سوئیڈن کا وائی پی جی دہشت گردوں کو 376 ملین ڈالرز دینے کا وعدہ

ترکی کی جانب سے سوئیڈن کے رویّے پر سخت تنقید

0 207

سوئیڈن نے PKK دہشت گرد گروپ کی شامی شاخ، YPG کا غلبہ رکھنے والی SDF، کو 2023ء میں 376 ملین ڈالرز کی امداد دینے کا عہد کیا ہے، جس کا اعلان سوئیڈش وزیر خارجہ این لِنڈے نے کیا۔

YPG کے سرکردہ افراد میں سے ایک الہام احمد کے ساتھ ملاقات کے بعد لِنڈے اور ان کے وفد نے دہشت گرد گروہ کے لیے سوئیڈن کی مالی امداد پر بات کی، جو 210 ملین ڈالرز تک جا ہنچی ہے اور 2023ء میں اسے بڑھا کر 376 ملین ڈالرز کرنے کا ارادہ ہے۔

لِنڈے نے کہا کہ "شمال مشرقی شام میں حالت زار پر الہام احمد کے ساتھ کھل کر بات ہوئی۔ سوئیڈن بدستور ان کا متحرک شراکت دار ہے۔”

ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو ماضی میں لِنڈے کی دہشت گردوں کے ساتھ تعاون پر تنقید کر چکی ہے، جن کا کہنا تھا کہ ملک کو YPG دہشت گردوں اور کرد عوام کے درمیان واضح فرق کرنا چاہیے تاکہ PKK اور ان کے گماشتوں کی پشت پناہی نہ ہو سکے اور ان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے صرفِ نظر نہ کیا جائے۔

ترکی عرصہ دراز سے یورپ کی جانب سے PKK کی سرگرمیوں کو برداشت کرنے کو تنقید کا نشانہ بناتا آ رہا ہے اور گروپ کے پروپیگنڈے، بھرتی اور سرمایہ اکٹھا کرنے کے حوالے سے سخت اقدامات اٹھانے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

SDF دراصل PKK کی شامی شاخ YPG کا ایک نیا روپ ہے، جس کے ساتھ امریکا نے داعش کے خلاف جنگ کے نام پر شراکت داری کر رکھی ہے۔

ترکی جولائی میں شمال مشرقی شام میں انقرہ کے فوجی آپریشن کے خلاف لِنڈے کے بیان پر بھی تنقید کی تھی۔ لِنڈے ماضی میں بھی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ملاقاتیں کر چکی ہیں۔

40 سال سے ترکی کے خلاف جاری اپنی دہشت گردی میں PKK خواتین اور بچوں سمیت 40 ہزار افراد کی موت کا ذمہ دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین اسے دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: