بہتان تراشی کی دو طرفہ چالیں – علنور چیویک

0 230

یہ بالکل واضع ہے کہ عالمی سطح پر ترکی سے منسلک بہتان تراشی کی ایک مہم شروع ہو چکی ہے جس کا ہدف ترک صدر رجب طیب ایردوان ہیں۔

وہ ایردوان کی مقبولیت کو اکھاڑنا، اور صدارت سے علیحدہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں جو کچھ کر سکتے تھے کر چکے ہیں، شہری بغاوتیں، کرپشن کے جھوٹے کیسز، اور پھر آخر میں فتح اللہ دہشتگرد تنظیم (فیتو) کے ذریعے اس کے فوجی پیروکاروں کے ذریعے بغاوت کا منصوبہ بھی بُرے طریقے سے ناکام ہو چکا ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ ایردوان کی مقبولیت کو کم کرتے، انہوں نے اپنی کوششوں سے ترک صدارت کے لیے عوامی حمایت میں اضافہ ہی کیا ہے۔

اب وہ ایک منصوبہ بند، دو شاخہ بہتان تراشی کی مہم شروع کر رہے ہیں جو ایک تو وطن عزیز اور بیرون ملک دونوں جگہوں پر شروع کی گئی ہے۔ ایک طرف بیرون ملک نیو یارک میں رضا ضراب کیس شروع کیا گیا ہے۔ تو دوسری طرف مرکزی اپوزیشن پارٹی جمہوریت عوام پارٹی (سی ایچ پی) کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو کی طرف سے بے بنیاد الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

نیو یارک میں شروع ہونے والے ضراب کیس میں فیتو واضع طور پر امریکی عدالتی نظام کو ہائی جیک کر چکا ہے اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس کی مدد سے ایک رسوائی مہم شروع کی جائے اور امید رکھتے ہیں کہ وہ حتمی طور پر ایردوان کو نقصان پہنچائے گی۔ اس کیس کا جج، اس کا پراسیکیوٹر اور حتی کہ اس کا نام نہاد ماہر گواہ بھی فیتو گروپ سے تعلقات رکھتا ہے۔ یہ ایک یکطرفہ کیس ہے جہاں استغاثہ، جج کی مہربانیاں اس قدر وسیع ہوں گی کہ خود ساختہ ڈاکومنٹس پیش کیے جا سکیں گے جو کسی بھی دوسری امریکی عدالت میں ناقابل قبول ٹھہریں۔

نتیجتاً پرازسیکیوٹر ترک سرکاری افسران کو ایران پر عائد امریکی پابندیوں کو توڑنے پر امریکی قوانین توڑنے کا مجرم قرار دے گا۔ فیتو دراصل ایردوان کو پریشان کرنے کا ایک نیا کھیل سجا رہی ہے۔ اس میں سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ صرف یہ دیکھے گی کہ ان کا عدالتی نظام کیسے قتل کیا جا رہا ہےاور امریکی اس کیس کے فیصلوں سے ترک حکومت کو غیر مقبول بنانے کی کوشش کریں گے اور ترکی کو نیچے گرانے کی کوشش ہو گی۔

نیو یارک کیس وطن عزیز میں کلیچدار اولو کے اچانک ابھرنے والے جھوٹے الزامات سے ملاپ کر رہا ہے جنہوں نے سی ایچ پی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس کے موقع پر عام حامیوں کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ان کے پاس ڈاکومنٹ ہیں کہ اسلے آف من کی ایک کمپنی میں ایردوان کے قریبی لوگوں نے ایک آف شور بنک کے ذریعے رقوم کی منتقلی کی ہے۔ کلیچدار نے یہ الزام لگاتے ہوئے اس موقع پر چند ورق بھی لہرائےاور کہا کہ یہ منتقلی کا ثبوت ہے۔ تاہم اس تقریر کے بعد اس نے یہ ثبوت میڈیا کو دینے سے انکار کر دیا۔ اس نے یہ ثبوت کسی ریاستی پرازسیکیوٹر کو بھی جمع نہیں کروائے تاکہ اس کی مدد سے کوئی کیس لانچ کیا جائے۔

جمہوریت عوام پارٹی کے ترجمان نے میڈیا کو ثبوت فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کلیچدار نے کون سے مجرمانہ الزامات دائر کئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر آپ یہ شور کیوں اٹھا رہے ہو؟

جموہریت عوام پارٹی (سی ایچ پی) کلیچدار کے ان بے بنیاد الزامات سے پارلیمانی تحقیقات چاہتی ہے جو ایک عرصہ تک چلیں اور بے نتیجہ رہیں اس دوران وہ شور مچاتے رہیں اور میڈیا میں نت نئی خبریں بنتی رہیں۔ اس آئیڈیا سے جو بہتان تراشی پر مبنی ہے یہ تاثر پیدا کرنا ہے کہ صدر ایردوان اور اس کا خاندان خفیہ طور پر رقوم کی منتقلی کرتے ہیں۔

کلیچدار ایک صریح غلط راستے پر جا رہے ہیں جہاں وہ کچھ بھی ثابت نہیں کر سکتے۔ لیکن اس کو قائم رکھنے کے لیے دستاویز کا دھوکا دے رہے ہیں۔ یہ بھی واضع ہے کہ اس کی ڈویاں باہر سے ہلائی جا رہی ہیں۔ جس سے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ بہتان تراشی کا یہ دو طرفہ کھیل ہے۔ ایک وطن عزیز میں اور دوسرا بیرون ملک نیو یارک میں۔

لیکن سب سے پُر امید بات یہ ہے کہ یہ مہم چلانے والے نہیں جانتے کہ ترک قوم ایسے بہتان تراشیوں سے بے وقوف کبھی نہیں بنی۔ ایسے کھیل پہلے بھی عالمی گروپوں کی طرف سے آتے رہے اور اس سے ایردوان مزید مضبوط ہی ہوئے۔

اس کالم کے ساتھ اسی موضوع پر یہ تحریر بھی پڑھیں: خود ساختہ شواہد؛ فیتو کا حامی جج؛ ترک سالمیت کے خلاف میدان تیار: ضراب کیس

تبصرے
Loading...