آپریشن شاخ زیتون: اب تک 1266 دہشتگرد ہلاک کر دئیے گئے

0 1,170

ترک ملٹری کے بیان کے مطابق شمال مغربی شام میں واقع عفرین میں جاری ترک فوج کے آپریشن شاخ زیتون میں پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی اور داعش کے 1126 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ترک ملٹری کی جانب سے گرفتار زندہ یا مردہ دہشتگردوں کے لیے یا دوران آپریشن ہتھیار ڈالنے والوں کے لیے "غیر موثر بنائے گئے” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ تاہم یہ لفظ عمومی طور پر دوران آپریشن مارے جانے والے دہشتگردوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فوجی بیان کے مطابق ترک جیٹ یاروں نے شمالی شام میں پی وائے جی اور داعش کی پناہ گاہوں، غاروں اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا۔

مزید بتایا گیا ہے کہ آپریشن کے 23 ویں دن 19 اہداف تباہ کئے گئے جس میں 86 دہشتگرد ہلاک ہوئے۔

دوسری طرف ہفتہ کے روز ایک اور فوجی بیان میں بتایا گیا تھا کہ آپریشن شاخ زیتوں کے دوران جھڑپوں میں 9 ترک فوجی شہید جبکہ 11 زخمی ہو گئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ترک ہیلی کاپٹر گرانے والوں کو خبر دار کیا تھا کہ وہ حساب دینے کے لیے تیار رہیں۔ ہیلی کاپٹر میں سوار 2 ترک فوجی شہید ہوئے تھے۔

آپریشن شاخِ زیتون ترکی کی طرف سے شامی صوبہ عفرین میں پی کے کے/پی وائے ڈی/وائے پی جی/کے سی کے اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف 20 جنوری کو شروع کیا گیا تھا۔

ترک جنرل اسٹاف کے مطابق آپریشن کا مقصد ترک سرحدوں کے ساتھ خطے میں سیکورٹی اور استحکام قائم کرنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردوں کے ظلم اور بربریت سے شامی عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ آپریشن بین الاقوامی قانون اور یو این سیکورٹی کونسل کے قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ترکی کے حقوق کے تحت ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لیے قدم اٹھانے کا حق ہے تاہم اس سلسلے میں شام کی سالمیت کا احترام کیا جائے گا۔

ملٹری نے کہا ہے کہ یہ بات "انتہائی اہمیت” رکھتی ہے کہ اس آپریشن میں کسی سویلین کو نقصان نہ پہنچے۔

تبصرے
Loading...