کابل میں ترکی کی موجودگی پر طالبان کا انتباہ

یہ فیصلہ ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے، طالبان

0 1,836

طالبان نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کے انخلا کے ساتھ ترکی افغانستان میں اپنی موجودگی کو توسیع نہ دے اور اس فیصلے کو ناقابلِ برداشت قرار دیا ہے۔

منگل کو جاری کیے گئے ایک بیان میں طالبان کا کہنا ہے کہ "یہ فیصلہ کوتاہ اندیشی پر مبنی ہے اور ہماری علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اور ہمارے قومی مفادات کے برعکس ہے۔”

ترکی نے بین الاقوامی افواج کی روانگی کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت کے لیے اپنی فوج فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔

افغانستان میں ترکی کی افواج ہمیشہ سے غیر جنگی سرگرمیاں انجام دیتی ہیں، لیکن اب حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی حفاظت کے حوالے سے پیشکش نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ نقل و حمل کے اہم راستے اور ہوائی اڈے کی حفاظت کو کیسے یقینی بنایا جائے گا کہ جو دارالحکومت کابل کا اہم داخلی راستہ ہے۔ ہوائی اڈے کی حفاظت افغانستان میں موجود سفارت خانوں کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔

ترکی کا کابل ایئرپورٹ مشن، مواقع اور خطرات

نیٹو کے رکن ممالک کے سربراہان کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے کہا تھا کہ ترکی امریکی انخلا کے بعد افغان مشن میں پاکستان اور ہنگری کی شمولیت کا خواہاں ہے۔

البتہ طالبان انقرہ کی اس تجویز کے مخالف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ترکی کو بھی 2020ء کے معاہدے کی روشنی میں اپنی افواج نکالنا ہوں گی۔

رواں سال 11 ستمبر تک تقریباً 2,300 سے 3,500 باقی ماندہ امریکی فوجی اور لگ بھگ7,000 اتحادی نیٹو دستے افغانستان چھوڑ دیں گے، جس کے ساتھ ہی ملک میں 20 سال فوجی مداخلت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

افغان حکومت اور اس کی فوج کے حوالے سے خدشات بدستور موجود ہیں، جو اس انخلا کے لیے تیار نہیں ہیں اور ہو سکتا ہے افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہو جائے۔

نائن الیون کے وقت افغانستان پر طالبان حاکم تھے جب امریکا نے اتحادی افواج کے ساتھ مل کر اس پر حملہ کیا اور طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ اب گزشتہ چند ہفتوں سے طالبان جنوبی اور شمالی افغانستان کے کئی اضلاع پر قبضہ کر چکے ہیں اور سرکاری افواج ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہیں۔

تبصرے
Loading...