سواکن معاہدہ سے عرب ریاستیں پریشان کیوں؟

0 50,078

تحریر: علی ہلال


ترک صدررجب طیب ایردوان 24 دسمبر کو تین افریقی ممالک چاڈ، تیونس اور سوڈان کے چار روزہ دورے پر پہلی فرصت میں سوڈان پہنچے۔ جہاں انہوں نے اپنے ہم منصب صدرعمرالبشیر کےساتھ دارالحکومت خرطوم میں ملاقات کی۔

دونوں ممالک کے درمیان دفاع اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں 21 معاہدے ہوئے ہیں ۔۔ جن میں سب سے نمایاں اہمیت کا حامل بحر احمر پر ترک فوجی اڈے کی تعمیر سے متعلق معاہدہ ہے جس کے بارے میں جاننا عرب خطے میں دلچسپی رکھنے والو ں کے لئے نہایت لازمی ہے۔

عسکری ماہرین اور عرب تجزیہ کار اسے انتہائی اہم قراردے رہے ہیں۔ سوڈان نے اپنی اراضی پر ترکی کو فوجی اڈہ بنانے کے لئے بحر احمر پر واقع سواکن نامی جزیرہ دینے کا معاہدہ کرلیا ہے۔ جہاں ترکی اپنا فوجی بیس اورترک کلچر مرکز بنا ئے گا۔

سواکن سوڈانی دارالحکومت خرطوم کے شمال مشرق میں بحر احمر میں واقع 20 کلومیٹر مربع پر محیط جزیرہ ہے۔ یہ جزیرہ انیسویں صدی میں بحر احمر پر سلطنت عثمانیہ کا سب سے بڑا بحری اڈا ہوا کرتا تھا۔ عثمانیوں کا بحری بیڑا یہی لنگر انداز ہوتا تھا۔ اس کے ذریعے عثمانی بحر احمر کے دونوں جانب عرب ممالک میں اہمی مہمات سرکرتے تھے۔ ایک جانب سعودی عرب اوردوسری جانب سوڈان۔ اس طرح سے یہ جزیرہ دو براعظموں کو ایک دوسرے کے قریب کرنے کا اہم پوائنٹ رہا۔ 1916ء کے بعد برطانیہ نے عربوں کے تعاون سے قبضہ کرکے اس اہم مرکزکو عثمانیوں سے چھین لیا جس سے ترکی کی بحری قوت ختم ہوکر رہ گئی۔ یہ عثمانی خلافت کے لئے سب سے بڑا دھچکا تھا۔ کیونکہ سواکن کی حیثیت ایک اہم گذرگاہ اور اسٹرٹیجک حیثت کے حامل بحری مرکز کی تھی اس سے ترک افواج کو سمندری راستے سے پہنچائی جانے والی کمک کا راستہ بند ہوا۔ جو جزیرہ عرب کے ساتھ شمالی افریقہ میں بھی ان کی شکست کی وجہ بنی۔

ترکی کے فوجی اورحکومتی ادارے عرصے سے اس جزیرے کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے سرگرم رہے تاہم یہ کامیابی صدراردوان کے حصے میں آگئی۔ سوڈانی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بعد ترک ادارے کوآپریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ایجنسی نے جزیرے پر رواں سال جنوری سے تعمیری سرگرمیوں کا آغاز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سواکن کا جزیرہ، جہاں ترک ادارہ برائے امداد و باہمی تعاون (تیکا) کی جانب سے دو مساجد اور عثمانی کسٹم عمارت کی بحالی صاف دیکھی جا سکتی ہے

سواکن کی اسٹرٹیجک اہمیت کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتاہے کہ یہ سعودی عرب کے چار اور مصر کے دو بحری اڈوں سے نکلنے والے جہازوں کی گذرگاہ یہی جزیرہ ہے ۔۔اس کے علاوہ سواکن سمندری حیات سے مالامال اور انتہائی دلکش سیاحتی جزیرہ ہے۔

خلیجی ممالک سوڈان میں بحر احمر کے ساحل پر ترک فوجی اڈے کی موجودگی سے شدید خائف ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ عثمانی سلطنت کے احیاء نو کے لئے جاری کوششوں کے سلسلے کی کڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترک صدر کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے سرکاری اداروں اور اعلٰی حکومتی حکام کی شدید ناراضی کا سبب بنا ہے۔ جس کا اظہار دونوں ممالک اپنے اپنے طریقے سے کربھی چکے۔ 

تبصرے
Loading...