صدر طیب ایردوان نے ترکی کی سب سے بڑی مسجد کا افتتاح کردیا

0 737

استنبول میں چملی جا مسجد کے افتتاح کے موقع پر صدر مملکت رجب طیب ایردوان نے اس امید کا اظہارکیا کہ یہ عظیم عبادت گاہ، استنبول، ترکی بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے مبارک ثابت ہوگی۔ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے اسے استنبول کی اہم یادگار قرار دیا۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "استنبول ایسا شہر ہے جو اپنی خوبصورت مساجد اور مزاروں کے علاوہ نفیس میناروں کی بدولت دیکھنے والوں کا دل موہ لیتا ہے۔ ایسا مبارک شہر کہ جس کے آسمانوں میں ‘اللہ اکبر’ کی صدائیں گونجتی ہیں اور تقریباً چھ صدیوں سے یہ فضائیں کبھی اذانوں سے محروم نہیں ہوئیں۔ ہماری عبادت گاہیں عظیم اور عالیشان انداز سے بنائی جاتی ہیں کیونکہ اس طرح وہ اپنے شہروں کو مقاصد دیتی ہیں۔ جہاں بھی ایک گنبد اور ایک مینار ہے، جہاں بھی آسمانوں میں اذانیں گونج رہی ہیں، وہ جگہ بلاشبہ ایک مسلم دنیا ہے۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "دہشت گردی کے معاملے پر دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے، اس وقت دہشت گرد تنظیموں کے خلاف زیادہ اصولی، زیادہ مربوط اور زیادہ واضح مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے۔ ایسے ظالمانہ اور وحشیانہ نظریات سے سب کو انکار کرنا چاہیے کہ جو عبادت خانوں کو مذبح خانوں میں بدل دیں۔ جو مساجد پر حملے کریں اور گرجاؤں کو ہدف کا نشانہ بنائیں، وہ سب ایک ہی تاریک ذہنیت کے علمبردار ہیں۔ یہ انسانیت کے یکساں دشمن ہیں۔ ہمارے عقائد کے مطابق عبادت کا حق بہت مقدس حق ہے۔ ہر کسی کو اپنے عقائد سے قطع نظر اپنے مذہب کی آزادانہ پیروی کا حق ہونا چاہیے۔ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے عقائد اور مذہبی عمل میں کبھی مداخلت نہیں کی گئی کیونکہ قاہرہ، القدس، استنبول، دمشق اور بغداد جیسے قدیم شہروں میں ایسا کبھی نہیں کیا گیا کہ جو صدیوں سے مسلم اقتدار کا حصہ ہیں۔”

"ہم اپنے ملک اور خطے کو ان منحرف عناصر سے پاک کرنے کا عزم رکھتے ہیں کہ جو داعش، القاعدہ، FETO اور PKKجیسی تنظیموں میں جمع ہوگئے ہیں۔ ہم نیو-نازی دہشت گردی خلاف جدوجہد بھی جاری رکھیں گے کہ جو یورپ میں مسلمانوں اور ان کی مساجد پر حملے کرتی ہے۔” صدر ایردوان نے کہا۔ "گو کہ چند مغربی طاقتیں دہرے معیارات اپنائے ہوئے ہیں، لیکن ہم اس مسئلے پر پرعزم ہیں اور ثابت قدم بھی۔ ہم اپنے مستقبل کو انسانیت کے ان دشمنوں کے ہاتھوں کبھی یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ اس ضمن میں سب پر، بالخصوص مسلمانوں پر، کڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ اس نازک دور میں ہمیں اسلام کے پیغامِ امن کو زیادہ طاقت کے ساتھ اور بلند آہنگ میں پیش کرنا چاہیے۔”

تبصرے
Loading...