طالبان نے کابل میں خواتین مظاہرین کو ہوائی فائرنگ کے ذریعے منتشر کر دیا

0 832

اے ایف پی کے صحافیوں نے مطابق طالبان نے جمعرات کو خواتین کے حقوق کے ایک چھوٹے سے مظاہرے پر تشدد کیا، ہوا میں گولیاں چلائیں اور مظاہرین کو پیچھے دھکیل دیا۔ 

مشرقی کابل کے ایک ہائی سکول کے باہر چھ خواتین کا ایک گروپ جمع ہوا جس میں لڑکیوں کے سیکنڈری سکول میں واپس آنے کے حق کا مطالبہ کیا گیا، ان لڑکیوں کو اسلام پسند گروپ نے انہیں اس ماہ کے شروع میں پردہ نہ کرنے کی وجہ سے کلاسوں سے خارج کر دیا تھا۔ 

خواتین نے ایک بینر لہرایا جس پر لکھا تھا کہ "ہمارے قلم نہ توڑیں، ہماری کتابیں نہ جلائیں، ہمارے اسکول بند نہ کریں”، طالبان محافظوں نے یہ بینر ان سے چھین لیے۔ 

اے ایف پی کے صحافیوں نے دیکھا کہ ایک طالبان جنگجو نے اپنے خودکار ہتھیار سے ہوا میں گولیوں کا ایک مختصر برسٹ بھی جاری کیا۔

 "افغان خواتین کارکنوں کی بے ساختہ تحریک” نامی گروپ کی خاتون مظاہرین نے فائرنگ کے بعد اسکول کے اندر پناہ لے لی۔

طالبان کے محافظ مولوی نصرت اللہ، جو اس موقع پر طالبان کی قیادت کر رہے تھے، انہوں نے اپنی شناخت کابل میں سپیشل فورسز کے سربراہ کے طور پر کی، انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے "اپنے احتجاج کے حوالے سے سیکورٹی حکام کے ساتھ تعاون نہیں کیا”۔

انہوں نے کہا کہ انہیں دوسرے ملکوں کی طرح ہمارے ملک میں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے۔

طالبان کے اقتدار پر قبضے کے بعد سب سے زیادہ خواتین کی ریلیاں نکالی گئیں ہیں، تاہم مغربی شہر ہرات میں ایسے ہی ایک مظاہرے کے دوران دو افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ 

اس واقعے کے بعد مظاہروں میں کمی آئی ہے جب کہ طالبان حکومت نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں بلا اجازت مظاہرے اور شریعت کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے "سخت قانونی کارروائی” کا انتباہ دیا گیا ہے۔

دوسری طرف طالبان انتظامیہ نے اسکولوں میں لڑکیوں کو طے شدہ شرعی پردہ نہ کرنے کے جرم میں اخراج کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکوں سے ملنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

 

تبصرے
Loading...