ترکی قطر تعلقات دونوں ممالک کی دوستی کے ساتھ روز بروز مضبوط تر ہو رہے ہیں، صدر ایردوان

0 380

قطر کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی اور قطر کے مابین تعلقات دونوں ممالک کی تاریخ، صلاحیتوں اور دوستی کے تزویراتی تناظر کی بنیاد پر روز بروز مضبوط تر ہو رہے ہیں۔ سپریم اسٹریٹجک کمیٹی کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے ہم نے قطر کے ساتھ وسیع تر شعبہ جات میں 69 دستاویزات پر دستخط کیے ہیں جن میں عسکری، سیاسی، تجارتی، معاشی و ثقافتی معاملات شامل ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت یہ تعاون مزید بہتر ہوا ہے۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے قطر کے لیے روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس کی، جہاں وہ امیرِ قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کی دعوت پر ترکی-قطر سپریم اسٹریٹجک کمیٹی کے ساتویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ 2014ء میں امیرِ قطر اور ان کے فیصلے کے نتیجے میں بننے والی اس اسٹریٹجک کمیٹی کا پہلا اجلاس 2015ء میں دوحہ میں ہوا تھا، صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی اور قطر کے مابین تعلقات دونوں ممالک کی تاریخ، صلاحیتوں اور دوستی کے تزویراتی تناظر کی بنیاد پر روز بروز مضبوط تر ہو رہے ہیں۔ سپریم اسٹریٹجک کمیٹی کے ڈھانچے میں رہتے ہوئے ہم نے قطر کے ساتھ وسیع تر شعبہ جات میں 69 دستاویزات پر دستخط کیے ہیں جن میں عسکری، سیاسی، تجارتی، معاشی و ثقافتی معاملات شامل ہیں۔ ان معاہدوں کی بدولت یہ تعاون مزید بہتر ہوا ہے۔ ہم کل ساتویں اجلاس کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کے ذریعے اس یکجہتی کو مزید بڑھائیں گے۔”

وہ اور امیرِ قطر دو طرفہ مذاکرات کے بعد کمیٹی اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس پر صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ان مذاکرات میں اپنے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔ہم اپنے مشترکہ ایجنڈے پر موجود اہم علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس لیے میں بعد ازاں قطری-ترک جوائنٹ ٹاسک فورس کمانڈ کا دورہ کروں گا۔ میں اپنے سپاہیوں اور کمانڈروں سے بات چیت کروں گا جو ترکی اور قطر کے مابین دوستی کی علامت جوائنٹ ٹاسک فورس کمانڈ میں ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔”

"ترکی اور قطر نے علاقائی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا”

یہ بیان کرتے ہوئے کہ ترکی اور قطر ایسے دو ممالک ہیں جنہوں نے حالیہ چند سالوں میں درپیش علاقائی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، صدر ایردوان نے کہا کہ ہم ایسی رکاوٹیں عبور کرنے میں کامیاب ہوئے کہ جن کا سامنا ہمیں دو دوستوں اور بھائیوں کی حیثیت سے قریبی تعلقات پر عمل درآمد کرتے ہوئے کرنا پڑا۔ ہم نے دفاع سے تجارت اور سرمایہ کاری تک کئی شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون کو بڑھایا۔ ترکی کا پہلا زنک صاف کرنے والا کارخانہ، جس کا افتتاح سنیچر کو سعرد میں کیا گیا، اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ یہ تنصیب، جو ابتدائی طور پر 50 ہزار ٹن سالانہ پیداوار دے گی اور پھر اس کی گنجائش پہلے 1 لاکھ 20 ہزار اور پھر ڈھائی لاکھ ٹن تک جائے گی، ہمارے ملک کی زنک کی تقریباً نصف ضروریات پوری کر دے گی۔ سیسے-چاندی اور سلفیورک ایسڈ کے کارخانوں کے افتتاح کے ساتھ، کُل ساڑھے 7 ہزار افراد کو روزگار میسر ہوگا۔ ہم اس سرمایہ کاری کو اپنے قطری بھائیوں اور بہنوں کے ترکی اور ترک معیشت پر اعتماد کی علامت سمجھتے ہیں، جس کی مالیت 2023ء تک 500 ملین ڈالرز ہوگی۔

صدر ایردوان نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "اس طرح کی سرمایہ کاری سے ہمارے مشرقی اور جنوب مشرقی اناطولیہ کے علاقوں سے دہشت گردی کے تاریک سائے چھٹ جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم کے سیاسی گماشتوں کے ساتھ تعاون کرنے والے ہمارے ملک میں قطر کی سرمایہ کاری کو قبول کرنا نہیں کر سکتے۔ ان کی جھلاہٹ دراصل اس وجہ سے ہے کہ ترکی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے اور اس کی معیشت سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور برآمدات کی بنیادوں پر بڑھ رہی ہے۔ اس کا ہم کھلم کھلا اظہار غیر ملکی سفیروں کو بھیجے گئے شکایتی خطوط اور بین الاقوامی میڈیا میں مغالطوں پر مبنی تبصروں کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ گزشتہ 19 سال میں کی طرح ہم اپنے ملک کی ترقی اور اسے طاقت ور بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں اور مرکز اور سرمائے کی مخالفت کرنے والے ایسے تمام تر عناصر کی سازشوں کے باوجود خطے میں ایک روشن مثال بنیں گے۔ ہم قطر سمیت خلیج کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعاون کو مضبوط کر کے اس سمت میں کام کر رہے ہیں۔”

خلیج میں مذاکرات کے ذرائع دوبارہ کھلنے اور غلط فہمیوں سے چھٹکارا پانے کی از سر نو کوششوں پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم اپنے مشترکہ مفادات اور باہمی احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے بلا امتیاز خلیج میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھیں گے۔ اللہ ہماری مدد کرے! مجھے یقین ہے کہ دوحہ میں ہمارے مذاکرات قطر کے ساتھ ہمارے تعلقات کو مزید بہتر بنائیں گے۔ مجھے امید ہے کہ ان مذاکرات سے ملک اور قوم کے لیے ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور ترکی-قطر بھائی چارہ مزید بڑھے گا۔”

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: