افغان حکومت کو زیادہ بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، اقوام متحدہ، عالمی ادارے اور ممالک مالی مدد کریں، طالبان ترجمان کے حوالے سے پاکستانی صحافی کی رپورٹ

0 1,819

افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کے حوالے سے پاکستانی صحافی بکر عطیانی کی رپورٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم افغانستان کے لوگ ہیں اور اپنے لوگوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک سال کا نہیں بلکہ 25 سال کا تجربہ ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں کسی بھی حکومتی نظام کو کابل حکومت کے مقابلے میں چلانے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا طالبان کے پاس اپنے زیر قبضہ علاقوں میں روز مرہ کے امور کو چلانے کے لیے وسائل موجود ہیں تو ان کا کہنا تھا: "ہم افغانستان کے لوگ ہیں اور اپنے لوگوں کے درمیان رہ رہے ہیں۔ ہمارے پاس صرف ایک سال کا نہیں بلکہ 25 سال کا تجربہ ہے۔ ہمارے گورنر، سکیورٹی سربراہان، صوبائی سکیورٹی حکام، جج اور تمام کمشنز، جو وزارتوں کے برابر ہیں، گذشتہ 25 سال سے کام کر رہے ہیں۔ ہمارے تمام لوگ تجربہ کار ہیں، بلکہ وہ کابل حکومت میں موجود افراد سے زیادہ تجربہ رکھتے ہیں”۔

طالبان ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کے قبضے میں جانے والی سرحدی کراسنگز میں لوگوں اور اشیا کی آمد و رفت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور تاجر ’معمول کے مطابق‘ اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔

سہیل شاہین کے مطابق "اسلامی امارت کے تحت اب ایسا بغیر بدعنوانی اور آسانی سے معمول کے مطابق ہو رہا ہے اور یہ لوگ اس سے خوش ہیں”۔

تاہم انہوں نے اقوام متحدہ اور دوسرے عالمی اداروں اور ممالک سے طالبان کی مالی مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "عوام کو سہولیات کی فراہمی اہم ہے۔ ہم تقریباً افغانستان کے 85 فیصد علاقے کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس لیے ان علاقوں میں دفاتر کو فعال رکھنے کے لیے ہمیں مالی مدد کی ضرورت ہے”۔

تبصرے
Loading...