سودان میں کریک ڈاؤن کے بعد عام ہڑتال

0 1,988

سودانی مظاہرین نے حکمران ملٹر ی کونسل پر سویلین حکومت کو اقتدار منتقل کرنے کا دباؤ بڑھانے کے لیے قومی سول نافرمانی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق دارالحکومت خرطوم میں دکانیں اور سڑکوں پر گاڑیاں بند ہیں۔

مظاہرین نے مبینہ طور پر خرطوم، ام درمان اور بحری شہروں میں سڑکیں بلاک کردی ہیں۔

سول نافرمانی کا اعلان سودانی پروفیشنلز ایسوسی ایشن (SPA) نے حکمران عبوری ملٹری کونسل (TMC) کی جانب سے خرطوم میں مظاہرین پر پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد کیا ہے کہ جس میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔

SPA نے ویران خرطوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا ہے کہ ایئرپورٹ پر کام کرنے والے اور پائلٹ اس ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیں۔

قبل ازیں، اس ہفتے فوج نے خرطوم میں مظاہرین کے مرکزی کیمپ پر دھاوا بول دیا، جس میں سینٹر کمیٹی آف سودانیز ڈاکٹرز کے مطابق 100 سے زیادہ مظاہرین مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔

سودان 11 اپریل سے سیاسی ہنگامہ خیزی کا شاکر ہے کہ جب فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کئی ماہ کے عوامی مظاہروں کے بعد 30 سال سے برسرِ اقتدار عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

اس کے بعد TMC اب دو سالہ "عبوری عہد” میں نگران بنی ہوئی ہے کہ جس کے دوران اس نے آزادانہ صدارتی انتخابات کا وعدہ کیا ہے۔

البتہ مظاہرین، جو اب بھی سڑکوں پر ہیں ملٹری کونسل سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اقتدار جلد سے جلد سویلین اتھارٹی کو منتقل کیا جائے۔

تبصرے
Loading...