کاپا دوکیا میں بہار: پرستان میں پھول کھل اٹھے

0 931

وادیاں، پری نما چمنیاں، تاریخی خانقاہیں جو پتھروں کو تراش کر بنائی گئی ہیں، نئے بوتیک ہوٹل اور بہار کے رنگ برنگے پھول کاپادوکیا کو ترکی کا ایک اہم سیاحتی مقام بنا دیتے ہیں۔ 1985ء میں یونیسکو نے کاپا دوکیا کو دنیا کے عظیم ورثوں میں شامل کیا تھا۔ موسم بہار میں جیسے ہی رنگے برنگے پھول خوبصورت پری نما چمنیوں میں کھلتے ہیں تو اس خطے کی دلکشی دنیا بھر سے لاکھوں لوگوں کو ہر سال اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

کاپادوکیا کی منفرد زمین آتش فشاں پتھروں کے کٹاؤ سے بنی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی پرانی آتش فشانی کٹاؤ نے اس علاقے کو گہری راکھ سے بھر دیا تھا جو بعد میں جم کر نرم پتھروں میں بدل گئی جنہیں "Tuff” (مسام دار چٹان) کہا جاتا ہے۔

کاپا دوکیا کا علاقہ تقریبا 5000 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جو مرکزی اناطولیا میں واقع ہے۔ اس میں چار شہر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں، نیو شہر، کیسری، اکسارے اور نگدے۔ نیو شہر سلطنت عثمانیہ کے ایک وزیر نے دریافت کیا تھا جو وہاں کا مقامی بھی تھا۔ اس کے علاوہ خطے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ 5000 مربع کلومیٹر میں 600 سے زائد چرچ دریافت ہو چکے ہیں جو ان نرم چٹانوں کو کاٹ کر بنائے گئے ہیں اور اندرونی آرٹ سے مزین ہیں۔

کاپادوکیا میں ایک شہر تو زمین کے اوپر موجود ہے لیکن کئی شہر زیر زمین ہیں۔ ان کا ایک بڑا حصہ اگرچہ سیاحوں کے لیے کھلا ہے لیکن بہت سے مقامات پرائیویٹ ملکیت ہیں۔

آپ کاپادوکیا جائیں اور ہاٹ ائیر بیلون کا لطف نہ اٹھائیں تو سمجھیں آپ نے کاپادوکیا دیکھا ہی نہیں۔یہاں تین قسم کی ہاٹ ائیر بیلون فلائٹس چلتی ہیں جن میں ایک اسٹینڈرڈ فلائٹ ہے جس میں 16 سے 24 لوگ سوار ہوتے ہیں، ااس کے علاوہ ایک ڈیلکس فلائٹ ہوتی ہے، یہ معیاری سروس ہوتی ہے اس میں کم لوگ سوار ہوتے ہیں اس کے علاوہ ایک پرائیوئٹ فلائٹ ہوتی ہے جو ہنی مون، شادی پرپوزل یا برتھ ڈے منانے والوں کے لیے ہوتی ہے اور اس ضمن میں تمام سروسز فراہم کی جاتی ہیں اور اس کا دورانیہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ ہاٹ ائیر بیلون پر سوار ہونا چاہیے تو ہم آپ کو علی الصبح کا وقت تجویز کریں گے۔

اپریل میں بہار آتے ہی یہاں کی ہریالی اور خوشبو میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ چاروں طرف رنگ برنگے پھول کھل اٹھتے ہیں اور سیاح یہ موسم بہت پسند کرتے ہیں۔ اس روس، یورپ اور افریقہ سے کئی نامور سیاح کاپادوکیا کی بہار دیکھنے پہنچ چکے ہیں۔

نیدرلینڈ کی سیاح اوریدز پائک بھی ان سیاحوں میں شامل ہیں، وہ کہتی ہیں کہ موسم بہار میں کاپادوکیا کو دیکھنا نادر موقع ہت، مناظر بہت ہی خوبصورت ہیں، میں نے ہاٹ ائیر بیلون سے پری چمنیاں دیکھی ہیں۔ پھول کاپادوکیا کی خوبصورتی میں رنگ بھرتے ہیں۔ میں نے اس سے قبل صرف اس علاقے کی تصویریں دیکھی تھیں۔ لیکن حقیقتی مناظر ان سے کہیں زیادہ پیارے ہیں۔

اگر آپ بھی کاپا دوکیا دیکھ چکے ہوں یا کبھی دیکھیں تو ہمیں لکھ بھیجئے کہ آپ نے وہاں کیا کیا دیکھا اور کیسا لگا۔

تبصرے
Loading...