مہمان نوازی کی خوشبو ‘کولون’، اب کرونا وائرس سے بچانے لگی

0 355

کرونا وائرس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام ملکوں کی طرح ترکی کو بھی صحتِ عامہ کے شعبے میں ٹھوس اقدامات اور مدبرانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس دور میں ایک صدیوں پرانی روایت حیران کُن طور پر نمایاں نظر آ رہی ہے۔ حالیہ چند ہفتوں میں ترکی میں روایتی خوشبو کولون کی مقبولیت میں بہت اضافہ ہوا ہے جو مہمان نوازی کی ایک سدا بہار علامت سمجھی جاتی ہے اور اب اسے جراثیم سے بچنے میں مدد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

ایتھانول سے بنی کولون (کولونیا) گھر آمد پر مہمانوں کو پیش کی جاتی ہے لیکن اب اندازہ ہوا ہے کہ یہ نہ صرف مہمانوں کے خیر مقدم کا ایک عمدہ طریقہ ہے، بلکہ جراثیم کے خاتمے میں بھی کارآمد ہے۔

کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں یہ روایت ترکی کے اہم ہتھیاروں میں سے ایک ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ترکی اب تک دیگر ممالک کے مقابلے میں اس وائرس کا نسبتاً کم شکار ہوا ہے۔ آئندہ مہینوں میں لوگوں کو اس وائرس سے بچانےمیں بھی کولون مدد دے سکتاہے۔

ترکی میں اب تک کرونا وائرس کے 20 سے بھی کم مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے بیشتر حال ہی میں بیرونِ ملک سے آئے ہیں جن میں یورپ، امریکا اور سعودی عرب شامل ہیں۔

ترک روایات میں کولون کو مختلف مواقع پر خوشبو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جیساکہ بال کٹوانے کے بعد، بس میں سفر کے دوران، کسی سفر کے بعد، مہمانوں کی آمد پر یا کسی دوست کی عیادت کرتے ہوئے کولون کا استعمال ایک اہم روایت ہے۔

ترکی میں کرونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آنے کے بعد عوام کی بڑی تعداد کولون خریدتے نظر آئی۔ ترکی میں کولون بنانے والے سب سے بڑے ادارے ‘ایوب صابری تونجر’ کے مالک انجین تونجر نے بتایا کہ لیموں کے کولون کی طلب میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے۔

دارالحکومت انقرہ میں کولن کی برانڈڈ ریٹیل شاپ کے باہر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہے جن میں موجود لوگ کولون خریدنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ تو اپنے ساتھ 20 لیٹر کی خالی بوتل تک لائے ہیں تاکہ اس میں کولون بھروا لیں، لیکن انجین کا کہنا ہے کہ وہ ایک آدمی کو ڈیڑھ لیٹر سے زیادہ فروخت نہیں کر رہے۔ درحقیقت یہ مقدار بھی عام استعمال پر دو مہینوں کے لیے کافی ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھلے ہوئے ہاتھوں پر 3 سے ساڑھے 3 ملی لیٹر کولون کا استعمال ہی کافی ہوتا ہے۔ اس لیے عوام کو اتنا ذخیرہ جمع کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے ایندھن میں ایتھانول کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ ایسی جراثیم کش ادویات کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکے۔ تونجیر نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ایندھن میں ایتھانول کا استعمال روکنے سے جراثیم کش ادویات اور کولون کی پیداوار کے لیے اضافی 20 ہزار مکعب میٹر ایتھانول ملے گا۔

لیموں کے کولون میں 80 فیصد ایتھانول ہوتا ہے جبکہ گلِ یاسمین، تمباکو اور عنبر وغیرہ کی خوشبویات میں 70 فیصد ایتھانول شامل ہوتا ہے تاکہ انہیں جراثیم کش کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ ترکی میں طلب بڑھ جانے کی وجہ سے کمپنی نے بیرونِ ملک سے آنے والے آرڈرز کم کر دیے ہیں تاکہ مقامی مارکیٹ پر توجہ رکھی جا سکے۔ ایک صدی سے زیادہ پرانی اِس کمپنی پورا دھیان اب کولون کی پیداوار پر ہے اور اس نے صابن، کریم اور شیمپو وغیرہ بنانے کے کام کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔

تبصرے
Loading...