صدر ایردوان کی شخصیت کے چند پہلو – سلطان دمیر

0 2,972

ایردوان ایک سادہ اور حقیقت پسند آدمی ہے، نہ صرف کیمرے کے سامنے بلکہ کیمرے کے پیچھے بھی وہ اتنا ہی سادہ ہے۔

یہ ایک سب سے بڑی وجہ ہے جو اسے ترکی میں مقبول بناتی ہے۔ وہ 1994ء میں استنبول کا مئیر منتخب ہوا، جب کوئی بھی میڈیا چینل، اخبار، ٹی وی یا بزنس مین اس کی حمایت نہیں کر رہا تھا۔

اس نے ااپنے پارٹی ورکرز کے ساتھ گھر گھر جا کر مہم چلائی، لوگوں سے بات کی، اور انہیں اعتماد دیا کہ وہ ان سے کون کون سے وعدے کرتے ہیں۔ ایردوان انتخابات جیت گیا اور مئیر بن گیا جس سے ہر میڈیا گروپ پریشان اور ہر بزنس مین حیران تھا۔

اپنے اس عہد میں وہ استنبول کے پسماندہ شہروں کے دوروں میں معروف تھا، وہ براہ راست لوگوں کے مسائل سننے کا عادی تھا۔ نہ صرف انتخابات سے پہلے بلکہ بعد میں بھی اپنے پوری مدت میں۔ وہ لوگوں کے مسائل کو اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا اور واپس جا کر ان کو حل کرنے میں مگن ہو جاتا۔

لوگ ان کی اس عادت سے بخوبی واقف تھے، وہ جیسے ہی کسی شہر کا دورہ کرتا، لوگ ان کی آمد سے پہلے اپنے اپنے مسائل کاغذ پر نوٹ کر کے رکھتے اور جیسے ہی وہ آتے براہ راست ان کے ہاتھ میں یا ان کے کسی گارڈ کے ہاتھ میں پکڑا دیتے۔ یہ تمام درخواستیں عام شہریوں کی طرف سے ہوتی تھیں اور کچھ تو جلدی میں ٹشو پیپر پر ہی لکھ کر پکڑا دیتے تھے۔ ایردوان اور ان کی ٹیم ان درخواستوں کو بہت اہمیت دیتی تھی، انہیں ایک ایک کر کے حل کرتی اور درخواست کنندہ سے رابطہ کر کے اسے آگاہ کرتی کہ انہوں نے ان کا مسئلہ حل کر دیا ہے۔

ان کے والد جتنا مجھے یاد ہے ایک مچھلی فروش تھے۔ وہ کسی امیرزادہ پاشا کی اوّلاد نہیں تھے، یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ ترک اشرافیہ نے ان کی مخالفت کی۔ ترک اشرافیہ مغربی روایت کے زیر اثر ہمیشہ احساس کمتری میں جیتی ہے اوراپنے طرز زندگی کو ان کے معیار کے مطابق جانچتی ہے۔ ان کے خیال میں ایک صدر یا وزیراعظم کو اتنا عام اور سادہ طرز عمل نہیں اپنانا چاہیے جیسا کہ اس فوٹو میں نظر آتا ہے:

ا پھر صد ر یا وزیر اعظم کو ایک عام آدمی کے گھر میں اس کے ساتھ اس قدر سادگی سے نہیں بیٹھنا چاہیے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس سے ان کی شخصیت اور مرتبہ کمزور ہو جاتا ہے لیکن یہی چیز ایردوان کی سب سے بڑی قوت بن گئی اور ترک اشرافیہ دیکھتی رہ گئی۔

اں ایک اور بات جسے اشرافیہ پسند نہیں کرتی وہ ان کا عام شہریوں کو سگریٹ سے روکنا ہے۔ ایردوان سگریٹ مخالف کے طور پر مشہور ہے۔ جب بھی کسی شہری سے ملتا ہے اور اسے معلوم پڑتا ہے کہ وہ سگریٹ نوشی کرتا /کرتی ہے ۔ ایردوان اس سے سگریٹ کی ڈبیہ لے لیتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ وہ سگریٹ نوشی ترک کر دے۔ وہ اسی سگریٹ کی ڈبیہ پر اس شخص کا نام، فون نمبر اور تاریخ لکھ لیتا ہے اور اس سے وعدہ لے لیتا ہے کہ وہ سگریٹ پینا چھوڑ دے گا۔
ایک دو ماہ بعد اسے صدر ترکی کال کرتا ہے اور اس سے حال چال پوچھتا ہے اور دریافت کرتا ہے کہ کیا وہ سگریٹ پی رہا ہے یا چھوڑ چکا ہے۔

ترکی میں کچھ لوگ اس وجہ سے ایردوان کی حکمرانی کو مطلق عنان حکمرانیت سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ایردوان لوگوں کو اپنے حاکمانہ جبر سے سگریٹ چھوڑنے پر مجبور کرتا ہے، انہیں زیادہ بچے پیدا کرنے پر اکساتا ہے اور کھانے کے وقت دانہ دانہ چن پر پلیٹ صاف کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔

یہاں دیکھئے کیسے صدر ایردوان ایک غریب شہری کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھے ہیں۔ ترکی کے اشرافی سوچ رکھنے والے اسے پسند نہیں کرتے۔

ایردوان بچوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے، وہ اپنی بس اور کار میں ہمیشہ بچوں کے کھلونے ساتھ رکھتا ہے اور جہاں بھی جاتا ہے بچوں میں ضرور تقسیم کرتا ہے۔

اسے عام پبلک میں رونا عجیب نہیں لگتا۔ اسے اس کے مخالف ڈرامہ بازی قرار دے کر پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں لیکن وہ اس کی فکر نہیں کرتا۔ جب وہ اپنی بیٹی کے ذکر کے ساتھ مصر کے اخوان المسلمون رہنماء کی بیٹی کی رابعہ العدویہ میں مارے جانے پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تو ٹی وی پر انہیں دیکھ کر ہزاروں لوگ رونے لگے۔

یہ پہلا بار نہیں تھا کہ وہ عام پبلک میں رویا ہو، اس کے علاوہ کئی مقامات پر بے اختیار رو پڑتا ہے۔

لیکن وہ فرشتہ نہیں ہے ، وہ اپنی الگ طبعیت رکھتا ہے، وہ بعض اوقات غصے ہو جاتا ہے اور سامنے والے کو ایک ایسا فقرے بول جاتا ہہے جس سے عام طور پر سیاسی لوگ کتراتے ہیں۔۔ دوسرے الفاظ میں وہ عمومی طور پر سیاسی زبان میں بات نہیں کرتا ۔ وہ عام لوگوں کی طرح جو بات کہنا چاہے بے دھڑک کہہ دیتا ہے۔

جیسا کہ ایک مثال:

بہت دنوں پہلے کی بات ہے، ایردوان کسی جگہ کا دورہ کر رہا تھا۔ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا، جیسا کہ اس کی عادت ہے وہ ہجوم کے پاس جاتا ہے تو ایک شخص چلانا شروع ہو گیا ، ”او! وزیر اعظم! ادھر دیکھ! تو جانتا نہیں کہ کسانوں کی حالت یہاں کیا ہو رہی ہے!!!۔۔۔۔ “ وہ مسلسل چیختا جا رہا تھا۔ ایردوان اس کی طرف مڑا اور سامنے آ گیا۔

پھر ایردوان نے سمجھا یہ وقت ضائع کر رہا ہے۔ عمومی طور پر کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو خاموشی سے اسے اس کے حال پر چھوڑ کر چلا جاتا لیکن ایروان ایک ایسا فقرہ بولا جسے ترکی میں گالی سے تشبیہ دی جاتی ہے ، اردو میں اس کا متبادل ایسا ہو گا، ”جاؤ دفع ہو جاؤ اور جا کر اپنی بھینس چُراؤ “۔

یہاں اس کی وڈیو دیکھی جا سکتی ہے:

 

تبصرے
Loading...