عثمانی ریاست کو نیشنل ازم سے اور اب خطے کا نقشہ نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب پر بنایا جا رہا ہے، ایردوان

0 708

مشرقی اور شمال مشرقی اناطالیہ سے تعلق رکھنے والے صاحبان رائے سے صدارتی کمپلیکس میں خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "عراقی کرد حکومت کے ریفرنڈم کے خلاف ترکی کا ردعمل، کرد عوام بارے نہیں ہے۔عراقی کرد حکومت کے ریفرنڈم کے خلاف ترکی کا ردعمل، کرد عوام بارے نہیں ہے۔

وہ خطے کے نقشے کو نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب پر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

صدر ایردوان نے کہا: "ایک صدی پہلے اس دور کے استعمار پسندوں نے عثمانی ریاست کو ترنوالہ بنانے کے لیے "نیشنل ازم” کا کارڈ کھیلا۔ وہی کردار آج خطے کے نقشے کو نسلی اور فرقہ وارانہ تعصب پر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شطرنج کے پیادے بدل رہے ہیں، باپ سے بیٹے اور مظلوم سے مظلوم بدل رہے ہیں۔ بہرصورت منظرنامہ بالکل اس منظرنامے جیسا ہے، یہ بالکل نہیں بدلا۔ جیسا کہ ہمیشہ ہی معاملہ رہا ہے، کچھ لوگوں کی پسند ان کے کانوں میں فسفساتی ہیں لیکن لیکن باہر مختلف چیزیں ہی سننے کو ملتی ہیں۔تاہم یہ وعدے کبھی وفا نہیں ہوتے اور یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔ آج جن خواہشات کی خاطر دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا گیا ہے وہ کبھی پوری ہونے سے رہ جائیں گی۔ اس کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم ان کے سوا کسی اور کو فائدہ نہیں دے گی جو سرحدوں کی لائینیں کھینچتے ہیں۔ جب تک ایک طویل عرصہ میں خطے کو تنازعات، سول جنگیں، غربت، عدم اعتماد اور بہت سے دیگر مسائل کے گرداب سے نہیں نکالا جاتا۔ یہ ہمارے خطے میں عرصہ سے رسنے والے زخموں کی بنیادی وجوہات ہیں۔

خونی منظرنامہ جو خطے کو ہدف بنا رہا ہے اس کی راہ میں ترکی سب سے بڑی رکاؤٹ ہے

صدر ایردوان نے کہا: "تاریخ خود ان لوگوں کے لئے دوبارہ پیش کرتی ہے جو اس سے سبق لینے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر وہ کوشش کرنی چاہیے جس سے ماضی کی غلطیاں دوبارہ نہ دوہرائی جا سکیں”۔ انہوں نے کہا: "تاریخ نہ صرف ماضی سے سبق سیکھاتی ہے بلکہ مستقبل کا قطب نما ہوتی ہے”۔

انہوں نے مزید کہا: "خونی منظرنامہ جو خطے کو ہدف بنا رہا ہے اس کی راہ میں ترکی سب سے بڑی رکاؤٹ ہے۔یہ خونی کھیل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک ترکی کمزور اور پس و پیش ہو کر گر نہیں جاتا”۔

تبصرے
Loading...