ترکی، روہینگیا مسلمانوں کا قرض چکا رہا ہے، خلافت عثمانیہ کی دستاویز منظر عام

0 206
Photo: Yeni Safak

نائب وزیرِ اعظم فکری اشیک کی جانب سے بروز جمعہ ایک دستاویز دکھائی گئی ہے جس کے مطابق روہنگیا مسلمانوں اور ترکوں کے درمیان یک جہتی کا آغاز پہلی جنگِ عظیم سے شروع ہوتا ہے جب عثمانی حکومت کو مادی اور جذباتی اعانت فراہم کی گئی-

عثمانی دستاویزات سے حاصل کردہ ایک ریکارڈ کے مطابق روہنگیا مسلمانوں نے 1913ء میں 1391 پاؤنڈز ان ترکوں کی امداد کے لیے بھجوائے تھے جو 1912/13کی دوران ہونے والی بلقان کی جنگوں میں ذخمی ہوئے تھے- یہ خط وزیرِ اعظم شہزادہ حلمی پاشا کو سلطنت کی فتح پر مبارکباد کے لیے لکھا گیا تھا-

رنگون میں "عثمانی امدادی فنڈ” کے سربراہ احمد مولا داؤد نے اس خط میں کہا ہے کہ
"میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپکی خدمتِ عالیہ، آپکی کابینہ کے اراکین اور اپنے ترک ہم دینی بھائیوں کو ایرییا نوپل اور دیگر کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضے کی اس انوکھی اور شاندار فتح پر مبارکباد پیش کرتا ہوں”-

انہوں نے یہ بھی کہا کہ روہنگیا عوام نے اپنے مسلمان بھائیوں کی فتح کے لیے مسجد میں دعائیں بھی کی تھیں اور فتح کا جشن بھی منایا تھا۔

نائب وزیرِاعظم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا کہ "یہ خط روہنگیا مسلمانوں اور ترکوں کے درمیان گہری یک جہتی کو ظاہر کرتا ہے۔

ہماری قوم شکر گزار ہے اور ہمیشہ نہ صرف مظلوموں اور معصوموں کے ساتھ کھڑی رہتی ہے بلکہ انکو امید بھی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی رجب طیب ایردوان کی قیادت میں ضرورت مندوں کو مدد فراہم کرنا ہمیشہ جاری رکھے گا۔

رجب طیب ایردوان نے میانمار کی وزیرِ خارجہ آنگ سان سوچی سے بات کی اور روہنگیا مسلمانوں کی ایک آواز پر امداد روانہ کی-
وزیر خارجہ چاوش اوّلو نے بھی مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اپنے ہم منصبوں سے بھی کہا ہے کہ وہ بھی اس سلسلے میں عملی اقدامات کریں۔
علاوہ ازیں بروز جمعرات خاتونِ اوّل امینہ ایردوان ایک سیاسی وفد اور ایک غیر سرکاری تنظیم کے اہلکاروں کے ساتھ بنگلہ دیش پہنچیں. جہاں انہوں نے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپ "کوکس بازار” کا دورہ کیا۔

واضح رہے کہ یہ پر تشدد واقعات ریاست رخائن میں اس وقت پھوٹ پڑے جب میانمار کے حفاظتی دستوں نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کیا.25 اگست سے تقریباً 1,20,000 مرد ، عورتیں اور بچے وہاں سے بھاگنے اور بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے۔

میانمار سیکورٹی فورسز پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے غیر ضروری طاقت استعمال کرتے ہوئے روہنگیا عوام کے گھر تباہ کیے۔

اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق بڑے پیمانے پر عصمت دری اور قتل کے واقعات سامنے آئے ہیں.جن میں شیر خوار بچے شامل ہیں، اس کے علاوہ پر تشدد واقعات اور لوگوں کا اغوا ہونا بھی بتایا جاتا ہے. میانمار میڈیا کے مطابق400 لوگ اس نام نہاد” قانونی کارروائی” کے باعث مارے جا چکے ہیں.

مترجم: سعدیہ کنول

تبصرے
Loading...