سلجوق عہد کی کاروان سرائے کے دروازے سیاحوں کے لیے کھول دیے گئے

0 1,331

اناطولیائی سلجوق عہد کے دوران بنائی گئی سب سے بڑی کاروان سرائے کے دروازے تزئین و آرائش مکمل ہونے کے بعد کھول دیے گئے ہیں اور اب یہ تاریخی مقام ملکی و بین الاقوامی سیاحوں کی راہ تک رہا ہے۔

وسطی قونیہ سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع زازادین کاروان سروائے اپنے عہد کی نمایاں ترین تعمیرات میں سے ایک ہے۔

تاریخی دستاویزات کے مطابق اپنے عہد کا مقبول ترین تجارتی مقام سمجھی جانے والی اس کاروان سرائے کی تعمیر 1237ء میں سلجوق سلطان غیاث الدین کیخسرو ثانی کے عہد میں مکمل ہوئی۔

سلجوق انداز سے تعمیر کی گئی یہ کاروان سرائے اس زمانے میں مسافروں کے رکنے کی ایک عام جگہ تھی۔ اس میں کل 24 کمرے، ایک حمام، ایک گودام اور اصطبل تھے۔

گہرے اور ہلکے بھورے رنگ کے پتھروں سے بنی اینٹوں سے تعمیر کی گئی یہ کاروان سرائے سیاحوں کو سلجوق عہد میں واپس لے جاتی ہے اور مقامی و بین الاقوامی سیاح اسے دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔

ایک ٹورازم آپریٹر حکمت چتینر نے بتایا کہ یہ تاریخی عمارت گم گشتہ ہو چکی تھی، لیکن 2007ء میں اسے بحال کرنے کا کام کیا گیا اور اب یہ تزئین و آرائش کی تکمیل کے بعد سیاحوں کا پھر خیر مقدم کر رہی ہے۔ "اسے ترکی میں سلجوق تعمیرات میں اہم ترین سمجھا جاتا ہے۔ اسے ایک اہم مقام بنانے کے لیے ہم نے کاروان سرائے کو ایک سلجوق عجائب گھر میں تبدیل کردیا ہے اور اس کے دروازے سیاحوں کے لیے کھول دیے ہیں۔”

قونیہ کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے فاؤنڈیشنز کے سربراہ ابراہیم گنج نے کہا کہ اس قدیم شاہکار کو ملک میں سیاحت کے نقشے پر لانا ہمارے لیے فخر کا لمحہ تھا۔ "یہ صوبہ قونیہ کے تاریخی و سیاحتی مقامات میں ایک اہم اضافہ ہے۔ امید ہے کہ یہ اتنی توجہ حاصل کر پائے گا، جتنا اس کا حق ہے۔”

تبصرے
Loading...