انٹیلی جنس ڈپلومیسی میں اپنے کارناموں کی بدولت ہم اپنے دیگر کام زیادہ طاقت اور عزم کے ساتھ کر سکتے ہیں، صدر ایردوان

0 650

استانبول میں نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (‏MIT) کی نئی سروس بلڈنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "غیر ملکی انٹیلی جنس میں اپنے بڑھتے ہوئے اثرات کی بدولت ہمارے ملک نے علاقائی اور عالمی طاقت کی حیثیت سے تمام پلیٹ فارمز اپنا مقام حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ انٹیلی جنس ڈپلومیسی میں اپنے کارناموں کی بدولت ہم اپنے دیگر کام زیادہ طاقت اور عزم کے ساتھ کر سکتے ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے استانبول میں نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (‏MIT) کی نئی سروس بلڈنگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔

"ہمارا ہدف ترکی کو استانبول کو دنیا کے بہترین مالیاتی، تجارتی، طبی، تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک بنانا ہے”

استانبول کو ترکی کا ہی نہیں بلکہ ایک عالمی شہر قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "جو قدم ہم یہاں اٹھاتے ہیں، ہر سرگرمی پوری دنیا کی توجہ حاصل کرتی ہے۔ گزرگاہ اور تجارت کے عالمی مرکز کی حیثیت سے استانبول ہمیشہ سے تزویراتی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ آج بھی اس شہر کی کشش اپنی جگہ موجود ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہر عظیم تہذیب اور ریاست کی طرح ہمارے آبا و اجداد نے بھی استانبول کو فتح کرنے کا خواب دیکھا اور اس کے لیے ایک عظیم جدوجہد کی۔ ہمارے آبا و اجداد کے خواب کی تکمیل کا سہرا محمد فاتح کے سر پر بندھا۔ ہم نے دیکھا کہ اس فتح عظیم کو صدیاں گزر گئیں لیکن استانبول ترکوں اور مسلمانوں کا ہے، اس حقیقت کو اب تک تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ آیا صوفیا مسجد کو عبادت کے لیے دوبارہ کھولنے کے عمل کے دوران ہم نے ایک مرتبہ پھر دیکھا کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن سے استانبول کی ترک شناخت ہضم نہيں ہو رہی، جو 1453ء سے موجود ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ہمارا ہدف استانبول کو دنیا کے بہترین مالیاتی، تجارتی، طبی، تعلیمی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک بنانا ہے۔ اس وژن کا ایک پہلو استانبول کو دنیا کے محفوظ ترین شہروں میں سے ایک بنانا بھی ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ہماری انٹیلی جنس آرگنائزیشن پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ ایک ایسے جغرافیہ میں رہنے کے لیے ایک ضروری ہے کہ ہمارے ملک کے خلاف سرگرمیاں اور کوششیں کرنے والے ملکوں اور دہشت گرد تنظیموں کے منصوبے خاک میں ملائے جائیں۔”

"‏MIT نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ فارن انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی کامیابی سے کی ہیں”

انٹیلی جنس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے صدر نے ‏MIT کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا: "ہماری آرگنائزیشن ‏PKK، FETO، داعش اور DHKP-C جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف جنگ کے ساتھ ساتھ فارن سکیورٹی، فارن انٹیلی جنس اور کاؤنٹر انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی کامیابی سے کرتی ہے۔”

تبصرے
Loading...