انقرہ میں شام پر سربراہی اجلاس – ابراہیم قالن

0 1,174

ابراہیم قالن

ابراہیم قالن، پی ایچ ڈی ڈاکٹر اور ترک صدر رجب طیب ایردوان کے چیف مشیر اور ترجمان ہیں، اس کے علاوہ وہ پرنس الولید سنٹر فار مسلم کرسچیئن انڈرسٹینڈنگ، جارج ٹاؤن یونیورسٹی، امریکا کے ایسویسی ایٹ فیلو بھی ہیں۔ انہیں ایک تربیت یافتہ اسلامی اسکالر گردانا جاتا ہے۔ وہ کئی کتابوں کے مصنف اور کئی مضامین و نشر پاروں کے مقالہ نگار بھی ہیں۔ آپ ترکی کے متعلقہ موضوعات پر ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔


سات سالہ طویل شامی جنگ کے مستقل حل کی تلاش کرنے کے لئے صدر رجب طیب ایردوان نے 4 اپریل کو انقرہ میں سہہ طرفی رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کی۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے اس میں شرکت کی، سربراہی اجلاس نے جہاں کئی عہد باندھے وہیں شامی جنگ کے خاتمہ کے لئے درپیش چیلنجز کو بھی دیکھا۔ یہ کوئی راز نہیں رہا کہ شامی جنگ مشرق وسطیٰ میں عالمی طاقتوں کے کھیلکا اسٹیج بن چکا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، فرانس، سعودی عرب، ایران اور روس جو اس جنگ کے اہم شراکت دار ہیں وہ اس کے خاتمے کے لیے مختلف سوچ اور ترجیحات رکھتے ہیں۔ البتہ ان سب کے دو مشترکہ اہداف رہے ہیں ۔۔۔ داعش کا خاتمہ اور شام کی علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنا۔  لیکن یہ دو مقاصد بھی ان مختلف تشریحات اور بعض اوقات مختلف مقاصد کی وجہ سے انہیں تقسیم کر دیتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ داعش کو تباہ کرنا شام میں ان کا بنیادی مشن ہے، لیکن وقت کے ساتھ اسے مختلف معنی پہنائے گئے ہیں۔ شام میں داعش کے خلاف جنگ سے ایران اور روس سے نبٹنے کا ارتقاء ہوتا ہے، جسے مختلف وضاحتوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی عہدیدار داعش کے خلاف جاری جنگ بارے متضاد بیانات دیتے آئے ہیں۔ کچھ کہتے ہیں کہ جنگ ختم ہوگئی ہے اور داعش کا خاتمہ کر دیا گیا ہے جبکہ دوسرے کہتے ہیں کہ خطرہ ابھی بھی موجود ہے اور  امریکی فوج کی طویل مدت کے لئے موجودگی ضروری ہے۔ یہ امریکہ کے لئے پی کے کے کی شامی شاخوں پی وائے ڈی اور وائے پی جی سے ساتھ مل کر کام کرنے کا جواز بھی ہے جنہیں انقرہ دہشتگردیں تنظیمیں سمجھتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں یہ تیزی سے واضح ہو رہا ہے کہ امریکہ مشرقی شام میں ایران کے خلاف مزاحمتی فورس کے طور پر موجود رہنا چاہتا ہے۔۔۔ اس پالیسی کی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے حمایت کی جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جب یہ بات کہی تو ان کا ذکر کیا ہے کہ اگر خلیجی ممالک چاہتے ہیں کہ امریکہ شام میں رہے تو انہیں اس کے لئے ادائیگی کرنا ضروری ہے۔ اس سے واضع ہوتا ہے کہ اب داعش کا مزید کوئی مسئلہ نہیں بلکہ شام اور اس سے باہر طاقت کا ایک نیا توازن پیدا کرنا ہے۔ اب داعش کے خلاف جنگ ایک ثانوی مقصد ہے اور امریکی فوج کو شام میں مزید قیام کے لیے امریکی قوانین سے جواز تلاشنے کا مسئلہ درپیش ہے۔ جو فوج کو صرف دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لئے غیر ملکی زمین میں کام کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ ترکی، ایران اور روس کے رہنماؤں نے 4 اپریل کے مشترکہ بیان میں شام  کے اندر جنگ کے خاتمے کی ضرورت کا ذکر کیا۔ اور آستانہ بات چیت کو "ایک مؤثر بین الاقوامی قدم قرار دیا جس سے شام میں تشدد کم کرنے میں مدد ملی ہے”۔ اس  نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قرارداد 2254 اور جنیوا امن مذاکرات کے تحت کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے "شام کی حاکمیت، آزادی، اتحاد، علاقائی سالمیت اور غیر فرقہ وارانہ کردار” پر تینوں ممالک کے عزم کا اظہار کیا۔

بیان میں پی وائے ڈی اور وائے جی کا نام لیے بغیر ان کی بات کی گئی۔ ان ممالک نے "دہشت گردی کے خاتمے کو بنیاد بنا کر نئی حقیقتیں پیدا کرنے کی تمام کوششوں کو مسترد کر دیا اور علیحدگی پسند ایجنڈوں کے خلاف کھڑے ہونے کے اپنے عزم کا اظہار کیا”۔ یہ ایک اہم نتیجہ ہے اور اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ تہران اور ماسکو شام میں پی وائے ڈی اور وائے پی جی کے خلاف انقرہ کے خدشات کی تائید کرتے ہیں۔ ترکی کے مضبوط موقف کے نتیجے میں، اس دہشت گرد گروہ کو آستانہ یا جنیوا مذاکرات کسی میں بھی مدعو نہیں کیا گیا۔

انقرہ کا مضبوط موقف درست ہے کیونکہ یہ اس دہشت گرد نیٹ ورک کو الگ کرتا ہے جو زمین پر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے کرد اور شامی کے باقی سماج سے علیحدہ کوئی علیحدہ ریاستی اکائی پیدا کی جا سکے۔ یہ بھی واضح ہے کہ شام میں وائے پی جی کے خلاف ترکی کی جنگ اسے داعش کے خلاف جنگ سے دور نہیں کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، یہ ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزائم ظاہر کرتی ہے۔ شام کے تمام دہشت گردی خطرات کا خاتمہ اس کے تمام  شراکت داروں کا مقصد ہونا چاہئے۔

ابھی زمین پر بہت کام باقی رہتا ہے۔ روس اور ایران کو شامی رجیم پر اپنے اثرات استعمال کرتے ہوئے اسے سیز فائر کے احترام پر مجبور کرنا ہو گا اور ملک بھر میں انسانی حقوق کی فراہمی کی اجازت دینا ہو گی۔ انہیں رجیم پر یہ دباؤ بھی بڑھانا ہو گا کہ وہ سیاسی عمل کی پیروی کرے۔ جس میں نئے آئین کا لکھنا اور شفاف اور منصفانہ انتخابات منعقد کرنا شامل ہے۔

موجودہ حالات میں شامی جنگ کی پیچیدگیوں اور چیلنجز کا انکار کئے بغیر، انقرہ سربراہی اجلاس شام سے داعش، القاعدہ، النصرہ، پی کے کے، پی وائے ڈی اور وائے پی جی سمیت تمام دہشت گرد عناصر کو صاف کرنے کی طرف ایک اہم قدم تھا اور سیاسی عمل کی سہولت فراہم کرتا ہے جو شامی عوام کو ان کی آزادی، امن، استحکام اور وقار عطا کرے گا — یہ وہ بنیادی حقوق ہیں جن سے طویل عرصے تک وہ محروم رہ چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...