خواتین کے مسائل حل کیے بغیر کوئی معاشرہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا، ایردوان

0 299

خواتین پر تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "اگر انسان کے بارے میں غلط فہمیاں، جھوٹے مفروضات اور بد چلنی موجود ہے خصوصا عورت کے معاملے میں تو ضروری ہے کہ ہم اس کی وجہ اپنے مذہب اور ثقافت کے بجائے اس سے کہیں گہری سطح پر تلاش کریں۔ اس نقطہ نظر سے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری خواتین کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے اور ہمیں اپنی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ان مسائل کو حل کرنا ہے”۔

خواتین پر تشدد انسانیت سے بغاوت ہے

صدر ایردوان نے معزز انسانوں اور خؤاتین پر تشدد کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ: "صدر مملکت کی حیثیت سے میں خواتین پر تشدد کو انسانیت سے بغاوت قرار دیتا ہوں اور میں اس بات پر زور دیتا ہوں کہ جو بھی یہ بغاوت کرتا ہے اسے سزا دینا ضروری ہے”۔

خواتین پر تشدد صرف مقامی نہیں عالمی مسئلہ ہے، یہ کہتے ہوئے ترک صدر نے ان تحقیقات کا حوالہ دیا جن کی رو سے یہ مسئلہ تعلیمی اور تنخواہوں کے معاملات سے نہیں جڑا بلکہ :ہماری ایک یونیورسٹی کی تحقیقات بتاتی ہے کہ بد قسمتی سے 8 ہائی اسکول گریجویٹس لڑکیوں میں سے ایک اور 5 یونیورسٹی گریجویٹ لڑکیوں میں سے ایک گھریلو تشدد کا نشانہ بنتی ہے۔ اسی طرح یہ جو شکی خیال پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مغربی معاشروں میں یہ مسئلہ نہیں ہوتا، اس کی نفی ہو جاتی ہے۔مغربی معاشرے بھی ہم سے زیادہ اسی طرح گھریلو تشدد جیسے مسائل سے گزر رہے ہیں۔ اصل میں یہ مسئلہ ہر جگہ ہے جہاں ہم رہتے ہیں۔  اصل مسئلہ یہ ہے کہ کون انسان کو جنس اور جنسی تقسیم کی نظر سے دیکھنے سے پہلے ہی سمجھنے کی کوشش کرتا ہےاس لیے یہ مسئلہ انسانی قدروں سے جڑا ہے”۔

 

خواتین کے بغیر ہمارا معاشرہ آدھا رہ جاتا ہے

رجب طیب ایردوان نے مزید کہا: "اگر انسان کے بارے میں غلط فہمیاں، جھوٹے مفروضات اور بد چلنی موجود ہے خصوصا عورت کے معاملے میں تو ضروری ہے کہ ہم اس کی وجہ اپنے مذہب اور ثقافت کے بجائے اس سے کہیں گہری سطح پر تلاش کریں۔ اس نقطہ نظر سے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ ہماری خواتین کو کس قسم کے مسائل کا سامنا ہے اور ہمیں اپنی قوم کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ان مسائل کو حل کرنا ہے”۔

انہوں نے 15 سال قبل ترکی میں خواتین کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں ہونے والے اقدامات پر بات کی اور کہا: "خواتین کے مسائل حل کیے بغیر کوئی معاشرہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکتا، جن میں حقوق اور عدل کی بنیاد پر تعلیم، کام، امتیازی سلوک اور تشدد شامل ہے۔ کیونکہ خواتین کے بغیر ہمارا معاشرہ آدھا رہ جاتا ہے اور اس آدھے حصے کو نظر انداز کر کے باقی آدھا حصہ خود ہی فنا ہو جاتا ہے”۔

جو خواتین پر تشدد کو اپنے نظریات کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ خواتین کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں

ترکی میں خواتین پر تشدد کے خلاف مضبوط سیاسی قوت فیصلہ موجود ہے ترک صدر نے کہا: "ہم اپنے ملک کی تمام خواتین سے کہتے ہیں کہ وہ اپنے لیے جاری جدوجہد میں ساتھ دیں۔ جو خواتین پر تشدد کو اپنے نظریات کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ خواتین کے حقوق کا استحصال کرتے ہیں۔ ہمارے دروازے ہر شخص کے لیے اور سب کے لیے کھلے ہیں جو خواتین کے حقوق کی حمایت کرتا ہو اور ہم اس میں اِس یا اُس نظریے کی بات نہیں کرتے۔ تاہم باقی کئی مسائل کی طرح اس ایشو میں کسی پر نہیں چھوڑیں گے کہ وہ خواتین کے مسئلے کو ایک جنگی ہتھیار بنا کر ہمارے خلاف استعمال کرے”۔

اگر ایک ٹکہ بھی میرا ملک سے باہر محفوظ ثابت کردیا جائے تو میں اس صدارت سے استعفیٰ دے دوں گا

اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر کی طرف سے لگائے جانے بے بنیاد الزامات جو اگرچہ ثابت شدہ نہیں ہیں۔ ترک صدر نے کہا: "بالفرض اگر میرے بچوں نے، میرے بھائی بہنوں نے، میرے چچاؤں نے اور میرے بچوں کے سسرال نے حتی کہ میرے سابقہ مینجر نے ملین ڈالر باہر محفوظ کیے ہوں۔ اس سے قبل وہ مجھ پر الزام لگا چکے ہیں کہ میں نے 3 بلین ڈالر باہر رکھوائے ہیں۔ بے شک ان بہتان تراشیوں کو ایک مارکیٹ مل جاتی ہے اور یہ بہتان اور جھوٹ میڈیا پر پھیلائے جاتے ہیں۔ خصوصا سوشل میڈیا پر اور کچھ ملکی اور غیر ملکی میڈیا پر۔ہر قانون کے اسکول کی بنیاد پر، کئی اصول ہیں جیسے جو دعویٰ کرتا ہے ثبوت کی ذمہ داری بھی اسی کی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ نے اگر الزام لگایا ہے تو اس کو ثابت بھی کریں”۔

صدر ایردوان نے اپوزیشن لیڈر کو کہا کہ اگر اپنے الزام میں سچے ہیں تو اس متعلق اگر ان کے پاس کوئی ڈاکومنٹ ہے تو وہ بھی پیش کریں۔ انہوں نے کہا: "اگر طیب ایردوان نے ایک ٹکہ بھی باہر کسی بنک میں جمع کیا ہو، آگے بڑھو اور اسے ثابت کرو۔ میں اس بات کی گارنٹی دیتا ہوں کہ اگر ان الزامات کو تم نے ثابت کر دیا تو میں فوری طور پر اس صدارتی عہدہ سے استعفیٰ دے کر خود کو انصاف کے سامنے پیش کروں گا۔ ہاں اگر وہ ان الزامات کو ثابت نہ کر سکیں تو کیا انہیں اپنی لیڈری پر رہنے کا حق ہو گا؟ اس بات کی گارنٹی وہ مجھے بھی تو دیں”۔

تبصرے
Loading...