ترکی: طویل سیکولرازم پر غلبہ پاتی شریعت

0 4,266

سونر جیگاپتے واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیر ایسٹ پالیسی کے ایک فیلو، واشگنٹن انسٹیٹیوٹ میں ترکش پروگرام کے ڈائریکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان پر لکھی گئی”نیا سلطان” نامی کتاب کے مصنف بھی ہیں۔ مضمون میں موجود مواد اور تجزیے سے آر ٹی ای اردو کا اتفاق ضروری نہیں۔


Soner Cagaptay

ترجمہ: ثناء ظفر


پچھلے چند ہفتوں سے ترکی کے سرکاری اہلکار دہائیوں سے ملک کے سیکولر تشخص کو توڑنے کے درپے نظر آتے ہیں جو ابھی تک نام کا ہی سہی لیکن سیکولر ریپبلک ہے۔ یہ افسران شام میں ترکی کی فوجی کاروائی کو "جہاد” کا نام دے رہے ہیں۔ بیس جنوری سے شروع ہونے والے اس آپریشن کے پہلے دو دن ترکی کے مذہبی امور کے ادارے "دیانت” ( Diyanet) نے ملک کی نوے ہزار مساجد کو حکم دیا کہ وہ لاؤڈ سپیکر میں سورہ الفتح کی تلاوت کا آغاز کریں۔  جہاد ”اسلام پر حملہ آور” قوتوں کو روکنے کے لیے تشدد کو جائز قرار دیتا ہے۔ایسے عمل کو مرکزی دھارے میں لانا معاشرے کو شریعت کی قبا اوڑھانے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ ترکی اس راہ پر خراماں خراماں چلتا جا رہا ہے۔

مغرب میں قانونِ شریعت کو عام طور پر جسمانی سزاؤں کے ساتھ منسلک سمجھا جاتا ہے جیسے اسلامی شدت پسندوں یا داعش نے دی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف چند ایک ممالک ہی شریعت کو اس صورت میں نافذ کر سکے ہیں مثلاََ سعودی عرب اور ایران وغیرہ۔ اکثر مسلم ممالک میں ملے جلے مذہبی اور سیکولر قوانین نافذ ہیں جن سے شریعت کی نسبتاََ نرم صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ان صورتوں میں شرعی قوانین قانونی، سیاسی اور انتظامی ضابطوں کے ایک پیچیدہ جال میں ملفوف نظر آتے ہیں ،پھر جب ریاستی قوت کی مدد حاصل ہو جائے تو اسلامی شعائر کو معاشرے پر نافذ کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں،مثلاََ رمضان میں روزوں کی پابندی ، اسلام پر عمل نہ کرنے والوں کو برا بنا کر پیش کرنا اور اسلام پر حملہ آور نظر آنے والی تحریر و تقریر پر سزا دینا شامل ہے۔

اپنے وسیع تر فریم ورک کے مطابق شریعت محض پردے اور ڈنڈے کا نام نہیں ہے۔یہ ایک ایسا مضبوط کورکی مانندہے جو پورے معاشرے کو ڈھانپ لیتا ہے ۔ نیک مسلمان انفرادی طور پر شرعی قوانین کے اصولوں پر عمل کرنے کا انتخاب کرتے ہیں جس سے انہیں مذہبی رہنمائی ملتی ہےلیکن ایک سیاسی قوت کے طور پر شریعت اپنی طاقت حکومتی اور معاشرتی دباؤ کے نظام سے حاصل کرتی ہے۔یہ دونوں باہم مل کر شہریوں کو اسلام کی قدامت پسند تعبیرسے جڑے رہنے پر مجبور کرتے ہیں۔

پہلی جنگ عظیم کے آخر میں مصطفی کمال اتاترک نے ترکی کو سیکولر جمہوریت کے طور پر قائم کر کے شریعت کو حکومتی دائرے سے باہر رکھنے کا انتظام کیا جس نے ترکی کو مسلم اکثریتی ممالک سےالگ تھلگ کر دیا۔ یہ سیکولر دستوری نظام آج بھی موجود ہے لیکن رائے عامہ کے سروے اور ترکی میں موجودہ صورتحال سب ہی ایک خطرناک تبدیلی کی خبر دے رہے ہے، خود میری اپنی تحقیق بھی یہی کہتی ہے۔

حالیہ سالوں میں رجب طیب ایردوان کی حکومت شخصی آزادی کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام کی توہین کے مرتکب اور دینی فرائض سے غفلت برتنے والوں پر احکامات بھی نافذ کر رہی ہے۔ نومبر2017ء سے مرکزی حکومت کے ماتحت قومی پولیس مذہب پر ہونے والے آن لائن تبصروں کی نگرانی کر رہی ہے اور اگر یہ تبصرے "اسلام کے خلاف "ہوں تو آزادی اظہارِ رائے کو کچل دیا جاتا ہے۔

منظرِ عام پر نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام میں اسلام کے خلاف تنقیدی گفتگو کرنے والوں کو گرفتار کرنا پولیس کے لیے ایک معمول کی کاروائی بن چکی ہے مثال کے طور پر ترکی کے مشہور پیانو ساز ‘فاضل سے’ پر اسلام کے خلاف اشعال انگیز تبصرہ کرنے پر دو مرتبہ مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اسکا جرم ٹویٹر پر اذان کا مذاق اڑانا تھا۔

ترکی کا حکومتی سرپرستی میں قائم ٹی وی تیرے تے (TRT) نیٹ ورک اسلامی تعلیمات پر عمل نہ کرنے والوں پر لعن طعن کرتا ہے۔ 2016ء میں اس ٹی وی نے ایک عالم دین مصطفی عسکر کو ایک پروگرام میں مدعو کیا جس نے لائیو براڈکاسٹ میں اسلامی طریقے سے دعاء نہ مانگنے والوں کو حیوان کہا ۔ملک کو شریعت کے مطابق ڈھالنے کے لیے ایردوان کی کوششوں میں تعلیم کا میدان خاص طور پر اہم ہے۔

ترکی کا نظام تعلیم بھی محکمہ پولیس کی طرح مرکزی حکومت کے زیر انتظام چلتا ہے اور محکمہ تعلیم پبلک سکولوں میں شہریوں کو قدامت پسند اسلامی تعلیمات کے مطابق چلنے کے لیے دباؤ ڈالتا ہے۔پ بلک ایجوکیشن سسٹم میں رسمی اسلامی تعلیمات کو شامل کرنے کی غرض سے حکومت ترکی میں نئے تعمیر شدہ سکولوں میں نماز کے لیے کمرے مختص کرنا لازم قرار دیا ہے۔ حال ہی میں استنبول کے ایک مقامی تعلیمی اہلکار  نے اساتذہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو صبح کی نماز کے لیے مقامی مساجد میں لے کر آئیں۔

ایردوان کی جس کوشش سے سب سے زیادہ یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنی سیاسی قوت کے ذریعے معاشرے کو اسلامی شعائر کے رنگ میں رنگ رہا ہے وہ وقت مذہبی امور کے ادارے "دیانت” کو زیادہ بااختیار اور طاقتور بنانا ہے۔ یہ ادارہ 1924ء میں اتاترک نے قائم کیا تھا جس کا مقصد ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی افعال و اعمال کو حدود و قیود کا پابند رکھنا تھا۔ اس سے پہلے دیانت کا سربراہ وزیر اعظم کے ماتحت ہوا کرتا تھا لیکن ایردوان اس عہدے کو غیر رسمی طور پر نائب صدر کے برابر لے آیا ہے۔ دیانت کے سربراہ علی ارباز اب باقاعدگی کے ساتھ استنبول کے تھرڈ بریج سے لیکر باسفورس میں کردوں کے خلاف مہم تک ایردوان کے شانہ بشانہ عوامی اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں۔

اپنی نئی سیاسی قوت کو محسوس کرتے ہوئے مذہبی امور کے ادارے نے دیگر ریاستی عناصر کو احکامات جاری کرنا شرو ع کر دیے ہیں۔ حال ہی میں ادارے نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شادی کی اجازت دی گئی ہے۔ اس ہدایت نامے کے تحت لڑکیوں کی شادی نو سال جبکہ لڑکوں کی شادی بارہ سال کی عمر میں کی جا سکتی ہے کیونکہ اسلامی شریعت کے مطابق بلوغت کا تعلق عمر کے بجائے جسمانی علامتیں ظاہر ہونے سے ہے۔ ایک اور اقدام کے تحت دیانت نے سکولوں میں ہر کلاس میں اپنے نمائندے مقرر کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ترکی میں قریباََ 60000 پبلک سکول ہیں جو ایردوان حکومت کی مذہبی ہدایات کے سائے تلے تعلیم دے رہے ہیں۔

لیکن وہ جو ایردوان سے امید پیدا کر رہے ہیں کہ وہ ترکی میں شرعی قوانین لاگو کرے گا انہیں تھوڑا مزید انتظار کرنا ہو گا۔ یہ تبدیلی راتوں رات نہیں آئے گی۔ یہ آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہی ہے جیسا کہ واضع حجاب (چہروں) پر نازل ہوا ہے۔


واشنگٹن پوسٹ میں چھپنے والا یہ انگریزی مضمون یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

تبصرے
Loading...