افراد کا کہنا ہے کہ یہ تازہ ترین اقدامات میڈیا اور اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف ورزیاں ہیں کہ جو ولی عہد محمد بن سلمان کے دور میں کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی ہیں۔

بین الاقوامی پریس ایسوسی ایشنز نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ صحافیوں اور ابلاغی اداروں کے خلاف اقدامات سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال نہیں ہونے چاہئيں۔

میڈیا اور صحافیوں کے خلاف سعودی عرب کے جرائم بہت سنجیدہ نوعیت کے ہیں کہ جن میں سب سے بھیانک جرم جمال خاشقجی کا قتل ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار خاشقجی کو 2 اکتوبر 2018ء کو سعودی جاسوسوں نے اس وقت قتل کیا جب وہ استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں داخل ہوئے تھے۔

ریاض نے ان کے اچانک غائب ہو جانے کے بارے میں مختلف آراء قائم کیں اور بالآخر تسلیم کیا کہ انہیں قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔ خاشقجی کی لاش آج تک نہيں ملی۔

تبصرے
Loading...