استعمال شدہ رافال طیاروں سے خطے میں طاقت کا توازن بدلنے والا نہیں، یونان کو ترکی کا کرارا جواب

0 724

وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ ترکی توقع رکھتا ہے پڑوسی ملک یونان جارحیت کے بجائے پُر امن سیاسی حل کا راستہ اختیار کرے گا اور ساتھ ہی زور دیا ہے کہ استعمال شدہ فرانسیسی طیارے خریدنے سے خطے میں طاقت کا توازن نہیں بدل سکتا۔

یونان کی جانب سے فرانس سے رافال طیارے خریدنے کے حوالے سے خلوصی آقار نے کہا ہے کہ یونان اب اسلحے کی دوڑ کا آغاز کر رہا ہے۔ وہ لڑاکا طیارے، دیگر اسلحہ و آلات خرید رہا ہے لیکن چند استعمال شدہ طیاروں سے خطے میں طاقت کا توازن نہیں بدلے گا۔

یونان نے اگلے پانچ سال کے دوران اپنی مسلح افواج کو جدید بنانے کے لیے 14 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ بھی ایسے وقت میں جب پڑوسی ملک ترکی کے ساتھ کشیدگی جاری ہے۔ دونوں نیٹو رکن ممالک کے مابین تعلقات ویسے تو عموماً کشیدہ ہی رہتے ہیں لیکن گزشتہ سال سے ان میں کافی بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، یہاں تک کہ مشرقی بحیرۂ روم میں دونوں کے جنگی بحری جہاز بھی آمنے سامنے آئے اور بحری حدود اور توانائی کے ذخائر کے حقوق پر بھی تنازعات پیدا ہوئے۔

ترکی مشرقی بحیرۂ روم کے ساتھ سب سے طویل ساحل رکھتا ہے اور اس نے اپنے بر اعظمی کنارے (continental shelf) میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کے لیے ڈرل شپس بھیجے تھے جن کی حفاظت کے لیے جنگی بحری جہاز بھی موجود تھے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص بھی اس علاقے پر اپنا حق رکھتا ہے۔ بڑھتے ہوئے تناؤ کو کم کرنے کے لیے ترکی نے مذاکرات کا مطالبہ کیا تھا تاکہ خطے کے وسائل کو منصفانہ طور پر تقسیم کیا جا سکے۔

یونان فرانس نے 18 رافال طیارے حاصل کرے گا جن میں سے 12 اس وقت فرانس کے زیر استعمال ہیں اور 6 مزید تیار کیے جائیں گے۔ یہ سودا 2 سال کے عرصے میں تکمیل کو پہنچے گا۔ یہ طیارے اور ان کے ساتھ فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل خریدنے پر 3.4 ارب ڈالرز کی لاگت آئے گی۔

خلوصی آقار نے کہا کہ

ہم نے ہمیشہ اپنے یونانی پڑوسیوں کو کہا ہے کہ ہم امن اور مذاکرات کے ذریعے اور باہمی معاہدے کے مطابق مسائل کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔

انہوں نے یونان کی جانب سے بحیرۂ ایجیئن کے جزائر کی غیر عسکری حیثیت کو بھی دونوں ملکوں کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس فیصلے پر کڑی تنقید کی۔ "یونان یہ کہہ کر ان جزائر پر عسکری سرگرمیاں کر رہا ہے کہ اسے خطرہ درپیش ہے۔ در اصل ہماری طرف سے اسے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ ترکی یونان کے حوالے سے کوئی جارحانہ رویہ نہیں رکھتا۔”

وزیر دفاع نے کہا کہ فریقین کو باہمی تناؤ میں کمی اور مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

رواں سال کے اوائل میں ترکی اور یونان تقریباً پانچ سال میں پہلی بار براہ راست مذاکرات کی میز پر آئے تھے جس میں مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کے حوالے سے بات کی گئی۔ دونوں ممالک اعتماد کی بحالی اور کشیدگی گھٹانے کے لیے متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

خلوصی آقار نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ ترکی یونان اور یونانی قبرص کے سرحدی حدود کے مبالغہ آمیز دعووں کو مسترد کرتا ہے اور زور دیا کہ بڑھ چڑھ کر کیے گئے ایسے دعوے ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے ترکی اور ترک قبرص کے حقوق کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ بات سب جان لیں کہ ہم کسی کو ایسے اقدامات اٹھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔”

مسئلہ قبرص پر بات کرتے ہوئے ترک وزیر دفاع نے کہا کہ گزشتہ 50 سال میں جو طریقے آزمائےجا چکے ہیں ان سے اس مسئلے کا حل متوقع نہیں۔ "ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص تو اپنا فیصلہ دے چکے ہیں: خود مختار اور آزاد دو علیحدہ ریاستیں۔ یہ بات سب کو ہضم کرنا ہوگی۔”

انہوں نے مشرقی بحیرۂ روم میں تیل اور گیس کے ذخائر کی یکساں بنیادوں پر تقسیم کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

اقوام متحدہ کی تمام تر کوششوں کے باوجود قبرص کا مسئلہ دہائیوں سے حل نہیں ہو رہا۔ جزیرہ 1964ء سے دو حصوں میں تقسیم ہے، جب قبرص کے ترک باشندوں پر ظلم و ستم ڈھا کر انہیں جزیرے سے نکالنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن جب 1974ء میں یونانی قبرص نے ایک بغاوت کے ذریعے پورے جزیرے پر قبرص پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو ضامن طاقت کی حیثیت سے ترکی کو فوجی مداخلت کرنا پڑی۔ بعد ازاں، 1983ء میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام عمل میں آیا۔

تبصرے
Loading...