Browsing Tag

ترکی آذربائیجان تعلقات

کیا ترکی آذربائیجان میں فوجی اڈہ بنائے گا؟

سابق سوویت ملکوں میں سیاسی اور ابلاغی حلقوں میں جمہوریہ آذربائیجان میں ترک فوجی اڈے کے قیام کے حوالے سے مسلسل بات چل رہی ہے۔ آذربائیجان میں ترک فوج کی موجودگی پر گفتگو کا تعلق ہمیشہ سے ماسکو اور انقرہ کے مابین تعلقات کی سرد مہری یا گرم جوشی…

ہم آذربائیجان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، صدر ایردوان

استنبول میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آرمینیا آذربائیجان میں شہری علاقوں پر مسلسل حملے اور گولاباری کر رہا ہے۔ ان حملوں کے جواب میں آذربائیجان نے اپنی سرزمین اور اپنے لوگوں کی حفاظت…

ترکی آذربائیجان کے حقوق پر کسی بھی حملے کے خلاف کھڑا ہونے سے دریغ نہیں کرے گا، صدر ایردوان

صدارتی کابینہ کے اجلاس کے بعد اپنے خطاب میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "ترکی آذربائیجان کے حقوق غصب کرنے کی کوشش اور اس کی سرزمین پر کسی بھی حملے کے خلاف کھڑا ہونے سے دریغ نہیں کرے گا، کیونکہ اس کے آذربائیجان کے ساتھ گہرے دوستانہ اور برادرانہ…

ترکی اور آذربائیجان نے اپنے شہریوں کو بغیر ویزے کے سفر کی اجازت دے دی

انقرہ اور باکو نے پاسپورٹ رکھنے والے اپنے تمام شہریوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کر دی ہے۔ معاہدے کا مقصد، جس پر 25 فروری کو آذربائیجانی دارالحکومت میں دستخط کیے گئے تھے، "دونوں ملکوں کے شہریوں کے سفر کو آسان بنا کراُن کے دوستانہ تعلقات اور…

آذربائیجان کی قومی اسمبلی نے ترکی کے ساتھ 4 معاہدوں کی منظوری دے دی

آذربائیجان کی قومی اسمبلی نے ویزا سے استثنا، ترجیحی تجارت، مالیاتی مدد اور فوجی تعاون کے شعبوں میں ترکی کے ساتھ ہونے والے چار معاہدوں کی منظوری دے دی ہے۔ عسکری مالیاتی تعاون کا معاہدہ، ترجیحی تجارت کا معاہدہ، سکیورٹی تعاون کا معاہدہ…

کروناوائرس کے خلاف جنگ، آذربائیجان کی جانب سے ترکی کا شکریہ

آذربائیجان کی ایک اہم رہنما نے کروناوائرس کے خلاف اظہارِ یکجہتی پر ترکی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ نائب صدر مہربان علیفا نے انسٹاگرام پر کہا کہ "میں برادر ملک ترکی کا تہہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ دونوں ہمیشہ شانہ بشانہ رہتے ہیں، خوشی کے لمحات میں…

‏2023ء تک آذربائیجان کے ساتھ تجارتی حجم کو 15 ارب ڈالرز تک پہنچائیں گے: صدر ایردوان

آذربائیجان کے صدر الہام علیف کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "2019ء میں ہم تقریباً 4.5 ارب ڈالرز کا تجارتی حجم رکھتے تھے۔ ہمارا ہدف 2023ء تک اس کو 15 ارب ڈالرز تک لے جانا ہے۔ ہمیں اس ہدف کو…