شامی کُرد ترکی کے آپریشن بہارِ امن کے حق میں

0 591

شامی کُرد ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے شروع کیے جانے والے آپریشن بہارِ امن کی حمایت کرتے ہیں، شام کی آزاد کُرد ایسوسی ایشن (SBKR) نے کہا۔

"PKK دہشت گرد تنظیم اور شام میں اس کی شاخوں نے نہ صرف کُردوں بلکہ علاقے کے تمام طبقوں کو مصیبت میں مبتلا کر رکھا ہے۔” ایک بیان میں تنظیم نے کہا۔ "ایک سیف زون کی تکمیل، جو انقلابِ شام کا قومی مطالبہ تھا، اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں سے چھٹکارے کے لیے ہم آپریشن بہارِ امن کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔”

تنظیم نے علاقے کے عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ عسکری علاقوں سے دُور رہیں اور اپنے گھروں سے نہ نکلیں۔ PKK/ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے اشتعال انگیز بیانات کو نہ پھیلائیں،” گروپ نے خبردار کیا۔

شام کی آزاد کرد ایسوسی ایشن (SBKR) اپنے YPG/PYD دہشت گردوں کے مخالف رویے کی وجہ سے معروف ہے۔

گروپ کے سربراہ عبد العزیز تیمو نے پچھلے سال انادولو ایجنسی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ YPG/PKK "کرد قوم کی نمائندہ نہیں۔”

ترکی نے شمالی شام میں انسدادِ دہشت گردی کے لیے بین السرحدی آپریشنز کے سلسلے کا تیسرا آپریشن بہارِ امن شروع کیا ہے کہ جس میں وہ 9 اکتوبر سے PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) اور داعش سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

آپریشن کا ہدف ، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ملک کے دفاع کے حق کے مطابق کیا جا رہا ہے، دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کے قیام اور اس میں شامی مہاجرین کی واپسی ہے جو اس وقت امریکا کے حامی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جس میں YPG کے دہشت گردوں کا غلبہ ہے۔

‏PKK کو ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم مانتے ہیں جس نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے، جس کا نتیجہ بچوں، عورتوں اور شیر خواروں سمیت 40،000 افراد کی موت کی صورت میں نکلا ہے۔ ترکی شمالی شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں موجود اس خطرے کی عرصے سے نشاندہی کر رہا ہے اور اس علاقے میں "دہشت گردوں کے ٹھکانے” بننے سے روکنے کے لیے فوجی کارروائی کر رہا ہے۔

2016ء سے شمال مغربی شام میں ترکی کے فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون آپریشنز مختلف علاقوں کو YPG/PKK اور داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کرا چکے ہیں جس کے نتیجے میں تقریباً 4,00,000 شامی باشندوں کی وطن واپسی کا امکان پیدا ہو رہا ہے۔

تبصرے
Loading...