استانبول کو اقوامِ متحدہ کا مرکز بنانے سے عالمی امن و استحکام کی کوششوں کو مدد ملے گی، صدر ایردوان

0 208

اقوامِ متحدہ کے75 سال مکمل ہونے پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے لیے اپنے وڈیو پیغام میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "براعظموں کو سنگم پر واقع استانبول کی اقوامِ متحدہ کے مرکز میں تبدیلی سے عالمی امن و استحکام کی کوششوں کو بھی سہارا ملے گا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے اقوامِ متحدہ کے 75 سال مکمل ہونے پر ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ایک وڈیو پیغام بھیجا ہے۔ اپنے پیغام میں صدر ایردوان نے یہ کہا:

"Covid-19 کی وباء نے دنیا میں بے انصافی اور عدم مساوات کو بڑھایا ہے”

"میں اقوامِ متحدہ کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ ایسے مواقع خوشی کے ساتھ ساتھ اپنا جائزہ لینے کا بہترین موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اقوامِ متحدہ کی 75ویں سالگرہ پوری دنیا کے لیے یہ موقع بھی فراہم کرے گی۔ انسانیت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جو ہماری صحت، معیشت، سماجی امن اور مستقبل کو متاثر کر رہے ہیں، جن میں نمایاں کرونا وائرس کی وباء ہے۔

ہمیں ایسے حالات کا سامنا ہے کہ جہاں دنیا بھر میں 170 ملین افراد کو فوری مدد اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ بھوک سے متاثرہ افراد کی تعداد 820 ملین سے تجاوز کر چکی ہے اور 70 ملین سے زیادہ افراد کو تنازعات اور مظالم کی وجہ سے اپنے گھرو چھوڑنا پڑے۔ بدقسمتی سے Covid-19 کی وباء نے دنیا میں ان بے انصافیوں اور عدم مساوات کو مزید بڑھا دیا ہے۔”

"ہم نے دنیا کے 146 ممالک کو طبی آلات اور امدادی سامان بھیجا ہے”

GDP سے تناسب سے امداد کے لحاظ سے دنیا کے سخی ترین ملک کی حیثیت سے ہم نے وباء کی وجہ سے بڑھنے والے مسائل کو تمام دستیاب ذرائع سے گھٹانے کی کوشش کی۔ اس عمل کے دوران اپنے شہریوں کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ہم نے مذہب، زبان، نسل یا براعظم سے بالاتر ہوکر دنیا کے 146 ممالک کو طبی آلات اور امدادی سامان بھیجے۔ البتہ لامحدود طمع، خود غرضی، اجارہ داری اور نو آبادیت کو جاری رکھنے کی خواہش کے لیے نئے طریقوں کا استعمال عالمی نظام میں انصاف کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں، خاص طور پر شام، فلسطین، یمن اور افغانستان میں استحکام لانے میں ناکامی اس کا ثبوت ہے۔

"منصفانہ نمائندگی کی بنیاد پر ایک کونسل کا ڈھانچہ انسانیت کے لیے ضروری ہو چکا ہے”

تمام تر بہترین معیارات طے کرنے کے باوجود اقوامِ متحدہ ان تنازعات کو نہ روک سکتا ہے اور نہ ختم کر سکتا ہے جو پہلے ہی شروع ہو چکے ہیں۔ ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ ہم پچھلی صدی کی ضرورت کے مطابق تیار کیے گئے ڈھانچوں کی بنیاد پر آج کے چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتے۔ اقوامِ متحدہ کے نظام کو دوبارہ طاقتور بنانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے سلامتی کونسل میں اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ایک کونسل جس کا ڈھانچہ 7 ارب افراد کا فیصلہ 5 ممالک کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، منصفانہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ چل سکتا ہے۔ ایسی کونسل کا ڈھانچہ جو جمہوری، شفاف، قابلِ احتساب، مؤثر اور منصفانہ نمائندگی کی بنیاد پر ہے، انسانیت کے لیے ایک ضرورت بن چکا ہے۔

میرا ماننا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو مضبوط کرنا اور اس میں دوبارہ جان ڈالنا ہمارے مسائل کے حل تلاش کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ براعظموں کو سنگم پر واقع استانبول کی اقوامِ متحدہ کے مرکز میں تبدیلی سے عالمی امن و استحکام کی کوششوں کو بھی سہارا ملے گا۔ سینئر سفارت کار اور سیاست دان وولکان بوزکیر کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنا صرف ترکی کے لیے فخر کا باعث ہی نہیں، بلکہ بین الاقوامی برادری کے لیے بھی ایک موقع ہے۔ ہم ایک مرتبہ پھر اقوامِ متحدہ کی حمایت جاری رکھنے اور اس کے کام میں حصہ ڈالتے رہنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔”

تبصرے
Loading...