آنکھوں پر پٹی بندھے اسرائیلی تشدد کا نشانہ بننے والے فلسطینی نوجوان کی ترکی آمد

0 1,770

فازی الجنیدی جسکی اس تصویر نے شہرت حاصل کی جسمیں اسے اسرائیلی فوجی آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھسیٹ رہے تھے ، منگل کو استنبول پہنچ گیا۔

فازی الجنیدی فلسطین کے امریکہ مخالف مظاہروں میں ایک استعارہ بن گیا تھا جسے 27دسمبر کو مغربی کنارہ کے شہر ہربون سے اسرائیلی فوج نے گرفتار کیا تھا۔ فلسطین میں یہ مظاہرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوئے تھے۔

اپنے والد کے ہمراہ استنبول پہنچنے پر ایسنلر بلدیہ کے منتظمین نے جنیدی کا استقبال کیا جنہوں نے اسے ایک تین روزہ تقریب میں شرکت کے لئے مدعو کیا تھا۔ جنیدی اپنے دورہ ترکی کے دوران ہائی سکول کے طلباء سے اپنے تجربات شئیرکرینگے

اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی شہرت کا اندازہ جیل سے رہائی کے بعد ہوا کیونکہ وہ جیل میں کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ انہوں نیے کہا کہ اسرائیلیوں نے جیل میں تمام برقی آلات بشمول ٹیلیفون اور ٹی وی پر پابندی عائد کر رکھی تھی ۔انہوں نے مزید بتایا کہ میں جبتک وہاں تھا تب تک کچھ نہ دیکھ پایا کیونکہ وہاں صرف ایک ٹی وی تھا جس پر چند مخصوص چینلز تھے اسرائیلیوں نے جان بوجھ کر ایسا کر رکھا تھا-

جنیدی کے مطابق انہوں نے اپنی شہرہّ آفاق تصویر جیل سے رہا ہونے کے بعد دیکھی ۔ 16سالہ اس فلسطینی نوجوان نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے پر ترک قوم اور صدر رجب طیب اردگان کا شکریہ ادا کیا۔ ترک صدر کی اس نوجوان سے ملاقات بھی متوقع ہے-

فازی الجنیدی کے کہا کہ میں نے سن رکھا ہے کہ صدر اردگان نے میرے بارے میں بات کی اس پر میں بہت خوش ہوں اور ہم ان سے بہت محبت کرتے ہیں-

ایردوان نے صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں جنیدی کی تصویر دکھاتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں کے لڑکے کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر خوب لعن طعن کی تھی۔ ایردوان نے کہا تھا کہ اگر یہ (اسرائیلی فوجی)جنہوں نے اس لڑکے کو پکڑ رکھا ہے دہشتگرد نہیں تو پھر کون ہے؟ انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل ایک قابض دہشتگرد ریاست ہے اور سر سے پاؤں تک مسلح فوجیوں سے کا ایک لڑکے کے ساتھ ایسا سلوک بے رحمی اور دہشتگردی ہے۔ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایردوان نے کہا تھا کہ اسے دیکھ کر انہیں خاموش نہیں رہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر آپ کی مرضی سے کوئی دہشتگردی کا نشانہ بنتا ہے تو پھر آپ بھی ظالم ہیں کیونکہ یہ لڑکا مظلوم ہے ناکہ دہشتگرد۔

جنیدی نے مزید بتایا کہ اسرائیلی فوج کے تشدد کے باعث آنیوالے زخموں کے آپریشن ہونے ہیں ۔ اس نے کہا کہ میرا کندھا اور بازو تاحال زخمی ہے تاہم امید ہے کہ میں جلد صحت یاب ہو جاونگا۔

جنیدی 27دسمبر کو 20 دن قید کے بعد رہا ہوا تھا۔
ہیبرون میں ایک گھنٹہ کی قید کاٹنے والے دماغی مریض 29سالہ محمد التاوایل دسمبر میں ترک وزارت صحت کی دعوت پر ترکی آئے تھے اور ایردوان نے صدارتی محل میں ان سے ملاقات کی تھی۔ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت ا لمقدس کو اسرائیلی دارلخلافہ بنانے کے مذموم اعلان کی پوری دنیا میں مذمت کی گئی تھی جسکے بعد فلسطین میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ فلسطینی مشرقی بیت ا لمقدس کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارلخلافہ گردانتے ہیں جسے اسرائیل نے غیر قانونی طور پر1967کی چھ روزہ جنگ میں اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔

ترکی جسکے غزہ اور مغربی کنارے کی حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا بھر پور ساتھ دیا اور ٹرمپ کے فیصلہ کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں کا مشترکہ نقطہء نظر بنانے کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ ہزاروں ترک شہریوں نے اسرائیلی مظالم اور امریکی فیصلہ کے خلاف فلسطینیوں سے یک جہتی کے لئے نکالی گئی ریلیوں میں شرکت کی تھی جو کئی روز تک جاری رہیں تھیں۔

تبصرے
Loading...