چھ لاکھ شامی بچے ترک تعلیمی نظام میں تیزی سے گھل مل رہے ہیں

0 455

ترک سرکاری عہدیداروں نے سوموار کو اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سکول جانے والے شامی بچے بہت تیزی سے ترکی کے نظام تعلیم میں گھل مل رہے ہیں ۔ ترک وزارت برائے قومی تعلیم کے شعبہ لانگ لائف لرننگ کے ڈائریکٹر جنرل علی رضا التونل نے کہا ہے کہ سکول جانے والے شامی بچوں نے ترکی کے تعلیمی نظام کو اپنانے کا عمل بہت تیزی سے اور بہت بہتر انداز میں طے کیا ہے۔

سکول جانے والے شامی بچوں کی تعداد بڑھانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 972000 میں سے 600000شامی بچہ اس وقت ترکی کے مختلف علاقوں میں قائم کردہ سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہا ہے۔ سکولوں میں داخلہ حاصل کر لینے والے بچوں میں سے 50فیصد سے زائد طلباء ترکی کے تعلیمی نظام کو اپنا چکے ہیں ۔

التونل کے مطابق ان شامی بچوں کو اب ترک طلباء کے ساتھ کلاس روم میں بٹھا کر ترکی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے جس پر ترک حکومت فی بچہ تقریبا500لیرا (127امریکی ڈالر) ہر ماہ خرچ کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صرف شامیوں کی تعلیم پر خرچ کیا جانے والا ترک بجٹ بہت سے یورپین ملکوں کے اس کل بجٹ سے کہیں زیادہ ہے جو انہوں نے اپنے ملکوں میں آکر آباد ہونے والے شامی پناہ گزینوں پر خرچ کیا۔

ترکی میں اس وقت تقریبا 30 لاکھ کے قریب شامی مہاجرین آبادہیں جو شام میں لگی جنگ کے باعث اپنا گھر بار چھوڑکر ہجرت پر مجبور ہو گئے تھے۔ انقرہ ابتک 30ارب ڈالر کی خطیر رقم ان شامی مہاجرین کی آبادکاری پر خرچ کر چکا ہے جو 2011میں جنگ لگنے کے بعد سے ابتک مختلف شامی علاقوں سے آکر یہاں پناہ لیئے ہوئے ہیں۔

رپورٹ: خضر منظور

تبصرے
Loading...