طالبان کو قبضے کی سیاست چھوڑنا ہوگی، صدر ایردوان

0 2,210

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کو قبضہ کرنے کی سیاست چھوڑنا ہوگی، کیونکہ یہ غلط طریقہ ہے۔

شمالی قبرص کے لیے روانگی سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ طالبان کو اپنے ہی بھائیوں کی سرزمین پر قبضے کی روش چھوڑنا پڑے گی۔

افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلا حتمی مراحل میں ہے اور اس دوران ملک بھر میں طالبان کی جارحیت بھی اپنے عروج پر ہے اور وہ کئی علاقوں پر قبضے کر رہے ہیں۔ خبروں کے مطابق ملک کے 400 اضلاع میں سے تقریباً آدھے اُن کے قبضے میں ہیں اور کئی اہم غیر ملکی سرحدی راستے بھی ان کے پاس ہیں۔ اس وقت کئی صوبائی دارالحکومت مکمل طور پر طالبان کے محاصرے میں ہیں۔

امریکی افواج 11 ستمبر 2001ء کے بعد تقریباً دو دہائیاں افغانستان میں مقیم رہیں اور بالآخر ایک معاہدے کے تحت رواں سال افغانستان سے نکل رہیں۔ ان کی روانگی کے بعد خدشہ ہے کہ افغان افواج اہم فضائی امداد سے محروم ہو جائیں گی اور یوں طالبان کو ایک مرتبہ پھر آگے بڑھنے کا موقع مل رہا ہے۔ اب ملک ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کی دہلیز پر ہے، جس نے گزشتہ چار دہائیوں سے ملک کی چولیں ہلا دی ہیں۔

ترکی کا کابل ایئرپورٹ مشن، مواقع اور خطرات

بہرحال، صدر ایردوان نے مزید کہا کہ کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے طالبان کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

ترکی افغانستان میں غیر فوجی کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس نے کابل کے ہوائی اڈے کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں کیونکہ یہ دارالحکومت کا اہم ترین داخلی دروازہ ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں سفارت خانوں کے کام جاری رکھنے کے لیے بھی ہوائی اڈے کی حفاظت ضروری ہے۔

کابل کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ افغان صدارتی محل اور غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب واقع ہے اور ہنگامی صورت میں اگر سفارت کاروں کو نکالنا پڑا تو یہی وہ واحد مقام ہوگا جہاں سے ایسا ممکن ہے۔

ترکی ہوائی اڈے کے مستقل اور محفوظ آپریشن اور افغانستان میں سفارت خانوں کا کام جاری رکھنے کے لیے اِس بوجھ کو بانٹنا چاہتا ہے۔ جون میں نیٹو سربراہان کے ساتھ مختلف ملاقاتوں کے بعد صدر ایردوان نے کہا تھا کہ ترکی چاہتا ہے کہ امریکی قیادت میں نیٹو افواج کی روانگی کے بعد پاکستان اور ہنگری افغانستان میں قیامِ امن کے لیے اس کے ساتھ کام کریں۔

البتہ طالبان انقرہ کی اس تجویز کے خلاف ہیں، جن کا کہنا ہے کہ ترکی کو بھی 2020ء میں امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے مطابق اپنے دستے نکالنے ہوں گے۔

تبصرے
Loading...