سودان میں فوجی کریک ڈاؤن، دریائے نیل سے لاشیں برآمد، ہلاک شدگان کی تعداد 108 تک پہنچ گئی

0 1,932

سودان کی افواج کی جانے سے مارے گئے 40 سے زیادہ افراد کی لاشیں دارالحکومت خرطوم کے قریب دریائے نیل سے برآمد ہوئی ہیں۔ جمہوریت حامی حلقوں کے مطابق تازہ ترین تصادم کے بعد برسرِ اقتدار فوج کے کریک ڈاؤن میں مارے جانے والوں کی تعداد 108 ہو چکی ہے۔

مظاہرہ کرنے والے گروہوں میں سے ایک سودان ڈاکٹرز کمیٹی نے بدھ کو رات گئے آٹھ مزید اموات کی تصدیق کی اور کہا کہ کم از کم 509 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ایک ہی خاندان کے تین بچے بھی ہلاک شدگان میں شامل ہیں۔

لاشیں برآمد ہونے کے بارے میں اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب سودان کے حکمران جنرل نے مظاہرین سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جسے انہوں نے فوری طور پر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب فوج مظاہرین کو قتل کر رہی ہو تو جرنیل مذاکرات کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہو سکتے۔

مظاہرین کے ایک ترجمان نے کہا کہ اس کے بجائے وہ مظاہرے اور ہڑتالیں جاری رکھیں گے تاکہ فوج پر اقتدار سویلین حکومت کے حوالے کرنے کا دباؤ بڑھایا جائے۔

دریائے نیل سے لاشیں برآمد ہونے کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سوموار کو ملٹری ہیڈکوارٹر کے باہر دھرنے کو پرتشدد انداز میں ختم کرنے کا واقعہ ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ خونریز تھا۔ دھرنے پر حملے کی قیادت بدنام پیراملٹری یونٹ ریپڈ سپورٹ فورسز نے کی تھی، جن کے ساتھ دیگر دستے بھی تھے کہ جو کیمپوں میں داخل ہوئے، فائرنگ کی اور مظاہرین کو زد و کوب کیا۔

ڈاکٹر کمیٹی نے کہا کہ اس ہنگامے کے دوران عینی شاہدین نے بتایا کہ انہوں نے فوجی گاڑیوں میں لاشیں ڈالتے ہوئے دیکھا جنہیں دریا میں پھینکے جانے کے لیے اٹھایا گیا تھا۔ مظاہرین کا کیمپ دریائے نیل ازرق سے زیادہ دور نہیں تھا، جو نیل ابیض سے ملنے والے مقام سے تھوڑا سا اوپر ہے، جہاں سے یہ دونوں مل کر سودان سے مصر میں داخل ہوکر بحیرۂ روم تک جاتا ہے۔

کمیٹی نے ایک روز قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز کے اہلکاروں کو دریا سے 40 لاشیں نکال کر لے جاتے دیکھا گیا تھا۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ لاشیں کہاں لے جائی گئیں۔

ایک کارکن امل الزین نے کہا کہ یہ تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارکنوں اور عام شہریوں نے دھرنے کے قریب کے مقامات سے درجنوں لاشیں دریا سے نکالی ہیں اور انہیں ہسپتالوں کے مردہ خانے لے گئے۔ "چند لاشوں پر گولیوں کے نشانات تھے، جبکہ دیگر کو تشدد کے بعد دریا میں پھینکا گیا تھا۔” انہوں نے کہا۔

سوموار کو ڈاکٹرز کمیٹی نے کریک ڈاؤن سے مرنے والوں کی تعداد 40 بتائی تھی۔ 10 مزید افراد منگل کو خرطوم اور ام درمان میں ہونے والے تصادم میں مارے گئے، جو دریائے نیل کے پار دارالحکومت کا جڑواں شہر ہے۔

کم از کم 18 افراد بدھ کو ہونے والے تصادم میں مارے گئے یا ابتدائی دنوں کے زخموں سے دم توڑ گئے، ڈاکٹر کمیٹی نے بتایا۔ کمیٹی نے کہا کہ اسے خدشہ ہے کہ مرنے والوں کی حتمی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔

البتہ سودان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ خرطوم مظاہروں میں مارے جانے والوں کی تعداد "46 سے زیادہ افراد نہیں” ہے، جو ڈاکٹروں کی جانب سے بتائی گئی تعداد 108 سے کہیں کم ہے۔

"ڈاکٹر سلیمان عبد الجبار، انڈر سیکریٹری وزارت صحت، نے ایک اعلامیہ میں چند میڈیا اداروں کی جانب سے حالیہ واقعات میں مرنے والوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہونے کو رد کیا اور تصدیق کی کہ ان کی تعداد 46 سے زیادہ نہیں ہے۔” سرکاری خبر رساں ادارے SUNA نے بتایا۔

خرطوم میں ہسپتالوں نے بتایا ہے کہ انہیں زخمیوں کو سنبھالنے میں شکل ہو رہی تھی۔ "صورت حال بہت مشکل ہے۔ زیادہ تر ہسپتالوں کو گنجائش سے زیادہ افراد کو سنبھالنا پڑ رہا ہے،” ایک ڈاکٹر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے AFP کو بتایا۔ "طبی عملے اور خون کی بھی کمی ہے۔” انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "زخمیوں میں شدید زخمی افراد بھی شامل ہیں اور میرے خیال میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔”

اس کریک ڈاؤن نے فوج اور مظاہرین کے درمیان نسبتاً پرامن تنازع کو تناؤ میں تبدیل کردیا ہے۔

مہینوں تک مظاہرہ کرنے والے اپریل میں عمر البشیر کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے کہ جو 30 سال سے فوج کی مدد سے ملک کے سربراہ تھے۔ ان کا تختہ الٹنے کے بعد جرنیلوں نے اقتدار سنبھالا تب بھی مظاہرین سڑکوں پر موجود رہے، جن کا کہنا ہے کہ وہ فوجی اقتدار کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔

کئی ہفتوں تک فوج اور مظاہرین رہنما انتخابات سے قبل تین سال تک ملک چلانے کے لیے عبوری کونسل کی تیاری کے لیے مذاکرات کرتے رہے۔ مظاہرین نے کونسل میں سویلین قیادت کی تعداد زیادہ ہونے کا مطالبہ کیا لیکن جرنیلوں نے اس کی مخالفت کی۔

سوموار کے کریک ڈاؤن کے بعد مظاہرین کے رہنماؤں نے مذاکرات معطل کردیے۔ ملٹری کونسل کے سربراہ جنرل عبد الفتح برہان نے ان نکات کو بھی منسوخ کردیا جن پر رضامندی کا اظہارکیا گیا تھا اور کہا کہ فوج سات سے نو ماہ میں انتخابات کے انعقاد کے لیے حکومت بنائے گی۔

البتہ بدھ کو برہان نے اچانک اعلان کیا کہ جرنیل بلاشرط مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ "ہم تمام فریقین سے مذاکرات کے لیے بانہیں کھول رہے ہیں، ملک کے مفاد کے لیے۔” اور یہ بھی کہا کہ دھرنے پر حملہ کرنے والے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

مظاہروں کی قیادت کرنے والی سودانیز پروفیشنلز ایسوسی ایشن نے اس پیشکش کو ٹھکراتے دیا۔ ترجمان محمد یوسف المصطفیٰ نے کہا کہ "یہ مطالبہ سنجیدہ نہیں ہے۔ برہان اور ان کے ماتحتوں نے سودانیوں کو قتل کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں۔ ان کی گاڑیاں سڑکوں پر گشت کر رہی ہیں اور عوام پر فائر کھول رہی ہیں۔ ہم اپنے مظاہرے، مزاحمت، ہڑتال اور سول نافرمانی جاری رکھیں گے۔”

برطانیہ اور امریکا نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی مذمت کی ہے جبکہ حکمران جرنیلوں کے اہم حامی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی فریقین کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغاز پر زور دیا ہے۔ آٹھ یورپی ممالک نے سودانی سکیورٹی سروسز کے عوام پر پرتشدد حملوں کے حوالے سے اپنا مشترکہ بیان جاری کیا۔

تبصرے
Loading...