معاہدہ سیورے کے 100 سال، سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کرنے والا معاہدہ

حمزہ کارجج

0 6,468

‏10 اگست کو معاہدہ سیورے (Treaty of Sevres) کے 100 سال مکمل ہو گئے۔ یہ کہانی ہے ایک بدنام معاہدے کی جس کے اثرات آج ایک صدی مکمل ہونے کے بعد بھی نظر آتے ہیں۔

‏10 اگست 1920 کو اتحادی طاقتوں اور ایک عثمانی وفد کے مابین ایک امن معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے ساتھ سلطنت کے لیے پہلی جنگ عظیم ختم ہو گئی۔

پیرس کے نواح میں ہونے والے اس معاہدے کو فوراً ہی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اتحادی طاقتوں کے اپنے الفاظ میں "باسفورس کا مردِبیمار” اب ختم ہونے والا تھا۔

1918ء تک پے در پے جنگوں سے بے حال سلطنت عثمانیہ کو ایک آخری اور مہلک دھچکا برداشت کرنا تھا جو سیورے تھا۔ گو کہ اس کا نفاذ نہیں ہوا لیکن معاہدہ سیورے کی گونج آج ایک صدی بعد بھی محسوس ہوتی ہے۔ سیورے ترکی میں بیرونی مداخلت اور یورپی ممالک کے دہرے معیارات کی علامت بن گیا۔

معاہدے سیورے کو سلطنت عثمانیہ کے لیے معاہدہ ورسائے (Treaty of Versailles) کا ذرا کم مشہور ورژن سمجھا جاتا ہے۔

معاہدہ سیورے میں اتحادیوں اور ان کے بعد یونان اور آرمینیا کے مفادات کو ترجیح دی گئی۔ درحقیقت سیورے اس یونانی قوم پرستانہ منصوبے کی تکمیل تھی کہ جسے میگالی آئیڈیا کہا جاتا ہے، جو ترکی کو اس کے یورپی علاقے کے ساتھ ساتھ بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ اسود کے بیشتر علاقوں سے بھی محروم کرنا چاہتا ہے۔

معاہدہ سیورے ایک طویل اور تفصیلی دستاویز ہے جو 433 نکات پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد جنگ عظیم مکمل ہونے پر باقی رہ جانے والی عثمانی سرزمین کی تقسیم اور علیحدگی تھا۔ معاہدے نے مختلف معاملات کو سمیٹا جن میں ترک علاقوں میں نئی ریاستوں کے قیام سے لے کر ریلوے بوگیوں جیسے معاملات پر تفصیلات تک شامل تھیں۔

سب سے مایوس کن تھا آرٹیکل 36 کے سیکشن I کا پارٹ III جو قسطنطنیہ (استانبول) کو ترک کنٹرول میں تو دیتا تھا لیکن اس شرط پر کہ ترکی "موجودہ معاہدے کی شرائط پر دیانت داری سے عمل کرے۔” اس کے بعد آرٹیکل 37 نے ” Commission of the Straits” تشکیل کے لیے شرائط و ضوابط طے کیے، اس کمیشن میں یونان سمیت اتحادی طاقتیں شامل تھیں جو درحقیقت ترکی کی آبنائے کو اپنے کنٹرول میں رکھتیں۔

استانبول پر درحقیقت قبضہ ہو جانے کے بعد آرٹیکل 63-122 کو "ترک علاقوں کی تقسیم” کے آرٹیکلز سمجھاجا سکتا ہے۔ یہ قطع و برید اتحادی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کی گئی۔ ترک علاقوں کو کاٹ کر ایک کرد ریاست بنائی جاتی، یونان ازمیر اور اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کر لیتا اور آرمینیا ترکی کے مشرقی علاقوں کو اپنی ریاست میں شامل کر لیتا۔

معاہدے نے سلطان کی خلیفۃ المسلمین کی حیثیت کو مزید کمزور کر دیا۔ آرٹیکل 139 کے مطابق سلطان اور خلیفہ کی رسائی استانبول حکومت کے گھٹتے ہوئے علاقوں سے باہر تک نہ ہو۔

ساتھ ساتھ نیا اور طاقتور مالیاتی کمیشن بنایا گیا کہ جو ترکی کے مالی معاملات اور اس کے وسائل پر قابو پا لیتا۔

ترکی کی مزاحمتی تحریک نےمعاہدہ سیورے کو مسترد کر دیا۔ ترک پارلیمان، جو اپریل 1920ء میں تشکیل دی گئی تھی، اب قومی مزاحمت کی قیادت کر رہی تھی۔

19 اگست 1920ء کو اس پارلیمنٹ نے اس بدنام زمانہ معاہدے کو مسترد کر دیا اور اس پر دستخط کرنے والوں اور اس کے حامیوں کو غداری کا مرتکب قرار دیا۔

یہ قومی مزاحمتی تحریک کی کامیابی تھی کہ جس کی وجہ سے یورپی طاقتیں یا ان کے اتحادی اس معاہدے کو نافذ نہیں کر سکے۔

یورپی طاقتوں کا یہ رویہ آج بھی ترکوں کے ذہن سے چپکا ہوا ہے۔ ترکی کے حوالے سے آج بھی یورپ میں یہی دوغلا رویہ نظر آتا ہے۔

ترک تاریخ کے اس نازک موقع نے بین الاقوامی سیاست میں ایک بنیادی اصول کی تصدیق کی کہ امن معاہدے میدان میں موجود حقائق کی بنیاد پر ترتیب پاتے ہیں۔ ترک جنگ آزادی نے اس حقائق کو میدان ہی میں تبدیل کیا، معاہدے سیورے کو منسوخ کرایا اور لوزان معاہدے سے امن کا سفر شروع کیا۔

تبصرے
Loading...