ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کا فروغ اور آزاد تجارت میں خلل تشویش ناک ہیں، صدر ایردوان

0 448

ٹوکیو میں جاپانی کاروباری شخصیات کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کا فروغ اور آزاد تجارت میں خلل تشویش ناک ہے۔ ایسے وقت میں ترکی اور جاپان کے درمیان تعاون بہت اہم ہیں۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے ٹوکیو میں جاپانی کاروباری شخصیات سے ملاقات کے دوران خطاب کیا۔

حالیہ کچھ عرصے میں عالمی تجارت کے پُر آشوب دور میں داخل ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ تجارت کی راہ میں ٹیرف کی دیواریں اور رکاوٹیں ایک مرتبہ پھر ابھرنا شروع ہوگئی ہیں۔

"ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کی پالیسیاں اور تجارتی جنگیں عالمی نمو میں زوال کے رحجان کا سبب ہیں”

ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کی پالیسیاں اور تجارتی جنگی عالمی نمو میں زوال کے رحجان کا سبب ہے اور ترقی پذیر معیشتوں پر منفی اثر ڈال رہی ہیں، صدر ایردوان نے کہا۔ "تجارت میں ملکی مصنوعات کے تحفظ کے معاشی نظام کا فروغ اور آزاد تجارت میں خلل تشویش ناک ہے۔ ایسے وقت میں ترکی اور جاپان کے درمیان تعاون بہت اہم ہیں۔”

"ترکی جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے انوکھے مواقع پیش کرتا ہے”

جاپان ایشیا میں ترکی کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور ترک صنعت کاری کے بانیوں میں سے ایک ہے، اس کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے زور دیا کہ ترکی اپنی طاقتور مارکیٹ، اعلیٰ معیار کی افرادی قوت، جغرافیائی مقام اور نقل و حمل، مواصلات اور توانائی کے جدید نظام کی بدولت جاپانی سرمایہ کاروں کے لیے انوکھے مواقع پیش کرتا ہے۔

"میں ترکی کی معاشی ترقی میں جاپانی سرمایہ کاروں کے حصے پر ان کا شکر گزار ہوں”

ترک-جاپانی تعاون کی بنیادیں ہر ذیلی شعبے میں دیکھی جا سکتی ہیں، بنیادی ڈھانچے سے لے کر ساخت گری تک، صدر ایردوان نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "ترک اور جاپانی اداروں ان بڑے پُلوں اور سرنگوں میں اپنی نشانیاں رکھتے ہیں جو آج ایشیا کو یورپ سے ملاتے ہیں۔ اپنے ملک اور عوام کی جانب سے میں ترکی کی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے پر جاپانی سرمایہ کاروں کا شکر گزار ہوں۔”

"ترک جاپان تجارتی تعاون کے باہمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے”

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کے باہمی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی معاشی شراکت داری کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے اور 2019ء میں ہی اس پر دستخط کرنے کا خواہشمند ہے اور مزید زور دیا کہ اس معاہدےکو توازن ظاہر کرنا چاہیے جو آزاد تجارت کے مشترکہ اہداف اور اقتصادی ترقی کے فرق کی سطح مدنظر رکھے۔

"ترکی مختلف مارکیٹوں تک وسیع اقسام کی براہِ راست رسائی پیش کرتا ہے”

ترکی خطے کا ایک اہم پیداواری اور انتظامی مرکز ہے اور مختلف اقسام کی مارکیٹوں تک براہِ راست رسائی پیش کرتا ہے، صدر ایردوان نے مزید کہا کہ کئی عالمی سرمایہ کار ترک سرمایہ کاروں کے ساتھ نئی مارکیٹوں میں داخل ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔

"ترکی کو ایسا پیداواری مقام سمجھیں جو وسیع جغرافیے تک براہِ راست رسائی رکھتا ہے”

"ترکی کی حیثیت سے ہم ہمیشہ اپنے کاروباری منتظمین اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں – اور سب سے زیادہ جاپانیوں- کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ترکی کو صرف نوجوانوں کی حامل اچھی مارکیٹ نہ سمجھیں بلکہ ایک پیداواری مرکز بھی گردانیں جو ایک وسیع جغرافیے تک براہ راست رسائی رکھتا ہے۔” جاپانی کمپنیوں کی جانب سے ترکی میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی امید ظاہر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ وہ جاپانی سرمایہ کاروں کی سکیورٹی کے حوالے سے حساسیت کو سمجھتے ہیں اور مغربی میڈیا میں مایوس کن رپورٹیں جاپانی سرمایہ کاروں کو ترکی آنے سے روکتی ہیں۔

"ترکی خطے اور دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں سے ایک ہے”

دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ کی بدولت ترکی نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے محفوظ ترین ملکوں میں سے ایک ہے، اس امر پر زور دیتے ہوئے صدر ایردوان نے واضح کیا کہ ایسا کوئی ملک نہیں جو ترکی میں اپنی سرمایہ کاری پر افسوس کرتا ہو اور کوئی ایسا کاروباری فرد نہیں ہے جس کے مسائل حل نہ کیے گئے ہوں۔ گزشتہ سال استنبول میں ترک اور جاپانی کاروباری شخصیات کے درمیان ہونے والے بزنس کونسل اجلاس کی جانب توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس سال یہ اجلاس نومبر میں ٹوکیو میں ہوگا اور ترکی کے اہم اداروں کے نمائندوں کی اس میں شرکت کو یقینی بنایا جائے گا۔

"ہم ترکی کے توانائی منصوبوں میں مزید جاپانی سرمایہ کاروں کو دیکھنا چاہتے ہیں”

"ہم ترکی کے توانائی منصوبوں میں مزید جاپانی سرمایہ کاروں کو دیکھنا چاہتے ہیں،” صدر ایردوان نے اور اشارہ کیا کہ ترکی نوجوان اور اہل افرادی قوت کی صورت میں جاپان کی مدد کر سکتا ہے۔ صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ترکی میں زبردست کامیابیاں حاصل کرنے والی جاپانی کمپنیاں اپنے ترک کارکنوں کی بہترین اہلیت سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہم نے حکومتوں کے درمیان مذاکرات کا ایک عمل شروع کیا۔ اس ضمن میں ہم ایک ملازمتی معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں۔”

صدر ایردوان نےترکی-جاپان بین الپارلیمانی دوستی انجمن کے چیئرمین کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی

اجلاس کے بعد صدر ایردوان نے پیلس ہوٹل، ٹوکیو میں ایک ظہرانے میں شرکت کی جس کی میزبانی جاپان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور ترکی-جاپان بین الپارلیمانی دوستی انجمن کے چیئرمین توشی ہیرو نیکائی نے کی۔

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو، وزیر خزانہ و مالیات بیرات البیراک، وزیر ثقافت و سیاحت محمد ارسوئے اور وزیر تجارت رخسار پیک جان بھی اس موقع پر صدر مملکت کے ساتھ تھے۔

تبصرے
Loading...