یورپی یونین کو ترکی کے ساتھ اپنے تعلقات کو تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے، صدر ایردوان

0 83

اسپین کے صدر پیدرو سانچیز کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم نے مثبت ایجنڈے کے نفاذ کے ہدف کے ساتھ مذاکرات اور سفارتکاری کے حق میں اپنے اصولی رویے اور کوششوں پر عملی مظاہرہ کیا ہے۔ اسی لیے یورپی یونین کو ہمارے ساتھ اپنے تعلقات کو تزویراتی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے اور ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان اور اسپین کے صدر پیدرو سانچیز نے باہمی ملاقات اور 7 ویں ترکی-اسپین بین الحکومتی اجلاس کے بعد ایوان صدر میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس موقع پر صدر ایردوان نے کہا کہ "آج کے اجلاس کے دوران ہم نے اپنے باہمی تعلقات کو مستقبل میں ایک ‘جامع شراکت داری’ قرار دیا۔ اس کے علاوہ ایک ‘بعد از اجلاس میکانیہ’ ترتیب دے کر ہم ان معاملات کے عملی نفاذ کی قریبی نگرانی کریں گے کہ جن کا ہم نے فیصلہ کیا ہے اور ایک ڈھانچہ مرتب کیا ہے تاکہ آئندہ اقدامات کا منصوبہ بنائیں۔”

"ہم اسپین کے ساتھ دفاعی صنعت میں مختلف منصوبوں پر کام کر رہے ہیں”

ترکی اور اسپین کے درمیان باہمی تجارت حجم کی بات کرتے ہوئے کہ جو پہلے ہی کووِڈ-19 کی وبا کے منفی اثرات کے باوجود گزشتہ سال کے مقام پر پہنچ چکا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ "البتہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے 20 ارب ڈالر کے اپنے ہدف کو حاصل کر لیا ہے۔ ہم نے 20 ارب ڈالر کا ہدف طے کیا ہے اور میرا اور میرے عزیز دوست اس ہدف کو حاصل کر لیں گے۔ ہم 2022ء کی پہلی سہ ماہی میں ترکی-اسپین مشترکہ معاشی و تجارتی کمیٹی کا دوسرا اجلاس کریں گے، اور پھر جون میں بزنس فورم کا کہ جس میں وسیع البنیاد شرکت ہوگی۔”

صدر ایردوان نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ہم ترکی میں 600 سے زیادہ ہسپانوی اداروں کی سرمایہ کاری پر خوش ہیں۔ ایک مرتبہ پھر اپنے ہسپانوی دوستوں سے مطالبہ کریں گے کہ وہ اپنے قابل بھروسہ شراکت دار، ترکی میں، مزید سرمایہ کاری کریں۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے مطالبے پر پہلے ہی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ہسپانوی بینک، BBVA، کے اعلان ترکی پر اعتماد کا ٹھوس اشاریہ ہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "یورپ کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر موجود ترکی اور اسپین نیٹو شراکت دار ہیں جو یورپ کے تحفظ اور بہبود کی بنیاد ہیں۔ اسپین 2015ء سے ترکی میں اپنے پیٹریاٹ سسٹمز کے ساتھ ظاہر کر رہا ہے کہ اتحادیوں کی یکجہتی کتنی ضروری ہے۔ بد قسمتی سے کئی یورپی ممالک اپنے پیٹریاٹس نکال چکے ہیں کہ جو یہاں نصب تھے، لیکن اسپین نے ایسا نہیں کیا۔ میں اس موقع پر ایک مرتبہ پھر اپنے ہسپانوی دوستوں کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا۔ مجھے امید ہے کہ اسپین کا یہ رویہ دیگر اتحادیوں کے لیے مثال بنے گا۔ ہم اسپین کے ساتھ، خاص طور پر دفاعی صنعت، میں کچھ منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی صلاحیتوں کی وجہ سے ہمیں امید ہے کہ اس شعبے میں تعاون مزید بڑھے گا۔”

تبصرے
Loading...