دوسرا سعودی بحری جہاز بھی اسلحہ اٹھائے بغیر فرانس سے واپس

0 3,601

ایک سعودی کارگو شپ جنوبی فرانس کی بندرگاہ فو-سو-مے چھوڑ گیا ہے جہاں سے اسے اسلحے پر مشتمل کارگو لے کر سعودی عرب جانا تھا۔ ایک فرانسیسی گروپ نے بتایا کہ احتجاج کی وجہ سے دباؤ پر اسے اسلحہ اٹھانے سے روکا گیا۔

تشدد کے خلاف ایک مسیحی ادارے ACAT کے مطابق یہ رواں ماہ دوسرا موقع ہے کہ کسی سعودی جہاز کو فرانس سے اسلحہ اٹھانے سے روکا گیا ہو کیونکہ پیرس پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مملکت سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنا بند کردے۔

دو ہفتے قبل ایک سعودی بحری جہاز نے فرانس کے شمالی ساحلوں کو اسلحے پر مشتمل کارگو اٹھائے بغیر چھوڑ دیا تھا جب بندرگاہ پر کام کرنے والوں نے لی ہاورے کی بندرگاہ پر اس کی آمد کا راستہ روک دیا تھا۔ یہ واقعہ ایک آن لائن تفتیشی ویب سائٹ پر لیک ہونے والی فرانسیسی عسکری انٹیلی جینس کے بعد پیش آیا جس نے ظاہر کیا کہ ٹینکوں اور لیزر گائیڈڈ میزائل سسٹمز سمیت سعودی عرب کو فروخت کیا گیا اسلحہ یمن کی جنگ میں عام شہریوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔

ACAT کا کہنا ہے کہ سعودی بحری جہاز بحری تبوک بدھ کی رات سمندر میں واپس چلا گیا، وہ بھی خالی۔

ACAT-فرانس کی نتالی سیف نے ایک بیان میں کہا "ایک مرتبہ پھر شہریوں کی حرکت اور ہمارے قانونی اقدامات کے ساتھ ایک سعودی بحری جہاز فرانسیسی ہتھیار اٹھائے بغیر چلا گیا، اس مرتبہ فو-سو-مے میں ۔”

ریفی نٹِو ایکون شپنگ ڈیٹا نے ظاہر کیا کہ سعودی پرچم بردار جہاز، جو گاڑیاں اٹھانے والا جہاز ہے اور ماضی میں سویابین بھی اٹھاتا ہے، اب مصر میں اسکندریہ کی جانب محوِ سفر تھا۔

اس معاملے پر تبصرے کے لیے فرانسیسی اور سعودی حکومتیں اور پورٹ اتھارٹیز سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

فرانسیسی مسلح افواج کی وزیر فلورنس پارلی نے کہا کہ فرانس سعودی عرب کے ساتھ شراکت داری رکھتا ہے۔ جب پہلے جہاز کو لی ہاورے پر روکا گیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ اسلحہ چند سال قبل دیے گئے آرڈر کا تھا۔

ACAT کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے پیرس انتظامی عدالت میں ایک اپیل دائر کی تھی کہ سعودی عرب کو ہتھیار فراہم کرنے کو روکا جائے،جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فروخت اقوام متحدہ کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے کیونکہ یہ اسلحہ یمنی تنازع میں عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، لیکن اس اپیل کو مسترد کردیا گیا۔

تبصرے
Loading...