شامی حکومت آگ سے نہ کھیلے، شہریوں کا لازماً تحفظ کیا جائے: ترکی

0 997

شمال مغربی شام میں ترک فوجی قافلے پر فضائی حملے کے ایک دن بعد کہ جس میں تین شہری ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہوئے، وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے شامی حکومت کو کسی بھی عاقبت نااندیشانہ قدم سے خبردار کیا ہے۔ "حکومت کو چاہیے کہ آگ سے نہ کھیلے۔ ہم اپنے فوجیوں اور ان کی چوکیوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے سب کچھ کریں گے،” چاؤش اوغلو نے دارالحکومت انقرہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں امید ہے کہ معاملہ اس سطح تک نہیں جائے گا۔”

شمال مغربی شام کے علاقے ادلب میں کمزور فائر بندی بشار اسد کی حکومت اور روس کی جانب سے رہائشی علاقوں پر مسلسل حملوں کی وجہ سے خاتمے کے قریب ہے کہ جن میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور تقریباً 4 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ ایک سیاسی حل کو موقع دینے کے لیے ابتداء ہی سے بھرپور سفارتی کوشش کرنے اور یوں نئے انسانی المیے کو روکنے کے لیے انقرہ نے ایک مرتبہ پھر خطے میں استحکام کا مطالبہ کیا ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ شامی حکومت ترک فوج کے خلاف کسی بھی جارحیت سے باز رہے۔

"ہم دنیا پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے حملوں سے معاملہ تباہی کی طرف ہی جائیں گے۔ شام کے مستقبل میں ادلب ایک اہم مقام ہے، ” وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے گزشتہ روز انقرہ میں سیلواڈور کی وزیر خارجہ الیگزینڈرا ہل سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا۔

ایک ترک فوجی قافلہ ادلب میں خان شیخون کے اہم قصبے کے قریب چوکیوں کی جانب جا رہا تھا کہ روس کی پشت پناہی سے بشار اسد کی افواج نے ان پر حملہ کردیا۔ اس حملے میں تین شہری مارے گئے جبکہ 12 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ وزارت نے اس فضائی حملے نےکی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اسے "روس کے ساتھ معاہدوں، تعاون اور مذاکرات کی خلاف ورزی ” قرار دیا اور ایسے واقعات کے دوبارہ رونما ہونے سے روکنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ترکی نے آستانہ مذاکرات کے حصے کے طور پر یہ مشاہداتی چوکیاں بنائی تھیں کہ جن کا آغاز انقرہ، ماسکو اور تہران نے کیا تھا اور جو شام کے ایک سیاسی حل کی تلاش کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ آئینی کمیٹی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ ترکی ادلب میں 12 چوکیاں رکھتا ہے اور ان میں سے ایک مقام مورک ضلع کے خان شیخون سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اگر علاقے میں لڑائی پھیلتی ہے تو مورک مشاہداتی مقام کو محاصرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی جنوبی ادلب میں اپنی نویں مشاہداتی چوکی کو کسی دوسرے مقام پر لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، کہ جو مبینہ طور پر شامی افواج کے گھیراؤ میں ہے، چاؤش اوغلو نے کہا کہ انقرہ حالیہ پیشرفت پر ماسکو کے ساتھ مذاکرات کے لیے تمام رابطہ چینل کھلے رکھے ہوئے ہے۔

ترکی اور روس کے مابین گزشتہ ستمبر میں ہونے والے سوچی معاہدے کے نتیجے میں آٹھ مہینے کے سکون کے بعد ماسکو کی پشت پناہی کی حامل اسد حکومت نے حملوں کی شدت میں اضافہ کردیا ہے کہ جن کا آغاز 26 اپریل کو ادلب میں پناہ لینے والے حیات تحریر الشام (HTS) کے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی کے بہانے سے ہوا۔ تب سے حالات بد سے بدتر ہی ہوئے کہ جن میں ان گنت شہریوں کی جانیں گئی ہیں۔ اندھادھند حملوں میں رہائشی علاقے تباہ ہوئے جبکہ تعلیم و صحت کی متعدد تنصیبات اور رہائشی عمارات تباہ ہو چکی ہیں یا بموں کے ہدف کا نشانہ بننے کے بعد ناقابلِ استعمال ہو چکی ہیں۔

ادلب میں خصوصی علاقے میں اس وقت تقریباً 40 لاکھ شہری آباد ہیں، جن میں لاکھوں حالیہ چند سالوں میں جنگ سے متاثرہ شہروں اور قصبوں میں بے گھر ہوئے ہیں۔

ترک قافلے پر حملے کی امریکا کی جانب سے مذمت، شامی حکومت سے ادلب حملے روکنے کا مطالبہ

امریکا نے ترک قالے پر فضائی حملے کی مذمت کرتے ہوئے شامی حکومت اور اس کی اتحادی افواج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ادلب میں اپنی جارحانہ سرگرمیاں روک دیں۔

"بشار اسد حکومت اور ان کے اتحادیوں کو ادلب میں لازماً فائر بندی کرنا ہوگا،” امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے ٹوئٹر پر کہا۔

” ترک قافلے پر آج فضائی حملہ شہریوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور انفرا اسٹرکچر پر تباہ کن حملوں کے بعد ہوا ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں اور اس سلسلے کا لازماً خاتمہ ہو جائے گا۔”

ایک ہفتے کے لیے سرکاری افواج جنوبی ادلب میں واقع شہر حماۃ کے نواح سے خان شیخون کے قصبے کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور تاری اور سقیق پہاڑیوں، ہبیط قصبے اور الفقیر چیک پوائنٹ پر قبضہ کر چکی ہیں، جو خان شیخون کا مغربی داخلہ سمجھی جاتی ہے۔ نئی پیش قدمی نے سرکاری فوجیوں کو خان شیخون کے مرکز سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر پہنچا دیا ہے، ساتھ ہی حلب اور دمشق کے درمیان M-5 ہائی وے کو کاٹنے کی صلاحیت بھی دے دی ہے۔

شدید بمباری اور سرکاری افواج کی پیش قدمی کے ساتھ ترک فوج نے خان شیخون میں نویں اور دسویں مشاہداتی چوکی پر کمک بھیجی ہے۔ یہ قصبہ 4 اپریل 2017ء کو ایک کیمیائی حملے کا نشانہ بنا کہ جس میں 89 لوگ مارے گئے۔ اس وقت امریکا، برطانیہ اور فرانس نے شامی حکومت پر الزام دھرتے ہوئے کہا کہ ان کے ماہرین نے حملے میں ایک اعصابی ایجنٹ کا استعمال پایا ہے۔ چند دن بعد امریکا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر مرکزی شام کی شعیرات ایئربیس پر 59 ٹوماہاک کروز میزائل داغے، کہا جا رہا ہے کہ خان شیخون پر حملہ اس بیس سے کیا گیا تھا۔

ادلب میں قتل عام روکنے کے لیے مکمل فائر بندی ضروری، ماکرون

فرانس کے شمال مغربی شام میں صدر نے سوچی معاہدے کے مکمل نفاذ پر زور دیا۔ "آج ہم ادلب میں ہونے والے واقعات پر تشویش رکھتے ہیں۔ آج ادلب کی آبادی مسلسل بمباری کی زد میں ہے اور شہری اور بچے مر رہے ہیں،” ایمانوئل ماکرون نے ایک روس کے صدر ولادیمر پوتن کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے قبل گفتگو میں کہا۔

"اور میرے خیال میں صورت حال جلد قدم اٹھانے کی متقاضی ہے اور یہ ضروری ہے کہ فائر بندی کی اس مفاہمت پر عمل درآمد کیا جائے کہ جس پر سوچی میں دستخط کیے گئے تھے،” انہوں نے مزید کہا۔ سوموار کو اس خصوصی علاقے میں سرکاری افواج کے فضائی حملے میں چھ مزید شہری مارے گئے تھے، شہری دفاع کے ادارے وائٹ ہیلمٹس نے بتایا۔

تین افراد معرۃ النعمان کے قصبے میں مارے گئے جبکہ تین حیش میں، ادلب میں وائٹ ہیلمٹس کے ڈائریکٹر مصطفیٰ حاج یوسف نے بتایا۔

ماکرون نے کہا کہ پوتن کے ساتھ مذاکرات کی توجہ یوکرین اور شام میں علاقائی بحرانکے ساتھ ساتھ ایران نیوکلیئر معاہدے کی صورت حال کے حوالے سے بھی ہوگی۔

شام پر ماکرون نے استنبول اور سینٹ پیٹرز برگ میں ترتیب دیے گئے انسانی اقدامات کو جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

شام کی سرکاری افواج روسی فضائیہ کی مدد سے اپریل سے حماۃ اور ادلب میں حزب اختلاف کے ٹھکانوں کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔

فضائی حملوں اور گولا باری کی تین مہینوں پر مشتمل مہم کے دوران طرفین کے 2،000 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں، جنمیں بڑی تعداد شامی اور روسی حملے سے ادلب شہر میں مرنے والے شہریوں کی ہے اور اس سے 4 لاکھ افراد بھی نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ درجنوں صحت مراکز اور تعلیمی ادارے بھی ہدف کا نشانہ بنائے گئے ہیں۔ ادلب سے ترک سرحد کی جانب مہاجرین کی آمد، جسے سرکاری افواج کی پیش قدمی نے مزید تیز کردیا ہے، اس ہفتے بھی جاری رہی کہ جس میں ہزاروں افراد نے اپنے گھر چھوڑے۔ انادولو ایجنسی سے بات کرتے ہوئے محمد حلاج، صدر سیریا انٹروینشن کوآرڈی نیٹرز کے صدر، نے کہا کہ خان شیخون سرکاری افواج کے حملے میں مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے کہ جو فروری سے بھی شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ "آٹھ اسکول، تین صحت مراکز، ایک شہری دفاع کا مرکز اور تین بیکریاں سرکاری اور روسی افواج کے فضائی حملوں کا نشانہ بنیں،” انہوں نے کہا۔ حلاج نے مزید بتایا کہ خان شیخون کی آبادی، جو حملے سے قبل تقریباً 1 لاکھ تھی، اب تقریباً صفر ہو چکی ہے۔

سرکاری افواج کی پیش قدمی ، شامی حزب اختلاف کا ادلب سے انخلاء

دریں اثناء، حزب اختلاف کے گروپوں نے جنوبی ادلب صوبے کے قصبے خان شیخون اور ملحقہ حماۃ صوبے میں اپنے آخری علاقے سے جزوی واپسی شروع کردی ہے، سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس اور مقامی رہنماؤں نے بتایا۔

شامی سرکاری افواج سوموار کو خان شیخون میں داخل ہوئیں۔ یہ قصبہ 2014ء سے حزب اختلاف کے قبضے میں تھا۔ پڑوسی حماۃ صوبے میں حزب اختلاف کے قدم آٹھ سال طویل تنازع کے ابتدائی دنوں سے جمے ہوئے تھے۔

خان شیخون کو 2017ء میں ایک کیمیائی گیس حملے کا ہدف بنایا گیا تھا جس کے بعد شام پر امریکی میزائل حملے ہوئے تھے۔

اقوام متحدہ اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی انجمن (OPCW) کی جانب سے کی گئی تحقیقات میں کہا گیا کہ شامی حکومت 4 اپریل 2017ء کو اس قصبے پر سارین گیس چھوڑنے کی ذمہ دار تھی، جبکہ دمشق نے ایسے ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کی۔

روس کی حمایت یافتہ شامی حکومت کی خان شیخون کی طرف پیش قدمی سے حزب اختلاف کے جنگجوؤں کے شمالی حماۃ کے آخری علاقوں لطامنہ اور کفر زیتا میں محصور ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

مقامی کارکنوں کے مطابق حزب اختلاف کے جنگجوؤں نے قصبے چھوڑ دیے ہیں۔ آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے جنگجو جو پیچھے رہ گئے تھے، اب مورک میں ترک مشاہداتی مقام پر جمع ہو گئے ہیں۔

HTS کی جانب سے گزشتہ روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم "نئی صف بندی” کے لیے تھی اور خان شیخون کے جنوبی حصوں سے واپس آنے والے اس کے جنگجو اپنے علاقے کا دفاع جاری رکھیں گے۔

تبصرے
Loading...