سلطان عبد الحمید، ایردوان اور ترکی کا عہد جدید

0 2,251

ویسے تو اس موضوع پر یورپ کے دانشور اور مصنف ایک عرصے سے غور و فکر کر رہے ہیں لیکن اب عرب میں بھی سوچا جانے لگا ہے جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ نے خلافت عثمانیہ کے آخری گورنر مدنیہ فخر الدین پاشا کو نشانہ بنایا اور حال ہی میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے مبینہ طور پر ترک صدر رجب طیب ایردوان بارے کہا گیا کہ وہ خلافت عثمانیہ کا احیاء چاہتے ہیں-

جو ترکی کی گذشتہ 15 سالہ سیاسی تاریخ سے واقف ہیں وہ اسے محض خارجی ردعمل نہیں کہہ سکتے- ترکی میں خلافت عثمانیہ کے حق میں جس طرح کا ماحول پیدا کیا گیا، مغربی مصنفین نے اسے کئی سال پہلے نیو عثمانزم کا نام دے دیا تھا- یہ بات محض ایردوان کی طرف سے اسلامی شعار کے استعمال سے آگے بڑھ چکی ہے- اب عفرین میں ٹینک میں بیٹھنے والے سپاہی سے بھی جب منزل کا پوچھا جاتا ہے تو وہ سرخ سیب کا نام لیتا ہے- جس کا مطلب خلافت عثمانیہ میں شامل بلقان، مشرقی یورپ، ایشیا، عرب اور افریقی خطے لیے جاتے ہیں-

خلافت عثمانیہ کے آخری سلطان عبد الحمید ثانی، ترکی میں ایک بار پھر ہیرو بن چکے ہیں- ان کی زندگی پر بننے والا ڈرامہ "پایاتخت عبد الحمید” ہر جمعہ کروڑوں ترک اور عرب دیکھتے ہیں اور حالیہ منظر نامے کو اسی آنکھ سے دیکھنے لگے ہیں- ترک صدر ایردوان نے ایک ریلی کے دوران شرکاء سے پوچھا کہ کیا وہ پایا تخت دیکھ رہے ہیں؟ اس کا صاف مطلب تھا کہ سلطان عبد الحمید ثانی ترک سیاست میں واپس آ چکے ہیں اور وہ اپنے پرانے تجربے سے سیکھتے ہوئے بہتر کردار ادا کریں گے-

اب ترک سیاسی تجزیہ نگار بھی اسی پس منظر میں سوچنے لگے ہیں- عفیون کوجاتیب یونیورسٹی سے منسلک سیاسی تجزیہ نگار اونار بوجکجو کہتے ہیں، "2016ء کی ناکام بغاوت، شام اور یورپ کے ساتھ تناؤ اس بیانیے میں جان پیدا کر رہا ہے کہ ایردوان کے گرد مسائل اسی طرح گھیرا ڈال چکے ہیں جیسے سلطان عبد الحمید کے وقت ہوا تھا”-

ترک آج بھی سوچتے ہیں کہ یورپ تقسیم کرو اور حکومت کرو پر عمل پیرا ہے جیسا کہ پہلی جنگ عظیم میں سلطنت عثمانیہ کے ساتھ کیا گیا- وہ کرد دہشتگردوں کو اسی قسم کا غدار سمجھتے ہیں جو دشمن کے اس منصوبے میں رنگ بھرنے کی کوشش کرتے ہیں- استنبول کی بلیجی یونیورسٹی میں اس پر ایک سروے بھی ہوا اور تصدیق کی گئی کہ یورپ ترکی کو تقسیم کر کے اس پر حاوی ہونا چاہتا ہے-

یہ سوال سلگتا رہے گا کہ کیا خلافت عثمانیہ واقعی آ رہی ہے؟ آخر اس کے احیاء کا راستہ کیا ہو گا؟ کیا ترکی واپس اپنے علاقوں پر قبضہ کرے گا؟ کیا تمام اسلامی ممالک سے اپنی سلطانی کو تسلیم کروائے گا؟ میرے خیال میں ایسا نہیں سوچنا چاہیے او نہ ترکی میں کہیں سوچا جا رہا ہے- لیکن کچھ اقدامات ایسے ہیں جو ایک نئی قسم کہ سلطنت عثمانیہ پیدا کر سکتے ہیں- ترکی کی اسلامی دنیا پر سوفٹ پاور کے مثبت اثرات پیدا ہو رہے ہیں اور اس میں بلاشبہ ایک بڑا کردار ترک صدر رجب طیب ایردوان کا ہے- یہ ترکوں پر منحصر ہے کہ اسلامی دنیا میں موجود بڑی تعداد میں اپنے ہمنواؤں اور حامیوں کو ایک مثبت قوت میں کیسے ڈھالتے ہیں اور پھر وہ سیاسی اور سماجی میدانوں میں اس کے ذریعے کیا علاقائی تبدیلی پیدا کرتے ہیں- اگر ایسی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اسلامی دنیا کو ایک مضبوط اتحاد اور یکجہتی مل سکتی ہے جو اس وقت مظلوم مسلمان کے کئی اہم مسائل حل کر سکتی ہے-

تبصرے
Loading...