مسلسل بے یقینی کا دور اور تواضع ۔ ابراہیم قالن

0 199

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسوسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نثر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔

بے یقینی اکیسویں صدی کے انسان کی زندگی کا اہم ترین جزو بن چکا ہے۔ یہ بے یقینی ہمارے اندر اس حد تک سرایت کرچکی ہے کہ بے یقینی کی تھیوری کا موجد ہائزن برگ بھی اگر آج کے انسان کی زندگی دیکھ لے تو عدم استحکام اور بے یقینی کی یہ سطح دیکھ کر ششدر رہ جائے۔ یہ اپنی جگہ ایک مضحکہ خیز چیز ہے کیونکہ موجودہ دور کو روشن خیال عقل پسندی، سائنس اور آزادی کا دور سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پوسٹ ماڈرن اور پوسٹ انڈسٹریل دنیا کے تلخ حقائق کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔

موجودہ دور کے تضادات صرف ایک بے یقینی کے اصول تک ہی محدود نہیں ہیں۔ اس دور کو تو انسانیت کی معراج کا دور ہونا تھا کہ جہاں ہگسلے کی "نئی بہادر دنیا” انسانی زندگیوں کی حفاظت کے ذریعے شرف انسانی کے تاج کا حق ادا کرتی۔ جدیدیت کے وعدوں میں انصاف، ہر قسم کی آزادی اور کلی مساوات شامل تھے۔ لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی آنکھوں کے سامنے 21ویں صدی میں چند انتہائی غیر انسانی اور وحشیانہ جرائم کا ارتکاب ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ صرف مہاجرین کا عالمی مسئلہ ہی موجودہ ورلڈ آرڈر کے علمبرداروں کے خوشنما چہروں کے پس منظر میں چھپی منافقت اور دوہرے معیار کا بھانڈا پھوڑنے کو کافی ہے۔ شامی، لیبیائی، افغانی، صومالی اور روہنگیائی مہاجرین اپنے ساتھ روا رکھے گئے تعصب اور تذلیل کی شرمناک کہانی سناتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ ان کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کی وجہ ان کا مسلمان ہونا ہے اس حقیقت سے پردہ اٹھاتی ہے کہ موجودہ دور میں بھی نسل پرستی اور نسلی تعصب کو مرکزی مقام حاصل ہے۔

بے یقینی کا تعلق دراصل موجودہ عالمی نظام سے ہے۔ طاقت کے حصول کی دوڑ، نیشن سٹیٹ کی قباحتیں، پراکسی جنگیں، سول وارز اور قوموں کے باہمی کارپوریٹ مفادات دنیا کی موجودہ صورتحال پر بری طرح اثرانداز ہو رہے ہیں۔ اقدار اور مفادات کچھ اس شدت سے ٹکرا رہے ہیں کہ مختلف قومیتوں کو ایک نکتہ اشتراک پر اکٹھا کرنا قریب قریب ناممکن ہو چلا ہے۔ حال اور مستقبل کے بارے میں یہ بے یقینی کسی صورت ایک بہتر دنیا کی جانب رہنمائی نہیں کرتی۔

تاہم یہ بے یقینی یا غیریقینی مکمل طور پر کوئی بری چیز نہیں ہے۔ یہ ہمیں انسانی صورتحال اور ہماری خودساختہ طاقت کی حدود سے آگاہ رکھتی ہے۔ یہ ہمیں غیر متوقع صورتحال کے لے تیار رکھتی ہے۔ یہ ہمیں تروتازہ اور فعال رکھتی ہے کہ ہم کسی بھی اچھے یا برے وقت کے لیے تیار ہوجائیں۔

تاہم اس سب سے بڑھ کر یہ بے یقینی ہمیں جو چیز سکھاتی ہے وہ تواضع ہے۔ تواضع، ایک ایسی بنیادی اہمیت کی حامل صفت جسے آج جدید دنیا کے باسی بھول چکے ہیں۔ روشن خیال ترقی پسندی کے اس فلسفے نے انسان کو ازخود مصروف عمل اس لامتناہی کائنات کے مرکزی نقطے پر لا کھڑا کیا ہے اور خدا اور خدائی تخلیق کے قدیم تصورات سے اپنی جان چھڑا لی ہے۔ اس طرح اس نے انسان کو کائنات کا مالک قرار دے دیا ہے۔ سائنسی ترقی کے زور پر حاصل صلاحیتوں اور ذرائع اور ٹیکنیکل ترقی کے بل پر یہ روشن خیال انسان خود کو اس کائنات کا نیا مالک حقیقی گردانتا ہے۔ ابھی اس تصور کو عام ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کائنات کا یہ خود ساختہ مالک اپنے اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے استحصالی قوت بن بیٹھا ہے۔

از خود خدا بن کر انسانیت کی خدمت ممکن نہیں ہے۔ہم کائنات کے مالک نہیں بلکہ اس کا ذمہ دار اور قابل اعتماد جزو ہیں۔ قدرت، طاقت اور کائنات میں تصرف کا اختیار ہمیں امانت کے طور پر عطا کیا گیا ہے ہمارے اوپر اس بار امانت کو اٹھانے اور اس کا حق ادا کرنے کی بھاری ذمہ دار عائد ہوتی ہے۔ کائنات کی ملکیت کا زعم باطل نسل تفاخر میں پوری طرح سے جھلکتا ہے جو چند انسانوں کو دیگر کے اوپر آقا بنا کر انھیں ان کے استحصال کا حق فراہم کر دیتا ہے۔

کائنات میں ذمہ دار اور امانت دار ہونے کا مطلب جھوٹی امن پسندی اور راہبانہ زندگی نہیں ہے۔بلکہ اس کے برعکس یہ انسان اور قدرت کے درمیان مزید متوازن، انسانی اور مثبت تعلق کو پروان چڑھاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قدرت اور اس کے عناصر کا تحفظ کرتے ہوئے انسانی ضروریات اور مفادات کو بجا لایا جائے۔

شاید بے یقینی ازخود کوئی مطلوب رویہ نہیں ہے۔ یقین اور یکسوئی ہمارے عقائد اور افعال کا لازمی جزو ہے۔ تاہم جدید تہذیب کے عطا کردہ جھوٹے زعم بڑائی اور تکبر کا رد کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہمیں اپنے مقام، کردار اور ذمہ داریوں کا ادراک ہو تاکہ ہم کائنات اور دیگر انسانوں کے ساتھ عاجزی اور برابری کے رویے اپنا سکیں۔ ہم جس کائنات کے مالک ہونے کے مدعی ہیں، اسی کو تباہ کرکے دراصل ہم اپنے حال اور مستقبل کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہم یہ سادہ مگر بنیادی کردار سمجھ جائیں گے اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے۔

(بشکریہ: صباح نیوز؛ مترجم: اسامہ عبدالحمید)

تبصرے
Loading...