سال 1921ء اناطولیہ میں ہمارے ہزار سالہ وجود کا اہم موڑ تھا، صدر ایردوان

0 54

فتحِ صقاریہ کے صد سالہ جشن پر صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "سال 1921ء، جب فتحِ صقاریہ ہوئی، نہ صرف جنگ بلکہ اناطولیہ میں ہمارے ہزار سالہ وجود کا اہم موڑ بھی تھا۔”

صدر رجب طیب ایردوان نے فتحِ صقاریہ کے صد سالہ جشن کے موقع پر خطاب کیا۔

ترک تاریخ میں 1921ء کی فتحِ صقاریہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے صدر طیب ایردوان نے کہا کہ سال 1921ء، جب فتحِ صقاریہ ہوئی، نہ صرف جنگ بلکہ اناطولیہ میں ہمارے ہزار سالہ وجود کا اہم موڑ بھی تھا۔ صدر نے کہا کہ صقاریہ کی فتح قومی جدوجہد کے بہت ہی اہم مرحلے پر ہوئی، جس سے ترک دارالحکومت کی طرف دشمن کی پیش قدمی ٹل گئی۔

"صقاریہ کی فتح ہماری تاریخ کے اہم ابواب میں سے ایک ہے”

"فتحِ صقاریہ – فتحِ ملازکرد کے علاوہ فتح برصہ، ادرنہ استنبول کی طرح – بحیرۂ قلزم سے لے کر ویانا کے دروازوں تک پھیلی ہماری عظیم تاریخ کے اہم ابواب میں سے ایک ہے۔ اس لیے ہمیں اس فتح کی داستان نسل در نسل منتقلی کرنی چاہیے جو ہماری قومی جدوجہد کا آخری گڑھ تھی، اور یوں یقینی بنائیں کہ کن حالات اور کن عظیم قربانیوں کے ساتھ ہم نے جنگ آزادی جیتی، انہیں کبھی نہیں بھلایا جائے گا۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "عظیم قومی مجلس اور انقرہ میں قائم حکومت صقاریہ کی فتح کے بعد ہی بین الاقوامی منظرنامے پر قوم کی حقیقی نمائندہ تسلیم کی گئی۔ اس نے جدوجہد کو میدانِ عمل سے سفارتی میدان میں منتقل کیا۔”

"ترک قوم نے جمہوریہ کے قیام کے ساتھ قومی جدوجہد کو نیا رخ دیا”

انقرہ حکومت نے ازمیر کی آزادی کے بعد مادرِ وطن کے دیگر علاقوں پر کنٹرول حاصل کر کے سلطنت عثمانیہ کو سیاسی و معاشی طور پر جکڑنے والی ذہنیت کے خلاف جدوجہد شروع کی، صدر ایردوان نے کہا کہ "اس زبردست جدوجہد کہ جس کے ایک طرف معاہدہ سیورے کی کڑی شرائط تھیں اور دوسری جانب قومی آرزوئیں، کا نتیجہ لوزان امن معاہدے کی صورت میں نکلا۔ تن، من، دھن سے کی گئی اس جدوجہد سے ترک قوم نے جمہوریہ کے قیم کے ساتھ اپنی قومی جدوجہد کو ایک نیا رخ دیا۔”

فتحِ صقاریہ کے تمام غازیوں اور شہیدوں پر اللہ کی رحمت کی دعا کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ وہ کمانڈر انچیف غازی مصطفیٰ کمال پاشا اور اس فتح میں حصہ لینے والے تمام افراد کو شکریے کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

تبصرے
Loading...