ہم ان کے سامنے کھڑے ہوں گے جو ہمارے ملک کو جھکانا چاہتے ہیں، ایردوان

0 203

آق پارٹی ادیر کی صوبائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "بالکل 15 جولائی کی طرح، ہم ان کے سامنے کھڑے ہوں گے جو ہمارے ملک کو جھکانا چاہتے ہیں۔ یہ جنگ ہم صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہے بلکہ کاراباخ کے مہاجرین کے لیے بھی لڑ رہے ہیں، نخچیوان میں موجود اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے عراق اور شام میں لڑ رہے ہیں۔ ساری دنیا کے مظلوموں اور متاثرہ لوگوں کی جنگ لڑ رہے ہیں”۔

ہمارے 80 ملین شہریوں میں سے ہر ایک ہماری نظر میں برابر ہے

کسی کو اس کی نسل، زبان، ثقافت، مسلک یا عقیدے کی نظر سے دیکھنا اب ترکی کا ماضی بن چکا ہے، صدر ایردوان نے کہ وہ اپنی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ کسی کو اس بنیاد پر دیوار سے نہ لگایا جائے اور قومی دھارے سے باہر نہ سمجھا جائے وہ انصاف اور برابری کے ساتھ سب کی خدمت کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ترک صدر نے شہر کے لیے اپنی خدمات گنوائیں جن میں ایک بہترین یونیورسٹی بھی بنائی گئی۔

علیحدگی پسند دہشتگرد اپنی تاریخ کی عبرتناک شکست کا سامنا کر رہے ہیں

صدر ایردوان نے کہا : "اسلحے، موت، دکھ، خون، ظلم اور دھمکیوں سے بنائے جانے والے کھیل ٹوٹ رہے ہیں۔ دھوپ ہو یا چھاؤں لگاتار جاری آپریشن کے نتیجے میں آج علیحدگی پسند دہشتگرد اپنی تاریخ کی عبرتناک شکست کا سامنا کر رہے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ملک اور ملک سے باہر آپریشن جاری رکھیں گے حتی کہ آخری دہشتگرد بھی مار دیا جائے۔

رجب طیب ایردوان نے مزید کہا: "وہ جو سمجھتے ہیں کہ ترکی کو دہشت، خون اور آنسوؤں سے سیدھا کر لیں گے وہ کسی بھول میں ہیں۔ وہ جو سمجھتے ہیں کہ ہمیں قاتلوں کے غول میں قید کر لیں گے جو انہوں نے ہم پر چھوڑے ہیں تو یقیننا وہ مایوس ہوں گے اور ہم انہیں مایوس کریں گے۔ وہ جنہوں نے سرحد کے کنارے موجود دہشتگردوں پر اسلحے سے بھرے ٹریلر ٹرک نچھاور کر دئیے انہیں جلد اپنی اس بڑی غلطی کا احساس ہو گا جب یہ یہی اسلحہ ان پر تانا جائے گا جیسا کہ باقی ملکوں کے ساتھ ایسا ہو چکا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ابھی تھوڑا سا بھی احساس نہیں ہے کیونکہ انہوں نے قاتلوں کے ہاتھ میں یہ اسلحہ ترکوں، ترکمانیوں، کردوں، عربوں اور عزیریوں کو مارنے کے لیے دیا ہے۔ اب وہ شاید بہت خوش ہوں گے کہ اسلامی دنیا کے سب سے خوبصورت تاریخی شہر ملیا میٹ ہو چکے ہیں”۔

مرکزی اپوزیشن پارٹی فیتو کے سیاہ پروپیگنڈے کا مرکز بن چکی ہے

مرکزی اپوزیشن رہنما قوم کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو چکے ہیں۔ صدر ایردوان نے کہا: "بدقسمتی سے ہمیں ایک ایسی بے وفا پارٹی سے واسطہ ہے جو جھوٹ کی جگالی کرتی ہے جیسے پانی پیا جاتا ہے، سیاست کو غلیظ بہتان تراشی سے پراگندہ کرتی ہے اور سیاہ پروپیگنڈا کے لیے فیتو کا مرکز بن چکی ہے۔ اس پارٹی کا رہنماء ہر روز ایک نئے جھوٹ کے ساتھ سامنے آتا ہے تاکہ اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈال سکے اور سیاسی بور نات کو چھپا سکے”۔

اس موقع پر انہوں نے ہرجانے کا کیس بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اور ان کے دوسرے ساتھی جن پر الزام عائد کیا گیا ہے وہ یہ کیس جیت کر اس سے بے آسرا خواتین کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کریں گے۔

تبصرے
Loading...