مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کو نظر انداز کرنے کی کوشش کرنے والے آج مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں، صدر ایردوان

0 142

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرنے والوں کو آج اندازہ ہو رہا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کا واحد راستہ سفارتی سطح پر مذاکرات ہیں۔

کابینہ کے ایک اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ "جو ترکی کو نظر انداز کر رہے تھے، اپنے دعوے اور نقشے مشرقی بحیرۂ روم پر تھوپ رہے تھے، اب مذاکرات کی میز پر آ رہے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ "جنہوں نے تاریخی حقائق، بین الاقوامی معاہدوں، روایات اور سامنے نظر آنے والی حقیقت سے منہ موڑا، وہ بھی محض قبرص اور مشرقی بحیرۂ روم میں چند ممالک کے مفادات کی خاطر، اب ان کے پاس دنیا کے سامنے کہنے کو کچھ نہیں۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "جو محض ترکی کی دشمنی میں اس خطے اور دنیا میں توازن کو بگاڑنا چاہتے ہیں، وہ اپنی قبر خود کھود رہے ہیں۔”

یونان نے مشرقی بحیرۂ روم میں ترکی کی تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کو متنازع بنایا تھا اور ترکی کے ساحل کے قریب واقع جزائر کو بنیاد بناتے ہوئے ترکی کی بحری حدود کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مشرقی بحیرۂ روم کے ساتھ طویل ترین سرحد رکھنے والے ترکی نے اپنے براعظمی کنارے (continental shelf) میں توانائی کے ذخائر کی تلاش کے لیے اپنے ڈرل شپس بھیجے، اور کہا کہ اس علاقے پر ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص دونوں کا حق ہے۔

کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ترکی علاقے میں موجود وسائل کی مناسب تقسیم کو یقینی بناتے ہوئے مذاکرات کا مطالبہ کیا۔ کئی ماہ تک ترکی کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کے بعد ایتھنز نے حال ہی میں انقرہ کے فوجی وفود کے ساتھ تکنیکی ملاقاتیں کی ہیں تاکہ کشیدگی کے خطرے کو کم کیا جائے، جس کا آغاز نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی تجویز کے بعد ہوا۔

تبصرے
Loading...