صدف کاباش کی صدر ایردوان سے بدتمیزی اور گرفتاری

احمد حقان

0 1,975

ترک صدر رجب طیب ایردوان سے حقارت آمیز بدتمیزی کرنے پر ترک صحافی صدف کاباش کو گرفتار کر لیا گیا۔ جج کی طرف سے گرفتاری کے حکم نامے کا بعد انہیں ایک ہوٹل سے گرفتار کیا گیا۔

صدف کاباش نے کیا کہا؟

ٹیلی ون چینل پر صدف کاباش نے جو گفتگو کی وہ مکمل طور پر یہ ہے:

"مجھے امید ہے کہ جب بھی رجب طیب ایردوان نے اپنی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی تو ۔۔۔ وہ محسوس کرے گا کہ اس سماج، اس عوام اور اس ملک نے اسے بہے مواقع فراہم کئے ہیں۔ اسے بہت اچھے عہدوں پر پہنچایا ہے، بہت زیادہ سپورٹ دی، ووٹ دئیے، بہت زیادہ عزت دی۔ ایک مشہور کہاوت ہے کہ سر پر تاج پہن لینے والے عقلمند ہو جاتا ہے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ بلکہ بالکل اس کے برعکس کچھ جملے موجود ہیں۔ چلو میں انہیں بیان کر دیتی ہوں۔ گائے بھینس کہتی ہوں۔ گائے بھینس جب کسی محل میں داخل ہوتی ہے تو وہ بادشاہ نہیں بن جاتی، بلکہ وہ محل جانوروں کا باڑہ بن جاتا ہے”۔

فوٹو: ینی شفق

 

آپ نے ملاحظہ کیا کہ کیسے مسلم امہ کے سب سے بڑے رہنما ترک صدر ایردوان بارے ٹیلی ویژن کی اسکرین پر تحقیر آمیز بدتمیزی کی گئی ہے۔

آپ مکمل بیان پڑھ رہے ہیں۔ سیاق و سباق کے ساتھ۔۔۔۔ آغاز بھی ایردوان ہے، متن بھی ایردوان اور اختتام بھی ایردوان پر۔ یعنی کوئی بھی اسے سیاق و سباق کو بدل کر تاویل نہیں باندھ سکتا۔

سیاق و سباق واضع ہے: صدر ایردوان سے حقارت آمیز بدتمیزی کیا کوئی مہذب انسان اسے کہہ سکتا کہ "یہ تو نارمل سی تنقید ہے”۔ کہ کسی ملک سے سب سے بڑے ادارے کو جانوروں کا باڑہ اور اس میں کام کرنے والوں کو گائے بھنیسیں کہا جا سکتا ہے۔ یہ کیا طور طریقہ ہے، یہ کس طرح کی زبان ہے۔ یہ کیسا سیاسی تجزیہ ہے؟

یہ سیاسی تنقید یا سخت سیاسی تنقید بھی نہیں

اس طرز کلام کو کیا سیاسی تجزیہ، سیاسی تنقید حتی کہ سخت سیاسی تنقید بھی نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سراسر سستی زبان ہے، بدتمیزی اور سراسر بدتمیزی ہے اور بد اخلاقی ہے۔ اس کے دفاع میں کسی مہذب شخص کے پاس کچھ بھی کہنے کو نہیں۔ لیکن ان کا مقصد اور روایت واضع ہے۔ وہ خود سے شرمندہ ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ بلکہ کہتے ہیں اس میں شرم کی کیا بات۔ کیسی شرمندگی۔ وہ جانتی ہے کہ اسے یہ الفاظ ادا کرنے پر عالمی سطح پر ہیروئن بنایا جائے گا، اپوزیشن کی آنکھوں کا تارہ ٹھہریں گی۔

ترکی کے قانون کے مطابق صدف کاباش نے جو کچھ کہا وہ مکمل طور پر جرم ہے۔ بلاشبہ وہ قانون کے سامنے کی اس کی وضاحت اور سزا بھگتیں گی۔ مگر جہاں تک صدف کاباش کی آدھی رات گرفتاری کا تعلق ہے۔ میں اس طرح گرفتاری کے خلاف ہوں۔ صدف کاباش کے منہ سے نکلے جملوں کو تنقید، حتی کہ سخت سیاسی تنقید بھی نہیں کیا جا سکتا واضع ہے کہ یہ نفرت سے جلے ہوئے الفاظ ہیں۔ ایسی نفرت جو ختم نہیں ہو سکتی۔

صدر جمہوریہ کو کہے گئے یہ الفاظ دراصل ان تمام لوگوں کو کہے گئے ہیں جنہوں نے انہیں اس مقام پر پہنچایا ہے۔

اس پروگرام میں صدف کاباش کے ساتھ یہ صحافی بھی موجود تھے۔ ایغور دندار، آئکوت ایردؤدو اور اینگن اوزکوچ۔ کاش یہ اسی وقت صدف کو کہتے: "صدف حانم تم یہ کیا کہہ رہی ہو۔ براہ مہربانی ہوش میں آؤ، ہم بھی ایردوان پر بہت سخت تنقید کر رہے ہیں لیکن بد تمیزی حقارت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ کوئی سیاسی تجزیہ اور تنقید نہیں ہے۔ براہ مہربانی اپنے الفاظ واپس ہو۔ سوچو جس بارے یہ سب کچھ کہہ رہی ہو وہ کوئی عام فرد نہیں بلکہ جمہور کا نمائندہ ہے”۔ کاش وہ وہیں پر ایسا کہہ دیتے۔

یہ کالم حریت اخبار سے ماخوذ ہے جو کہ ایردوان حکومت مخالف اخبار سمجھا جاتا ہے
تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: