فتح اللہ گولن کی حوالگی کے لیے امریکا کو سات بار درخواستیں بھیجی جا چکی ہیں

0 228

ترک وزیر انصاف عبد الحمید گل نے کہا ہے کہ اب تک اعتراضات کی درستگی اور ثبوتوں کے ساتھ سات مرتبہ امریکا سے فتح اللہ گولن کی حوالگی کی درخواستیں ہو چکی ہیں۔ فتح اللہ گولن 15 جولائی 2016ء کی اس ناکام بغاوت کا مرکزی کردار تھا جس میں اس کے فوجی پیروکاروں نے اس کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے صدر ایردوان کو اقتدار سے علیحدہ کرنے اور مار دینے کی کوشش کی۔

عبد الحمید گل نے مزید کہا کہ وہ یقین کرتے ہیں امریکا فتح اللہ گولن کو حوالے کرے گا تاکہ ترکی خود مختار عدالتوں میں اس پر تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے مزید کہا: "یہ ترک قوم کا عالمی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں حق بنتا ہے کہ وہ حوالگی کی درخواست دے”۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکی اتھارٹی تاحال اس سلسلے میں کوئی قدم نہ اٹھا کر فتح اللہ گولن کا تحفظ کر رہی ہے۔

ترکی ناکام بغاوت کے مرکزی کردار کی حوالگی کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ 15 جولائی 2016ء کی ہونے والی ناکام بغاوت میں فتح اللہ گولن کے فوج میں موجود عناصر نے ان کے کہنے پر ترک صدر ایردوان کو قتل کرنے اور اقتدار سے علیحدہ کرنے کی خونی کوشش کی تھی۔ اس کوشش میں عوام کی طرف سے زبردست مزاحمت کی کئی اور 254 شہری شہید ہو گئے اور 2200 زخمی ہوئے۔ پارلیمنٹ میں متفقہ طور پر فتح اللہ گولن اور اس کی تنظیم کو دہشتگرد قرار دیا گیا۔

تبصرے
Loading...