کرونا وائرس کی وباء ماحولیاتی نظام کی خرابی کے نتائج میں سے ایک ہے، صدر ایردوان

0 113

حیاتی تنوّع (biodiversity) پر ایک اجلاس کے لیے دیے گئے وڈیو پیغام میں صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "Covid-19 کی وباء ماحولیاتی نظام کی خرابی کے نتائج میں سے ہے۔ وباء نے حیاتی تنوّع کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور شفاف دنیا چھوڑنے کی اہمیت ظاہر کی ہے۔”

صدر ایردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سیشن کے موقع پر منعقد ہونے والے حیاتی تنوّع پر ایک اجلاس کے لیے وڈیو پیغام بھیجا۔

صدر ایردوان نے کہا کہ انسانیت ایک مشکل اور تکلیف دہ دور سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف ہم کرونا وائرس کی وباء سے لڑ رہے ہیں، جو پچھلی ایک صدی میں صحت کا سب سے بڑا بحران ہے؛ تو دوسری جانب ہم وباء کے منفی اثرات سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "Covid-19 کی وباء، ایک صحت کا مسئلہ ہونے کے ساتھ ساتھ، ماحولیاتی نظام کی خرابی کے نتائج میں سے ایک ہے۔ وباء نے حیاتی تنوّع کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک صحت مند اور شفاف دنیا چھوڑنے کی اہمیت ظاہر کی ہے۔ وہ فطرت جس میں آج ہم اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، ہمارے آبا و اجداد کا دیا گیا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہمارے لیے اپنے بچوں کے لیے چھوڑا جانے والا ورثہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ وباء کے بعد انسانیت معاشی و سماجی انصاف کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے بھی ضروری اسباق حاصل کرے گی۔”

"ہم تحفظ، ماحول دوست استعمال اور حیاتی تنوّع کی بحالی کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں”

تین مختلف موسمیاتی علاقوں اور تین حیاتی جغرافیائی علاقوں میں واقع ترکی قدرتی مساکن کے عظیم تنوّع کا حامل ہے، جس کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نہ صرف براعظموں اور ثقافتوں بلکہ موسموں کے سنگم پر بھی واقع ہیں۔ حالیہ چند سالوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے ساتھ ہم نے اس کی فطرت کو مزید بڑھایا ہے۔ ہم نے ترکی کے جنگلات اور درختوں میں اضافے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کی ہے، تاکہ حیاتی تنوّع کو بہتر اور ماحول کو محفوظ بنایا جا سکے۔ 4.5 ارب درختوں کی شجر کاری کے ساتھ ہم نے اپنے جنگلاتی وسائل کو 20.8 ملین ہیکٹرز سے بڑھا کر 23 ملین ہیکٹرز تک پہنچایا ہے۔ گو کہ تاریخی لحاظ سے ہم اس لحاظ سے غافل نہیں رہے، لیکن ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں صفِ اول میں ہیں۔ اگلے دس سال انسانیت کی قسمت طے کریں گے۔ ماحولیات دوست ترقیاتی اہداف کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ہمیں حیاتی تنوّع کی حفاظت کے لیے جدید، مؤثر اور عملی منصوبوں کی ضرورت ہے۔ میرا ماننا ہے کہ گلوبل بایوڈائیورسٹی فریم ورک، جو اس وقت کام کر رہا ہے، ایک ایسے نقشہ راہ پر مشتمل ہوگا جس میں 2050ء تک کے لیے مؤثر اور عملی اہداف شامل ہوں گے۔”

تبصرے
Loading...