ترکی مسئلہ قبرص کے منصفانہ، دیرپا اور مستقل حل کا خواہشمند ہے، صدر ایردوان

0 118

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر ارسین تاتار کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ہم نے مسئلہ قبرص کے حوالے سے مستقبل کے ممکنہ اقدامات اور مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت پر بات چیت کی ہے۔ ترکی قبرص کا شفاف، دیرپا اور مستقل حل چاہتا ہے۔ اس حوالے سے ترکی نے اب تک نیک ارادوں کے ساتھ اور ذمہ دارانہ حیثیت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ "

صدر رجب طیب ایردوان اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر ارسین تاتار نے ایوانِ صدر میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

حالیہ انتخابات میں فتح پر صدر تاتار کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ انتخابات شفاف اور سیاسی بلوغت کے ماحول میں ہوئے کہ جو ترک قبرص کے جمہوری کلچر کو ظاہر کرتے ہیں۔

"یونانی قبرص کا غیر مصالحت پسندانہ رویہ ہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں”

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر کے ساتھ باثمر اور جامع ملاقات کے بعد صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم نے مسئلہ قبرص کے حوالے سے مستقبل کے ممکنہ اقدامات اور مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت پر بات چیت کی ہے۔ ترکی قبرص کا شفاف، دیرپا اور مستقل حل چاہتا ہے۔ اس حوالے سے ترکی نے اب تک نیک ارادوں کے ساتھ اور ذمہ دارانہ حیثیت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔”

صرف ترکی کی جانب سے کوششیں مسئلے کے حل کے لیے کافی نہیں، صدر ایردوان نے زور دیا کہ "یہ واضح ہے کہ یونانی قبرص یکساں بنیادوں پر ترک قبرص کے ساتھ مسئلے کے حل کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ یونانی قبرص کے غیر مصالحت پسندانہ رویے اور ذہنیت ہی کی وجہ سے پچھلے 50 سے زائد سالوں میں ہر مرتبہ مذاکرات ناکام ہوئے۔ یونانی قبرص اس ریاست میں ترک قبرص کو حصہ نہیں دینا چاہتا کہ جس پر اس نے 1963ء میں غاصبانہ قبضہ کیا تھا۔ گزشتہ پچاس سے زیادہ سالوں سے موجود مذاکرات کے طریقوں سے کوئی حل حاصل نہیں ہو سکتا۔ جولائی 2017ء میں کرانس-مونٹانا مذاکرات کے اختتام کے بعد ہم نے کہا کہ فیڈریشن ان حالات میں ایک مناسب حل نہیں ہو سکتا، اور نئے خیالات پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت نے ہمیں درست ثابت کیا ہے۔”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ یونانی قبرص نے علاقے کے ہائیڈروکاربن وسائل کی شیئرنگ کے حوالے سے تعاون کے تمام مطالبات پر غور نہیں کیا کیونکہ وہ ترک قبرص کو یکساں شراکت دار سمجھتا ہی نہیں، صدر ایردوان نے کہا کہ "یونانی قبرص بدستور ترک قبرص کے یکساں حقوق ہڑپ کر رہا ہے، جو ترکوں کو اپنے ماتحت ایک اقلیت کے طور پر دیکھنا چاہتا ہے۔”

"ہم حقیقت پسندانہ دو ریاستی حل پر یقین رکھتے ہیں”

صدر نے کہا کہ ” ایسا حل جہاں دو افراد امن، خوشحالی اور سلامتی کے ساتھ رہیں جزیرے کے حقائق کو مدنظر رکھ کر ترتیب دینا چاہیے۔ اس مرحلے پر ہمیں یقین ہے کہ فیڈریشن کی بنیاد پر مذاکرات کا آغاز وقت کا ضیاع ہوگا۔ اس لیے ہم دو ریاستی حل کو مذاکرات کی میز پر لانے کو حقیقت پسندانہ اپروچ سمجھتے ہیں۔ ترکی قبرص میں ایک منصفانہ، دیرپا اور مستقل حل کے لیے اپنی خواہش برقرار رکھتا ہے۔”

مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت، مرعش کو کھولنے اور دیگر معاملات پر صدر تاتار کے ساتھ گفتگو پر صدر ایردوان نے کہا کہ "جس طرح ہم مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے براعظمی کنارے (continental shelf) میں اپنے حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں، اسی طرح ہم ترک قبرص کے حقوق اور مفادات کا بھی تحفظ کررہے ہیں کہ جو اس جزیرے کے مشترکہ مالک ہیں۔ ہم نے ہر مرحلے پر اس حوالے سے اپنے دوستوں اور دشمنوں پر یہ واضح رکھا ہے۔”

صدر تاتار: "پانچ رکنی کانفرنس کی تجویز آخری موقع ہے”

ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر تاتار نے ترکی کی جانب سے پانچ رکنی کانفرنس کی تجویز کو مسئلہ قبرص کے معاہدے کے ذریعے حل کا آخری موقع قرار دیا اور کہا کہ "ہماری رائے ہے کہ یہ اجلاس یہ طے کرنے کے لیے فیصلہ کن ہوگا کہ آیا دو ریاستی حل مذاکرات کا حصہ ہوگا یا نہیں اور کوئی تصفیہ ممکن ہے۔”

ہائیڈرو کاربن وسائل کو یونانی قبرص کے خلوص کا ثبوت قرار دیتے ہوئے صدر تاتار نے کہا کہ ہم اس یونانی قبرص کے ساتھ مصالحت نہیں چاہتے کہ جو بحری وسائل تک شیئر کرنے کے لیے تعاون کرنے سے کتراتا ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد صدر ایردوان اور خاتونِ اول امینہ ایردوان نے صدر تاتار اور ان کی اہلیہ سبیل تاتار کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔

تبصرے
Loading...