طالبان نے افغان الیکشن کمیشن کے ادارے تحلیل کر دئیے

0 1,121

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان بلال کریمی نے آزاد الیکشن کمیشن (آئی ای سی) اور انڈیپینڈنٹ کمپلینٹ کمیشن کے حوالے سے کہا کہ "ان کمیشنز کے موجود رہنے اور کام کرتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”، اس حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ "اگر کبھی ان اداروں کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہیں بحال کردیا جائے گا”۔

کمیشن کی ویب سائٹ کے مطابق 2006 میں قائم ہونے والے آئی ای سی کے پاس صدارتی انتخاب سمیت ہر قسم کے انتخابات کی نگرانی کا اختیار تھا۔

اشرف غنی حکومت کے خاتمے تک الیکشن کمیشن کے سربراہ رہنے والے اورنگزیب کا کہنا تھا کہ: "انہوں نے یہ فیصلہ جلد بازی میں لیا ہے اور کمیشن کو تحلیل کرنے کے سخت نتائج ہوں گے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ: "مجھے 100 فیصد یقین ہے کہ اگر اسے ختم کردیا گیا تو یہاں کبھی انتخابات نہیں ہو سکیں گے اور افغانستان کی مشکلات بھی حل نہیں ہوسکیں گی”۔

عالمی سطح پر افغان حکومت اپنی حکومت کو تسلیم کروانے اور عالمی امداد حاصل کرنے کے لیے کئی ماہ سے تگ و دو کر رہی ہے، تاہم اس فیصلے کے بعد ان پر دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

بلال کریمی کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکام نے رواں ہفتے وزارت امن اور وزارت پارلیمانی امور کو بھی تحلیل کردیا ہے۔

اس سے قبل طالبان نے اقتدار میں آنے کے بعد فوری طور پر وزارت امور خواتین کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور اس کی جگہ ایک نئی وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر قائم کی گئی تھی۔ اسی وزارت کے تحت گذشتہ روز قحط سالی کے خاتمے کے لیے اجتماعی دعاء کا اہتمام کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یہی وہ وزارت تھی جو 1990ء کی دہائی میں طالبان کے پہلے دور اقتدار کے دوران مذہبی نظریے کو سختی سے نافذ کرنے کی وجہ سے عالمی سطح پر بدنام ہوئی اور کئی مسلمان ممالک نے اس سختی کو ناپسند کیا تھا۔

طالبان، بین الاقوامی برادری پر اربوں ڈالر کی روکی ہوئی امداد بحال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں اور اس بار انہوں نے زیادہ معتدل طرز حکمرانی کا عہد کیا ہے۔

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: