معنویت کھو جانے والے ایک عہد میں زبان قلب کی آواز – ابراہیم قالن

0 257

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

دنیا کی زبانوں کے آن لائن چشمے، ایتھنولاک کے مطابق اس وقت دنیا میں 7000 سے زائد زندہ زبانیں موجود ہیں۔ جن میں کچھ تو کروڑوں لوگ بولتے ہیں جبکہ کچھ بہت چھوٹے گروہوں تک محدود ہیں، دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی صرف 23 زبانیں میں سما جاتی ہے۔ ان سب کا ایک ہی مقصد اور کام ہے؛ انسانوں کے درمیان خیالات، معنی اور احساسات کو پہنچانا۔ زبانوں کی اس انتہائی متنوع دنیا میں ہم اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں اور اپنے آپ اور دوسرے انسانوں کو کچھ کہتے ہیں۔ ہم الفاظ اور جملوں کے ذریعے اپنے سرگرمیوں کے مطالب بیان کرتے ہیں۔ اگر مثالی طور پر کہیں تو ہم اپنے منطقی اظہار و بیان سے اپنے اختلافات کو حل کرتے ہیں۔ لیکن کیا ہمیشہ ایک ہی زبان بولنا ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنے خیالات کا درست اظہار کر سکیں؟

یہاں کئی ایسی مثالیں ہیں جہاں مسائل اور تنازعات پر قابو پانے کے لیے ایک ہی زبان بول لینا مددگار ثابت نہیں ہوتا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں اپنے ساتھ رہنے والے انسانوں کے دل و دماغ تک پہنچنے کے لیے لسانی صلاحیتوں سے بڑھ کر کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا جلال الدین رومی داخل ہوتے ہیں جب وہ کہتے ہیں، "ایک جیسی زبان (عضو) سے بولنے کے بجائے ایک جیسی زبانِ قلب سے بولنا زیادہ بہتر ہے”۔ بامعنی خیالات جن کا اظہار زبان سے کیا جاتا ہے اس وقت موثر ہوتے ہیں جب صرف دماغ ہی نہیں سامنے والے کے دل میں جا اتریں۔ یہ الفاظ اس وقت ہماری روح اور دماغ پر اثر ڈالتے ہیں جب یہ زبان قلب سے بولے جائیں۔

دل کی زبان سے بولے جانے والے الفاظ صرف اسی وقت سنے جا سکتے ہیں جب وہ دوسرے دل سے آتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ ہمیں دوسرے دلوں سے بات کرنے کے لئے اپنے دلوں کی تربیت کرنا پڑتی ہے۔ رومی کا خیال تھا کہ تمام انسانی مخلوق کو یہ زبان بولنے کی صلاحیت بخشی گئی ہے۔ درحقیقت، اسلامی دانشورانہ روایت میں دل کو دماغ اور خرد کی طرح ایک علمی عضو تصور کیا جاتا ہے۔ دل صرف احساسات اور جذبات کا مسکن ہی نہیں، خیالات، آئیڈیاز اور مطالب کا مخزن بھی ہے۔ جدید فلسفے کی ایک پیش قیمت غلطی یہ تھی کہ اس نے انسانی دل کو ایک خوشگوار اور پُراحساس علمی مقام سے الٹا کر ایک نری جذباتی اور نفسیاتی فکلیٹی میں پھینک دیا۔

دماغ اور دل ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں۔ اس کے برعکس وہ انسان کو بناتے اور مکمل کرتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک کے بغیر بھی انسان نامکمل اور درشت رہتا ہے۔ ذہن اور خرد، ہمارے تمام خیالات و احساسات کو خود سے آگے نہیں بڑھا سکتے کیونکہ ہم "سوچ بچار والی مشینوں” سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہم انسانی مخلوق ہیں جو دوسروں کے بارے احساسات بھی رکھتے ہیں۔ جو مانگتے ہیں، جو چیختے ہیں، جو خوبصورت چیزوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جو اس فانی دنیا میں اپنی موجودگی کے مطالب پر غور کرتے ہیں۔

خیالات و آئیڈیاز کے واضع اور مبنی بر دلائل اظہار کے لیے دل بذات خود ناکافی چیز ہے۔ دل اور دماغ دونوں مل کر ہمیں مربوط خودی عطا کرتے ہیں، ایسی خودی جو ایک ہی وقت میں اس دنیا کو عقلی اصولوں اور اعلیٰ ارفع اقدار کی آنکھوں سے دیکھتی ہے۔ ہم اپنے دماغ اور زبان سے معنی تخلیق کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں ان مطالب تک بھی پہنچنا ہے جو چیزوں کے فطری بناوٹ کے اندر پنہاں ہوتے ہیں۔ ہم چیزوں کو سمجھنے کے لیے ایک ذہنی ڈھانچہ بنا کر چلتے ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ چیزیں ہمارے سامنے ایسے ہی پیش ہوتی ہیں جیسے ساخت کے ساتھ ان کے مطالب اور اہمیت۔ ہم جتنا زیادہ ان مطالب کو کھولتے ہیں اتنا زیادہ تخلیق کرتے ہیں۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں دماغ اور دل ایک دوسرے کو طاقت دیتے ہیں اور ہمیں حقیقت کی ایک جامع تفہیم عطا کرتے ہیں۔

واپس رومی کی طرف چلتے ہیں۔ وہ زبان قلب کو زبانِ عضو کے بولنے پر ترجیح کیوں دیتے ہیں؟۔ اس کی وجہ بہت سادہ مگر گہری ہے۔ ایک جیسی لسانی دنیا سے تعلق رکھنے والوں کے خیالات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن زبان قلب چھوٹے چھوٹے اختلافات پر قابو پا کر انسانی سمجھ کو ایک بلند سطح پر لے جاتی ہے یہ ایک پہاڑ کی چوٹی پر پہنچنے جیسا ہے جہاں سے ہم ایک حصے کے بجائے پوری وادی کو دیکھتے ہیں۔ جتنا ہم اوپر جاتے ہیں ہمارا خیال اتنا زیادہ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ غیر منہضم شدہ کچی معلومات کے بڑے ذخیرے کے بجائے یہ ایک گہری سوچ و بچار ہوتی ہے جو ہمیں دانشورانہ پختگی، ایمان، نیکی اور رحم دلی کی طرف لے جاتی ہے۔ یہی وہ اقدار اور اصول ہیں جو ہماری انسانیت میں بہتری لاتے ہیں۔

یہ رومی کی عالمگیر اپیل کی وضاحت کرتا ہے، اگرچہ انہوں نے ایک خاص وقت اور خاص مقام پر ایک مخصوص زبان میں اپنی ابدی شاعری لکھی۔ تمام داناؤں کی طرح، وہ چیزوں کے اظہار و بیان سے بالاتر ہو کر عالمگیر اور ابدی مطالب تک پہچنا چاہتے ہیں وہ مطالب کو بنانے کے بجائے تلاس کرتے ہیں اگرچہ پہلے عمل کو نظر انداز نہیں کرتے۔ بہرحال وہ ایک ایسے شاعر ہیں جو گہرے مفاہیم و مطالب کو اپنی خوبصورت شاعری اور دل و دماغ کو بدلنے والی حکایات میں بیان کرنے کا فن جانتے ہیں۔ وہ خود کو مفاہیم تک محدود کرتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مطالب ہی مستقل رہتے ہیں۔ اور مطالب ہی ہمیں آزاد بناتے ہیں۔

تبصرے
Loading...