ترکی کو رکنیت دیے بغیر یورپی یونین کا اپنی تاسیسی اقدار پر کاربند رہنے کا دعویٰ بیکار ہے

0 923

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "یورپی یونین کا محدود انداز میں ایک بہت مختصر سے رستے پر چلنے کے عمل کو ترکی جیسے ممالک کو شامل کرکے ہی روکا جا سکتا ہے کہ جو مختلف شناخت، عقائد اور ثقافتیں رکھنے والے افراد کے ساتھ صدیوں سے پرامن انداز میں رہنے والے والا ملک ہے۔ یورپی یونین کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی تاسیسی اقدار پر چل رہا ہے، یہ دعویٰ ترکی کو مکمل رکنیت دیے بغیر بیکار ہے۔” وہ ریفارم ایکشن گروپ (RAG) کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے جو ایوانِ صدر میں صدر ایردوان ہی کی زیرِ قیادت منعقد ہوا۔

اس مرتبہ یہ اجلاس یومِ یورپ کے موقع پر آیا ہے جس پر صدر مملکت نے اجلاس کے لیے کامیاب اور ثمر آور ثابت ہونے کی خواہشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یومِ یورپ یورپی یونین کے مسائل پر گفتگو اور ان کی مجموعی تصویر کشی کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ” وقت کے ساتھ ساتھ یورپی یونین سیاسی تکمیل کا ایک نمونہ بن چکی ہے اور جمہوریت، انسانی حقوق اور اقتصادی و سماجی ترقی کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی جیسی تاسیسی اقدار کے ساتھ کئی ممالک کے لیے قابلِ تقلید بن چکی ہے۔”

یورپی یونین کا مکمل رکن بننے کے لیے ترکی کی 60 سالہ جدوجہد پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے کبھی ہمت نہیں ہاری، کبھی ہتھیار نہیں ڈالے، اس کے باوجود کہ 60 سال سے ہمیں دہرے معیارات کا سامنا ہے۔ ہم یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ کر چکے اور اپنی بساط کے مطابق سب کچھ کریں گے کہ رکنیت کا حصول ہمارا تزویراتی ہدف ہے۔ غیر منصفانہ اقدامات اور ملک کی راہ میں ڈالی جانے والی رکاوٹیں ہمارے رکنیت کے عزم کو متاثر نہیں کر سکتیں۔ ہم آج بھی اتنے ہی پرعزم ہیں جتنا 60 سال پہلے تھے۔”

"ترکی کو یورپی یونین کی اتنی ضرورت نہیں جتنی یورپی یونین کو ترکی کی ضرورت ہے،” صدر ایردوان نے کہا "ترکی کے بغیر یورپی یونین کے لیے اسلاموفوبیا، ثقافتی نسل پرستی، امتیازی صورت حال اور تارکین وطن کے خلاف مؤقف جیسے اندرونی خطرات سے نمٹنا ناممکن ہے بلکہ یہ یورپی یونین کی تاسیسی اقدار کے لیے دھماکا خیز مواد سے کم نہیں ہیں۔ یورپی یونین کا محدود انداز میں ایک بہت مختصر سے رستے پر چلنے کے عمل کو ترکی جیسے ممالک کو شامل کرکے ہی روکا جا سکتا ہے کہ جو مختلف شناخت، عقائد اور ثقافتیں رکھنے والے افراد کے ساتھ صدیوں سے پرامن انداز میں رہنے والے والا ملک ہے۔ یورپی یونین کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی تاسیسی اقدار پر چل رہا ہے، یہ دعویٰ ترکی کو مکمل رکنیت دیے بغیر بیکار ہے۔”

"ہم اپنے یورپی ثالثوں کو کہتے ہیں کہ وہ اپنے نظریاتی تعصبات بالائے طاق رکھیں اور انصاف و شفافیت کی بنیاد پر مسائل حل کریں۔ ہمیں ان سے توقع ہے کہ وہ ترکی کے حوالے سے امتیازی سلوک اور اسے الگ تھلگ کرنے کی پالیسیاں ختم کریں گے اور طویل میعاد وِژن اور تمام فریقین کے لیے یکساں کامیابی کے عمل کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔” صدر مملکت نے کہا۔

اس امر کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہ وہ پہلی بار صدر کی حیثیت سے RAG اجلاس کی قیادت کر رہے ہیں، رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "یورپی یونین اور ترکی کے باہمی تعلقات کا جامع جائزہ لیا جائے گا اور اجلاس کے دوران آئندہ کے لیے ایک نقشہ راہ مرتب کیا جائے گا۔

پچھلے دو سال کے عرصے میں دہشت گرد تنظیموں، بالخصوص فتح اللہ ٹیررسٹ آرگنائزیشن (FETO)، کے خلاف جدوجہد کو ترکی کی ترجیح قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی نے 15 جولائی 2016ء کو بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد ہنگامی حالت کا نفاذ کیا اور اہم اقدامات اٹھائے، لیکن یورپی یونین کے رکن ممالک اور اداروں کی جانب سے ترکی کے ساتھ اتنی یکجہتی نہیں دکھائی گئی۔”

ترکی دہشت گرد تنظیموں، کہ جن میں FETO اور PKK پیش پیش ہیں، کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے زیادہ زور ان پالیسیوں پر دے گا جو اس کے جمہوری معیارات کو بہتر بنائیں۔ صدر ایردوان نے کہا کہ صدارتی نظامِ حکومت نے فیصلہ سازی کے عمل اور کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کو تیز کیا ہے اور یوں اصلاحات کا تیز تر اور زیادہ مؤثر نفاذ ممکن ہوا ہے۔

"یورپی یونین کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کرنے کے حوالے سے جو قدم بھی ہم نے اٹھایا، اس کا ہدف اپنے شہریوں کی بہبود اور ترقی ہے۔ ہم آج بھی اسی سوچ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ہماری اولین ترجیح اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق اور ان کی آزادی کا استحکام ہے۔ جیسا کہ میں بارہا بتا چکا ہوں کہ اگر ضرورت پڑی تو ہم اس سمت میں ضروری اقدامات جاری رکھیں گے ۔” یورپی یونین میں شامل ہونے کی شرائط کو صدر نے کوپن ہیگن معیارات کے بجائے انقرہ معیارات قرار دیا۔

عدلیہ کے شعبے میں، بالخصوص عدالتی ڈھانچے کے حوالے سے اصلاحات پر، اقدامات کے حوالے سے صدر ایردوان نے کہا کہ جسٹس اکیڈمی اس دوران نیا ڈھانچہ مرتب کر چکی ہے۔

"ترکی اس مقام پر ہے کہ اس کا تقابل کسی بھی ایسے ملک کے ساتھ نہیں کیا جا سکتا جس کے ساتھ یورپ یونین آزاد ویزا کی پالیسی رکھتا ہے،” صدر ایردوان نے زور دیا کہ اب ترکی دیکھے گا کہ 72 میں سے باقی چھ معیارات پر پورا اترنے کے بعد یورپی یونین اپنے ویزا لبرلائزیشن کے عمل سے کتنا مخلص نظر آتا ہے۔

"تارکینِ وطن کے معاملے پر ترکی اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات مؤثر انداز میں جاری ہیں،” صدر ایردوان نے کہا "ترکی pacta sunt servanda کے اصول کے تحت کام کر رہا ہے اور 18 مارچ کے معاہدے کا اچھی نیت کے ساتھ نفاذ جاری رکھے گا۔”انہوں نے زور دیا کہ یورپی یونین کو بھی اسی طرح قدم اٹھانے چاہئیں۔

"اس معاملے پر ترکی واضح نقشہ راہ رکھتا ہے، ہم کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے اور کسی کو بھی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمیں باہر کا راستہ دکھائے۔ ہم ملک کی بقاء کو درپیش مسائل پر مطلوبہ احتیاط کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔ یورپی یونین کی رکنیت ہمارے لیے تبھی معنی رکھتی ہے جب یہ دونوں فریقین کے لیے اچھی ہو۔ کوئی بھی ہمیں اس حالت میں جانے پر مجبور نہیں کر سکتا کہ نتیجہ ترکی کے ایک نقصان اٹھانے والے کے روپ میں نکلے۔” صدر طیب ایردوان نے کہا۔

تبصرے
Loading...