ہندوستان کا گُھٹنا کشمیریوں کی گردن پر ہے لیکن عالمی برادری کا ردعمل ناکافی ہے، سفیر پاکستان سیرس سجاد قاضی

0 1,395

استنبول یونیورسٹی کلیہ ادبیات نے کشمیر: علاقائی اور عالمی دائرہ کار کے موضوع پر ایک ویبینار کا اہتمام کیا۔ ویبنار کا آغاز شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوق آر نے افتتاحی گفتگو میں ویبنار میں شامل مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کیسے ایک گروہ جبر اور ظلم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے لیکن فلسطین کی مثال میں ساری دنیا نے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کشمیریوں پر ظلم و ستم کے لیے ہر قسم کا اسلحہ استعمال کر رہا ہے۔ خود ساختہ طور پر آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیریوں پر مزید ظلم و ستم بڑھایا گیا اور موبائل ٹیلی فون سروس ختم کرنے ساتھ ساتھ انہیں محصور کر دیا گیا۔

ویبینار سے استنبول یونیورسٹی کلیہ ادبیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر حیات دیول اور استنبول یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محموت آق نے بھی خطاب کیا۔

ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے ترکی میں پاکستان کے سفیر محمد سیرس سجاد قاضی نے خطاب کرتے ہوئے استنبول انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور امریکی بلیک لائیو (جارج فلوئیڈ کے واقعے) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک شخص کی گردن پر پولیس کے جبر سے تحریک جنم لے سکتی ہے تو کشمیر کے ہزاروں لوگوں پر ہونے والا ظلم ہمیں اس قدر بے حس کیسے بنا سکتا ہے۔ کوئی وجہ نہیں کہ دنیا ہندوستان کے ظلم و جبر پر خاموش رہے۔ آج کشمیری بھی سانس لینے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے عالمی برادری اور میڈیا کا داخلہ بند کر دیا ہے اور موبائل انٹرنیٹ سروس اور سوشل میڈیا پر پابندی لگا رکھی ہے۔ اگر انٹرنیٹ بحال بھی کیا گیا تو اس کی اسپیڈ انتہائی کم رکھی گئی وہاں سے کوئی ویڈیو اپ نہ کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا گھٹنہ کشمیر کی گردن پر ہے اور وہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہا کہ کشمیر یہ تک نہ کہہ سکیں کہ وہ سانس نہیں لے پا رہے ہیں۔

سفیر پاکستان نے مزید کہا کہ کشمیر میں ہندوستان بہت بڑا فراڈ کر رہا ہے اور اور اس پر عالمی برادری کا ردعمل ناکافی ہے۔ انہوں نے ایمنیٹسی انٹرنیشنل، اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کا حق زندگی ختم کیا جا رہا ہے، امسال 100 سے زیادہ نوجوان کو شہید کیا گیا ہے۔

آخر پر انہوں نے کہا کہ اگر ہم جارج فلوئیڈ کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں تو خاموشی کو توڑتے ہوئے ہمیں کشمیریوں کے لیے بھی آواز اٹھانا ہو گی اور ہندوستان کو روکنا ہو گا کہ وہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کو بند کرے۔

تبصرے
Loading...